جمعہ , 9 دسمبر 2022

دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے بلاک اور آئیڈیاز 2022ء

(رپورٹ: ایم آر سید)

کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022ء کا آغاز ہوگیا ہے۔ ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن (ڈیپو) کے مطابق 18 نومبر تک جاری رہنے والی 4 روزہ نمائش میں دنیا کے 64 ممالک اپنی مصنوعات کے ساتھ شریک ہوں گے، رواں سال کے آئیڈیاز میں پاکستان سمیت 51 ممالک کے 285 وفود بھی شریک ہو رہے ہیں۔ سال 2000ء میں پہلی بار انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ سیمینار (آئیڈیاز) کا آغاز کیا گیا تھا اور تب سے اب تک اس کا انعقاد مستقل بنیادوں پر ہورہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی دفاعی نمائش کی میزبانی کے لئے کراچی کا انتخاب ہوا، 11ویں آئیڈیاز 15 سے 18 نومبر تک منعقد کی جارہی ہے جو خطے میں دفاعی ساز و سامان کی نمائش کا سب سے بڑا فورم بن گیا ہے۔

آئیڈیاز میں اسلحے کی صنعت سے متعلق مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں اور ڈیلرز کو اپنی مصنوعات اور خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے، یہی نہیں بلکہ یہاں دفاعی پیداوار سے متعلق مشترکہ منصوبے، آوٹ سورسنگ اور تعاون پر تبادلہ خیال کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز 2022ء ایسے وقت میں منعقد ہورہی ہے جب دنیا میں سیاسی، تجارتی اور دفاعی سطح پر نئے بلاک ابھر رہے ہیں۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشمکش، مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ حالات، ایران پر جارحیت کی ددھمکیاں، جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی اور پھر اس سال یوکرین پر روسی حملے نے ایشیائی خطے کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی سلامتی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اس وقت دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

آئیڈیاز کا سال 2000ء میں پہلی مرتبہ انعقاد کیا گیا اور تب سے اب تک ہر نمائش میں ملکی اور غیر ملکی دفاعی صنعت کی کمپنیوں کی شرکت بڑھ رہی ہے، پہلی آئیڈیاز میں شامل کمپنیوں کی تعداد 100 سے کچھ زائد تھی جو 2018ء میں بڑھ کر 500 سے زائد ہوگئی تھی، اس نمائش میں افریقہ، امریکا، ایشیائی ممالک، وسطی ایشیائی ممالک، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ آئیڈیاز میں پاکستان مقامی طور پر تیار ہونے والے ہمہ جہت جنگی ہتھیاروں کی نمائش کرتا ہے، ان میں فضائی جنگ کے لئے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر کے علاوہ لڑاکا پائلٹس کی تربیت کے لئے مشاق، سپر مشاق اور کے 8 طیارے بھی نمائش کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔

آئیڈیاز میں شریک مندوبین پاکستان نیوی کے مقامی سطح پر تیار ہونے والے آلات کا جائزہ پاک نیوی ڈاک یارڈ اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینیئرنگ ورکس پر لیتے ہیں جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے بحری جہازوں کی تیاری کے علاوہ آبدوزیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جدید او پی وی، میزائل بوٹس، بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے بحری جہاز، فریگیٹ، ہمہ جہت استعمال ہونے والے جنگی بحری جہاز اور دیگر اسلحے کی تیاری اور مرمت و دیکھ بھال بھی کی جاتی ہے۔ یہاں مغربی ممالک کم اخراجات میں مرمت اور اپ گریڈیشن کی سہولت سے بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔

دنیا میں اسلحے کی صنعت و تجارت اور دفاعی اخراجات پر نظر رکھنے والے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق سال 2021ء کے اختتام تک دنیا میں سالانہ دفاعی اخراجات تاریخ میں پہلی مرتبہ 2 ہزار ارب ڈالر سے زائد ہوگئے اور دسمبر 2021ء تک دنیا نے دفاع کی مد میں 2 ہزار 113 ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنے والے ممالک میں امریکا، چین، بھارت، برطانیہ اور روس نمایاں ہیں۔ ایس آئی پی آر آئی کے مطابق گزشتہ سال سے دنیا میں ایک مرتبہ پھر دفاعی شعبے میں اخراجات بڑھ رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ اقوامِ عالم میں ایک مرتبہ پھر بڑھتا ہوا باہمی عدم اعتماد ہے، صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ دفاعی اخراجات سالانہ عالمی جی ڈی پی کے 6.1 فیصد کی شرح سے بڑھ رہے ہیں اور دنیا کی مجموعی پیداوار کا 2.2 فیصد دفاع پر خرچ ہورہا ہے۔

دفاعی اخراجات میں اضافے کے اس تجزیے کا جائزہ لینا اس لئے اہم ہے کہ دنیا میں اگر تیزی سے دفاعی اخراجات بڑھ رہے ہیں اور ہر ملک اپنے اپنے دفاع کے حوالے سے فکر مند ہے تو ایسے میں دفاعی نمائش آئیڈیاز خطے کے ممالک کو ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ کس طرح مغربی ملکوں پر انحصار کئے بغیر انتہائی کم قیمت پر معیاری دفاعی مصنوعات حاصل کرسکتے ہیں، یہ نمائش دفاعی سفارتکاری میں اہم ترین تصور کی جاتی ہے۔ پاکستان دنیا کو دفاعی شعبے میں کم قیمت اور قابل بھروسہ دفاعی ہتھیار ہی نہیں بلکہ مکمل دفاعی نظام فراہم کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ اب ملکوں کو سرحدی دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی خلفشار پر قابو پانے جیسے مسائل کا سامنا ہے جس میں پاکستان دنیا کو اپنے تجربات سے روشناس کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …