منگل , 6 دسمبر 2022

بلاول بھٹو کے بطور وزیر خارجہ چھ ماہ: کامیابیاں زیادہ یا ناکامیاں؟

(خرم شہزاد)

پاکستان کے نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ان ملاقاتوں کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے مابین سفارتی، سیاسی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی عرب روانگی سے قبل بلاول بھٹو زرداری مصر کے شہر شرم الشیخ میں تھے جہاں پر انہوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام ماحولیاتی کانفرنس کی سائیڈلائنز پر یورپی یونین اور دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے عالمی رہنماؤں سے باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔

بلاول بھٹو زرداری اس سے قبل چین، امریکہ، متحدہ عرب امارات، ایران اور جرمنی کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ ان دوروں کے دوران انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے اور عالمی طاقتوں کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

سابقہ حکومت کی معزولی کے بعد جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اتحادی حکومت بنائی تو اس کے قیام سے پہلے ہی یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ بلاول بھٹو زرداری اس حکومت کے وزیر خارجہ کے لیے ایک ’نیچرل چوائس‘ ہوں گے۔

اس کی ایک وجہ تو ان کا ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بینظیر بھٹو کا بیٹا ہونا ہے کیونکہ وہ دونوں سفارت کاری کے میدان میں ماہر تھے، اور دوسری وجہ بلاول کا بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم یافتہ ہونا ہے۔

لیکن اس کی ایک تیسری وجہ بھی تھی، وہ یہ کہ بلاول بھٹو زرداری کے والد آصف علی زرداری چاہتے تھے کہ وہ پی ڈی ایم کی حکومت کے وزیرخارجہ بن کر نہ صرف بین الاقوامی رہنماؤں سے تعلقات بنائیں بلکہ عالمی سیاست اور طرز حکومت کا تجربہ بھی حاصل کریں۔ یہ تجربہ آگے جا کر انہیں ملک کا وزیراعظم بنانے اور اس عہدے پر بہتر کام کرنے میں مدد دے گا۔لہٰذا بلاول بھٹو زرداری نے جب رواں برس 27 اپریل کو اپنی وزارت کا حلف اٹھایا تو وہ 34 سال کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین وزیر خارجہ بن گئے۔

لیکن کیا گذشتہ چھ ماہ میں وہ اپنی وزارت سے منسلک قومی اور ذاتی اہداف حاصل کر سکے؟یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ صرف بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی مستقبل کے لیے بلکہ پاکستان کی نئی آنے والی حکومت کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے بقول وہ خارجہ حکمت عملی اور تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری
متین حیدر ایک طویل عرصے سے پاکستان کے خارجہ امور کی رپورٹنگ کر رہے ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں کے دوران انہوں نے ہر وزیر خارجہ کو قریب سے دیکھا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی سفارت کاری میں ایک نئی روح تو ضرور پھونکی ہے اور چھ ماہ کے قلیل عرصے میں متعدد اہم ممالک کے دورے اور کئی خاص اجلاسوں میں شرکت کے ذریعے بین الااقوامی معاملات پر پاکستان کا موقف اجاگر کیا ہے لیکن کئی عوامل ایسے بھی ہیں جن میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

’امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے، چین کے ساتھ سی پیک پر بریک تھرو ہوا، جموں کشمیر پر بڑے موثر انداز میں عالمی لیڈروں کے ساتھ بات کی، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے تشویش کا اظہار، اور پھر جس طریقے سے انہوں نے سیلاب کے معاملے پر بین الااقوامی رہنماوں کو متحرک کیا۔ لیکن وہ اس امید پر پورا نہیں اتر سکے کہ وہ پاکستان انڈیا تعلقات اور بات چیت بحال کروا سکیں گے۔‘

افغانستان کا بڑھتا معاندانہ رویہ
متین حیدر سمجھتے ہیں کہ بلاول بھٹو افغانستان کے معاندانہ رویے کو دوستی میں بدلنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
’افغانستان جس کے اوپر پاکستان نے بہت سرمایہ کاری کی لیکن ادھر سے جو معاندانہ بیانات آ رہے ہیں، طالبان کا جو عدم دوستی پر مبنی رویہ نظر آ رہا ہے اس پر خاص توجہ دینے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔‘سینیئر صحافی اور تجزیہ کار کامران یوسف کا ماننا بھی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کے مسئلے پر بھرپور توجہ نہیں دی۔

’بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کا دورہ نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی افغان پالیسی وہ نہیں ہے جو ریاست کی مجموعی طور پر ہے۔ ان کے خیالات مغرب سے زیادہ ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے مسائل حل ہوں اور وہاں کی حکومت اپنے وجود کا بہتر جواز پیش کرے۔‘

سیکریٹری خارجہ کی عدم تعیناتی
کامران یوسف کے خیال میں کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایک باقاعدہ سیکریٹری خارجہ تعینات نہ کر سکنا بھی ’بلاول بھٹو زرداری کی ناکامیوں اور خامیوں‘ میں شمار ہوتا ہے۔تجزیہ کار مشرف زیدی ان سے اس معاملے پر متفق ہیں اور سیکریٹری خارجہ کی تعیناتی میں تاخیر کو بلاول کی کمزوری سمجھتے ہیں۔

تاہم مشرف زیدی کے مطابق پاکستان کے معروضی حالات میں کسی بھی وزیر خارجہ کے لیے اپنی آزاد پالیسی بنانا اور اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔’اگرچہ کسی بھی وزیر خارجہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اس کے کام کرنے کا ماحول ہموار ہونا ضروری ہے، جہاں پر وہ اور اس کی سیاسی جماعت فیصلہ ساز ہوں، لیکن بلاول نے تمام مشکلات اور محدود اختیارات کے باوجود بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’امریکہ سے بہتر تعلقات اور بات چیت کرنے کا انداز بہت بہتر ہے، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ان کی اور ان کے ساتھ دوسرے حکومتی اتحادیوں اور اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے۔‘’بیانیے میں استقلال اور تسلسل آیا ہے اس کے باوجود کہ مشرق وسطٰی اور چین کی طرف سے اب بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں لیکن اب فرق یہ ہے کہ ماضی میں رزاق داود اور شاہ محمود قریشی کی طرح ان سوالات کے جوابات دے کر تعلقات کو مزید خراب نہیں کیا جاتا۔‘

کامران یوسف کا خیال ہے کہ بلاول نے ایک نوخیز وزیر کی حیثیت سے بہتر کام کیا ہے۔’پہلی وزارت کے طور پر ان کا تجربہ ٹھیک رہا ہے، یوکرین اور امریکی سائفر جیسے مسائل پر انہوں نے ایک سٹیٹسمین طرز کی پوزیشن لی ہے۔ جب کہ وہ مقامی معاملات میں بھی اپنے پیشرو شاہ محمود قریشی کی طرح زیادہ ملوث نہیں رہے اور خود کو ایک وزیر خارجہ کے کردار تک محدود رکھا ہے۔‘

جرمنی کا کامیاب دورہ
کامران یوسف وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جرمنی کو بھی ان کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں کیونکہ اس موقع پر جرمنی نے کشمیر کے حق میں بیان جاری کیا تھا جس پر انڈیا نے احتجاج بھی کیا۔

انڈیا کی طرف سے سرخ جھنڈی
تاہم وہ انڈیا کے ساتھ مزاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کو بھی بلاول بھٹو زرداری کی ناکامی سمجھتے ہیں۔’بلاول کسی بین الااقوامی ادارے یا کسی دوسرے ملک کے بغیر وزیر خارجہ کی سطح پر انڈیا سے براہ راست ’چینل آف کمیونیکیشن‘ قائم کرنا چاہتے تھے جس میں انہیں ناکامی ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ انڈیا سے مثبت رویے کا مظاہرہ نہ کرنا ہے۔‘

مشرف زیدی کے مطابق ’بلاول معاشی اور خارجہ پالیسی کو ہم آہنگ بنانے، اپوزیشن کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے اور کئی امور پر فیصلہ سازی میں بھی ناکام ہوئے ہیں۔‘متین حیدر کہتے ہیں کہ بلاول سیاسی اعتبار سے اور کرپشن کے خلاف جنگ کے حوالے سے بھی دنیا کو پاکستان کے کردار کے متعلق باور نہیں کروا سکے۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے ذاتی کیریئر بلڈنگ
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر صحافی و تجزیہ کار متین حیدر نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری بین الااقوامی فورمز پر بطور ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر ذاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی سرگرم رہے ہیں۔’چونکہ وہ خود ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں تو جب وہ وزیراعظم کے ساتھ جاتے ہیں تو ان کی اپنی بھی کچھ مصروفیات ہوتی ہیں۔ ابھی کوپ کانفرنس میں دفتر خارجہ نے ان کا الگ بیان جاری کیا اور وزیراعظم کا الگ۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں پاکستان کا دفتر خارجہ بھی ایک علیحدہ رہنما کے طور پر پروجیکٹ کر رہا ہے۔‘

کامران یوسف بھی متفق ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کی عالمی سرگرمیاں اور دورے ان کی ذاتی پہچان اور ایکسپوژر میں معاون ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے دنیا میں خود کو ایک نئے پاکستانی رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔بشکریہ نیوز اردو

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

گجرات کے چوہدری کس طرف ہیں؟

بہترین وقت میں بھی یہ بتانا مشکل ہے کہ ق لیگ کیا کر رہی ہے۔ …