بدھ , 7 دسمبر 2022

طالبان کی امریکہ کے در پر دستک

(تحریر: ہادی محمدی)

افغانستان میں حکمفرما گروہ طالبان نے جب دارالحکومت کابل پر اپنا تسلط برقرار کر لیا تو وہ بڑے فخر سے اپنے عظیم کارنامے کے طور پر یہ بیان کرتا تھا کہ اس نے بیس برس مسلسل جدوجہد کے بعد افغانستان میں ایک فوجی سپر پاور اور اس کے مغربی اتحادیوں کو شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ طالبان ہمیشہ سے اسے اپنے ایک اعزاز کے طور پر بیان کرتا آیا ہے کہ اس نے امریکہ بہادر کو شکست دے کر ملک سے نکال باہر کیا ہے۔ البتہ طالبان کے اس دعوے میں بعض سنجیدہ قسم کے "اگر” اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جنہیں اہمیت دیے جانے کے بعد طالبان کا یہ دعوی اس قدر قابل اعتماد نہیں رہتا۔ انہی میں سے ایک "اگر” یہ ہے کہ "اگر سابق سوویت یونین کے خلاف مغربی منصوبہ ساز قوتوں سے چشم پوشی اختیار کر لی جائے۔”

اسی طرح ایک اور "اگر” یہ ہے کہ "اگر اس حقیقت سے بھی آنکھیں موند لی جائیں کہ کس طرح برطانیہ، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور سعودی عرب کی انٹیلی جنس ایجنسیز نے سابق سوویت یونین کی فوج کو افغانستان میں شکست دینے کیلئے جہاد کا ڈھونگ رچایا اور ہمسایہ ممالک میں ایک خاص مسلک سے وابستہ دینی مدارس کی سرپرستی کرنے والے وہابی مولویوں کو ڈالرز کی بارش برسا کر ساتھ ملایا۔” اسی طرح ہمیں طالبان کے اس دعوے کو قبول کرنے کیلئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ افغانستان کی ایک قوم ہونے کے ناطے اس ملک سے متعلق ایسی زمینی حقیقت کا حصہ ہیں جس سے چشم پوشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ یہ گروہ مغربی منصوبوں اور سعودی عرب کے پیٹرو ڈالرز کے ذریعے تشکیل پایا ہے۔

لیکن اس کے باوجود پختون قوم کا حصہ ہونے کے ناطے اس نے ان دو اہم اسباب کی مدد سے افغانستان پر تسلط برقرار کیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے اور اسی وجہ سے امریکہ نے انہیں اقتدار سے ہٹانے کیلئے مختلف بہانوں سے فوجی طاقت کا استعمال کیا اور ان پر چڑھائی کر ڈالی۔ امریکہ اصل میں اس خطے میں کچھ ایسے اہم اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کے درپے تھا جن کیلئے وہ براہ راست خطے میں فوجی موجودگی کو ضروری سمجھتا تھا۔ اگر یوں نہ ہوتا اور امریکہ اس مرحلے میں وہ خاص طریقہ کار اختیار نہ کرتا تو ایک خاص ہمسایہ ملک کو طالبان اور پشتو زبان افغان شہریوں پر خصوصی توجہ دینے میں بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اس ملک نے حتی اچھی خاصی تعداد میں طالبان رہنماوں کو قید بھی کیا تاکہ یوں امریکہ سے مراعات وصول کر سکے۔

لہذا اس بیس سالہ عرصے میں بھی طالبان دوسروں کی بھرپور مدد اور حمایت کی بدولت اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کے قابل رہا ہے اور اگر یہ مدد اور حمایت نہ ہوتی تو وہ حتی قومی اور مذہبی محرکات کے ذریعے بھی امریکہ کے مقابلے میں باقی نہیں رہ پاتا۔ اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر طالبان امریکہ کو دشمن اور کافر ظاہر کرتا ہے اور اس کی جانب سے ایجاد کردہ فتنوں سے بھی پریشان ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ مختلف ذریعوں سے اس سے خفیہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش میں ہے۔ اور طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ خفیہ طور پر امریکہ کے جاسوسی ادارے سی آئی اے کے نائب سربراہ سے ڈیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں طالبان افغانستان پر اپنی ایک قومی حکومت کو برقرار رکھنے کیلئے امریکہ کا دامن تھامنے کی کوشش کر رہا ہے؟

باخبر ذرائع کے بقول یہ خفیہ مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں اور طالبان اور امریکہ کے درمیان کئی امور پر لے دے بھی ہو چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان نے یہ راستہ اختیار کر کے بہت بڑی اسٹریٹجک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور اس کی پناہ حاصل کرنا بہت بڑی اسٹریٹجک غلطی ہے۔ جو بھی امریکہ جیسے شیطان بزرگ کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا گویا اس نے خود کو قربانی کا بکرا بننے کیلئے پیش کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکہ کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تو اس کی تاریخ دوسروں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی امریکی خصلت سے بھری پڑی ہے۔

امریکہ طالبان کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے کٹھ پتلی اور آلہ کار بنانے کے درپے ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کی حیثیت بھی وہی ہو جو خطے میں اس کے عرب اتحادیوں کی ہے یعنی جس طرح انہیں دودھ دینے والی گائے تصور کرتا ہے طالبان کو بھی یہی دیکھنا چاہتا ہے۔ مزید برآں، امریکہ ہر گز طالبان سے اپنی دشمنی کو فراموش نہیں کرے گا اور اگر اس کے بس میں ہوا تو آخرکار طالبان اور اس کے رہنماوں کو نیست و نابود کر کے چھوڑے گا۔ یہ تلخ تجربہ صرف طالبان سے مخصوص نہیں بلکہ امریکہ کی کینہ توزی اسے اپنے دشمنوں کو قانونی جواز فراہم کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ البتہ صرف اس صورت میں جب وہ اس کے وفادار کتے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں لیکن یہ بھی اس وقت تک چلتا ہے جب تک ان کی تاریخ تنسیخ نہیں آ جاتی جس کے آ جانے کی صورت میں ان کی بھی قربانی کر دی جاتی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین میں روز بروز شدید ہوتی مسلح اسلامی مزاحمت

(تحریر: حسین فاطمی) گذشتہ ہفتے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب واقع قصبے حوارہ …