پیر , 5 دسمبر 2022

افغان حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے

پاک افغان بارڈر باب دوستی کے مقام پر افغانستان سے پاکستان داخل ہونے والے شخص کی پاکستانی اہلکاروں پر مبینہ فائرنگ سے ایک اہلکار شہید جب کہ دو زخمی ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد دونوں جانب سے فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ، چمن پاک افغان بارڈر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ، پاکستان کی جانب سے فائرنگ پرشدید احتجاج کیا گیا ہے۔

بارڈر پر رونما والا یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے ، دراصل افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہیں اور افغان طالبان کی طرف سے ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانی کے باوجود ان کا نہ رکنا اضطراب کا موجب ہے۔
حکومت سنبھالتے کے وقت سے طالبان ہمسایہ ممالک کو ایسی یقین دہانیاں کروا رہے ہیں مگر بدقسمتی سے اس دوران سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

افغانوں کی جتنی خدمت اور حفاظت پاکستان نے کی ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ان کی سرزمین پر سوویت یونین کے قبضے کے خلاف جدوجہد کو اپنی جنگ سمجھ کر ، پاکستان نے جانی اور مالی نقصان اٹھایا۔ لاکھوں مہاجرین کی کشادہ دلی سے میزبانی کی۔

یہ اسی میزبانی کا اثر ہے کہ یہاں سے کوئی افغان پناہ گزین واپس جانے کو تیار نہیں ، جب کہ روزانہ ہزاروں مزید آنے کو سامان باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ افغان حکومت حالات کو خراب کرنے اور جنگجو گروہوں کو مہمیز دینے کی کوشش میں ہے۔

اس طرح کی حرکتوں سے پاکستان میں حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افغان حکومت کی تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود افغانستان کی خوراک کی 60 فیصد ضروریات پاکستان ہی پوری کرتا ہے۔

پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوں اور وہاں ترقی اور خوشحالی آئے کیونکہ اب تک کے حالات اس امر کے غماز ہیں کہ افغانستان کے حالات کے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور بہتری نہ آنا افغان انتظامیہ کی اپنے وعدوں اور دعوؤں میں ناکامی کا ثبوت ہے، پاکستان کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ ہمسایہ ملک میں امن و استحکام آئے اور اس سلسلے میں طالبان کی حکومت کو بہتر تصورکیا گیا اور توقع یہ تھی کہ کابل میں استحکام آنے سے خطے کی مجموعی صورتحال پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور یہ حالات افغانستان کو عدم استحکام اور لاقانونیت کی دلدل سے نکالنے کا بہترین موقع فراہم کریں گے اور ترقی کرنے کے قابل بنائیں گے۔

تاہم قریب ایک برس کی طالبان حکومت میں یہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آرہیں، یہ درست ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت کو مغربی دنیا کی طرف سے متعدد مسائل کا سامنا ہے جس سے اس نئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ خاص طور پر افغانستان کے مالی وسائل روک کر یا دیگر پابندیاں اور رکاوٹیں پیدا کرکے افغانستان کی نئی حکومت کے لیے مستحکم ہونے میں مشکلات پیدا کی گئیں، مگر افغان حکومت کی اپنی کارکردگی بھی تنقید کی زد میں ہے۔

سرحد پار حملوں اور در اندازی کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے اور ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پورے نہیں کیے جاسکے۔ پاکستان کے امدادی ٹرکوں کو روکا گیا ہے۔

تاہم بین الاقوامی امور کے ماہرین وزیر خارجہ کے اس نقطہ نظر سے متفق نظر آتے ہیں کہ اس مسئلہ کو سفارتی سطح پر حل کیا جائے۔ افغان رہنماؤں کی طرف سے ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی سر زمین استعمال نہ کیے جانے کی یقین دہانی بجا مگر عملًا اس دعوے کی پاسداری نہیں ہو رہی اور یہی پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔

افغانستان میں حکومت بدلنے کے باوجود پاکستان دشمن عناصر سے افغان سر زمین کو پاک نہیں کیا جا سکا۔امید ہے افغان حکومت معاملات بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ غربِ اردن میں نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج نے اسرائیل کے طاقت کے استعمال کو ظاہر کر دیا

(ٹام بیٹمین) اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں جھڑپوں کے دوران فلسطینی نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج …