بدھ , 7 دسمبر 2022

ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارت کی دوڑ میں دوبارہ حصہ لینے کا اعلان: وہ وجوہات جو سابق صدر کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتی ہیں

(انتھونی زرچر)

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلسل تیسری بار صدارتی مقابلے میں اُترنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ کسی سابق امریکی رہنما کی جانب سے صدارتی الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں دوبارہ داخل ہونے کی انتہائی غیر معمولی کوششوں میں سے ایک ہے۔

صدر ٹرمپ نے صدارتی مقابلے میں شرکت کا اعلان ایک تقریر میں کیا جو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت جاری رہی اور اس تقریر کا بیشتر حصہ انھوں نے اپنے دور اقتدار کی تعریفوں اور صدر جو بائیڈن کے بطور صدر کارکردگی پر تنقید کی صورت میں کیا۔

اطلاعات کے مطابق سابق صدر کے معاونین یہ کہہ رہے ہیں مسٹر ٹرمپ کی یہ امیدواری اور یہ مہم سنہ 2020 کی صدارتی مہم کی بجائے سنہ 2016 کی مہم کی طرح زیادہ نظر آئے گی۔

سنہ 2016 میں بظاہر شدید مشکلات کے باوجود مسٹر ٹرمپ نے پہلے اپنے ریپبلکن حریفوں کو شکست دی اور پھر ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دی جو اپنی پارٹی کے لیے وائٹ ہاؤس کی مسلسل تیسری مدت جیتنے کے لیے کوشاں تھیں۔

یہ ایک ناممکن قسم کی کامیابی تھی لیکن اس نے بطور امیدوار مسٹر ٹرمپ کی ناقابل تردید طاقت کو ظاہر کیا۔

انھیں اس بات کا بے مثال احساس ہے کہ نچلی سطح کے قدامت پسندوں کے لیے کون سے مسائل اہم ہیں۔ ان کا غیر متوقع اور اشتعال انگیز انداز خبروں میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے حریفوں کو شہ سرخیاں حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔

ان کے پاس وفادار حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو عام طور پر کسی بھی جماعت سے غیر وابستہ اور سیاست میں عدم دلچسپی رکھنے والے امریکی شہریوں کو ٹرمپ کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ اور چار سال اقتدار میں رہنے کے بعد اب اُن کے بہت سے حامی ریپبلکن پارٹی کے اندر بااختیار عہدوں پر فائز ہیں۔

اس کے باوجود ایسا خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کام ان کے لیے بہت مشکل اور چلینجنگ ہو گا۔ ذیل میں اس کی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

1۔ ماضی کے ریکارڈ کے ساتھ میدان میں اُترنا
آٹھ سال قبل مسٹر ٹرمپ سیاسی طور پر ایک خالی سلیٹ تھے۔ کسی سرکاری عہدے پر نہ ہونے کی وجہ سے ووٹر ان سے اپنی امیدیں اور خواہشات وابستہ کر سکتے تھے۔ وہ جیت کے لیے کسی قسم کے بڑے بڑے وعدے کر سکتے تھے اور ناقدین کے پاس ان کی کمیوں یا ناکامیوں کو دکھانے کا کوئی موقع بھی نہیں تھا۔

اب بات ایسی نہیں رہی۔ اگرچہ مسٹر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے چار برسوں کے دوران کچھ قابل ذکر پالیسی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ٹیکسوں میں کٹوتی اور فوجداری انصاف میں اصلاحات شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی جھولی میں کچھ بڑی ناکامیاں بھی آئیں۔

ڈیموکریٹک ہیلتھ کیئر ریفارمز کو منسوخ کرنے میں ان کی نااہلی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے بار بار کیے جانے والے وعدوں کو رپبلکن یاد رکھیں گے کیونکہ یہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔ اور پھر کورونا وائرس وبائی مرض کو جس طرح ٹرمپ نے سنبھالنے کی کوشش کی اس کے متعلق ان کے خلاف متعدد محاذ کھل سکتے ہیں۔

ڈیموکریٹس طویل عرصے سے وبائی مرض کے خلاف ان کے ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کرتے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب کچھ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے کٹوتی کی کوششوں کی حمایت میں بہت آگے نکل گئے تھے۔

2۔ چھ جنوری کا سایہ
مسٹر ٹرمپ کو بطور صدر صرف اپنے پالیسی ریکارڈ کا ہی سامنا نہیں ہو گا بلکہ انھوں نے جس طرح اپنی صدارت کا خاتمہ کیا اور 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے میں انھیں اپنے کردار کا بھی دفاع کرنا ہو گا۔

اس دن کی تصاویر کو، جب آنسو گیس کے درمیان ٹرمپ کے بینرز لہراتے ہوئے ان کے حامیوں نے توڑ پھوڑ کی اور اقتدار کی پرامن منتقلی کو عارضی طور پر روک دیا، اسے آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

وسط مدتی انتخابات نے یہ ظاہر کیا کہ اس دن جو ہوا اور اس سے پہلے کے ہفتوں میں مسٹر ٹرمپ کے الفاظ اور اقدامات جو رہے وہ اب بھی ووٹر کے رویے کو متاثر کر رہے ہیں۔

بہت سے ریپبلکن امیدوار جنھوں نے سنہ 2020 کے انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے سے مسٹر ٹرمپ کے انکار کی بھرپور حمایت کی تھی وہ وسط مدتی انتخابات ہار گئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی ریاستوں میں ان دوسرے ریپبلکن امیدواروں سے کم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جنھوں نے ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتائج کو قبول نہ کرنے کے بارے میں واضح موقف اختیار نہیں کیا تھا۔

3۔ قانونی سر درد
مسٹر ٹرمپ کی جانب سے ایک اور بار صدارتی انتخابات میں اترنے کی بیتابی کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ اسے وہ ایک بڑے سیاسی انتقام کے حصے کے طور پر اپنی متعدد مجرمانہ اور دیوانی تحقیقات کو زیادہ مؤثر طریقے سے درست کر سکیں گے۔

اگرچہ یہ عوامی تعلقات کے مقاصد کے لیے کام کر سکتا ہے لیکن ان معاملات میں مسٹر ٹرمپ کی قانونی مشکلات بہت حقیقی ہیں۔

سابق صدر کو فی الحال جارجیا میں انتخابی چھیڑ چھاڑ کی مجرمانہ انکوائری، نیویارک میں ان کی کاروباری سلطنت کے خلاف جاری سول فراڈ کیس، جنسی زیادتی کے الزام میں ہتک عزت کا مقدمہ، اور کیپیٹل ہل حملے میں ان کے کردار اور ان کے عہدے کے خاتمے کے بعد کلاسیفائیڈ دستاویزات کی ہینڈلنگ کے معاملے میں وفاقی تحقیقات کا سامنا ہے اور وہ اس کے خلاف دفاع کر رہے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی تحقیقات مکمل طور پر مقدموں اور سماعتوں کا باعث بن سکتی ہیں جو شہ سرخیوں میں ہوں گی جس سے کم از کم عارضی طور پر ہی سہی مسٹر ٹرمپ کی مہم کے منصوبوں کو زک پہنچے گا۔

ان کے لیے اگر بہت اچھا ہوا تو بھی یہ ایک مہنگا خلفشار ہو گا۔ لیکن بدترین صورتحال میں ان پر بڑے پیمانے پر مالی جرمانہ ہوگا یا جیل بھی ہو سکتی ہے۔

4۔ ایک سخت حریف
آٹھ سال قبل جب ریپبلکن صدارتی مقابلہ شروع ہوا تھا تو مسٹر ٹرمپ کا مقابلہ فلوریڈا کے ایک گورنر سے تھا جسے پارٹی کا پسندیدہ ترین امیدوار سمجھا جاتا تھا لیکن جیب بش کاغذی شیر ثابت ہوئے۔

بڑے پیمانے پر مہم کا جنگی صندوق اور ایک مشہور آخری نام کافی نہیں تھا۔ وہ امیگریشن اور تعلیمی پالیسی پر ریپبلکن کی پالیسی سے مختلف خیال رکھتے تھے۔ اور بش نام پارٹی کے اندر وہ طاقت نہیں رکھتی تھی جو کبھی اسے حاصل تھی۔

اگر مسٹر ٹرمپ 2024 میں رپبلکن کی جانب سے نامزدگی چاہتے ہیں تو انھیں ایک بار پھر فلوریڈا کے گورنر سے مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم مسٹر بش کے برعکس رون ڈی سینٹس نے ری الیکشن میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے بنیادی حامیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اگرچہ انھیں قومی سٹیج پر ابھی جانچا جانا باقی ہے لیکن ان کا سیاسی ستارہ عروج پر ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مسٹر ڈی سینٹس انتخاب لڑیں گے بھی کہ نہیں یا اس وقت ریپبلکن کی جانب سے صدارتی مقابلے میں اور کون داخل ہو گا۔

پارٹی کے ایسے وفادار لوگ جو مسٹر ٹرمپ کو ایک اور موقع دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ان کے درمیان فلوریڈا کے گورنر پارٹی کے متفقہ امیدوار کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو رپبلکن ووٹروں کے پاس یہ آپشن ہو گا کہ وہ انتخابات سے قبل ہی مسٹر ٹرمپ کو نامزدگی حاصل کرنے کے مرحلے میں ہی روک دیں۔

5۔ مقبولیت کے مسائل
مسٹر ٹرمپ کے صدارتی اعلان کے موقع پر ایک کنزرویٹو گروپ نے رائے عامہ کا ایک سلسلہ جاری کیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ آیووا اور نیو ہیمپشائر کے ریپبلکن ووٹروں کے درمیان رون ڈی سینٹس سے کافی پیچھے ہیں۔ان ریاستوں میں ریپبلکن نامزدگی کے لیے شروع میں ہی ووٹ ہوتے ہیں۔

مسٹر ڈی سینٹس کو فلوریڈا میں 26 پوائنٹس اور جارجیا میں 20 پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے جہاں دسمبر میں سینیٹ کا رن آف الیکشن ہونا ہے۔ ان تمام ریاستوں میں مسٹر ٹرمپ کے نمبر پچھلے سروے کے مقابلے میں بہت کم تھے۔

حال ہی میں ختم ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق مسٹر ٹرمپ بہت زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ ان اہم ریاستوں میں بھی انھیں عام انتخابات میں صدارت کی امیدواری حاصل کرنے کے لیے جیتنے کی ضرورت ہو گی۔

نیو ہیمپشائر میں صرف 30 فیصد ووٹروں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ دوبارہ صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑیں۔ یہاں تک کہ فلوریڈا میں یہ تعداد صرف 33 فیصد تک پہنچتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسٹر ٹرمپ نے سنہ 2015 میں اپنی امیدواری کے پورے منفی خیالات پر قابو پا لیا تھا۔ لیکن قومی سٹیج پر ایک سیاسی شخصیت کے طور پر آٹھ سال گزرنے کے بعد اس بار ان خیالات میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہو سکتا ہے۔

6- عمر کا تقاضہ
اگر مسٹر ٹرمپ صدارتی انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ حلف اٹھاتے وقت 78 سال کے ہوں گے۔ اور اس طرح وہ جو بائیڈن کے بعد سب سے معمر ترین صدر بننے والے دوسرے صدر ہوں گے کیونکہ بائیڈن جب وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تھے تو ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی۔وقت مختلف لوگوں پر مختلف طریقوں سے اپنا اثر ڈالتا ہے، لیکن عمر کا بڑھتا ہوا بوجھ ناگزیر ہے۔

اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مسٹر ٹرمپ ریپبلکن نامزدگی جیتنے کے لیے جس قسم کی سخت مہم چلانے کی ضرورت ہوتی ہے اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں ان سے عمر میں بہت کم امیدوار ان کے مخالف کھڑے ہوں گے۔مسٹر ٹرمپ نے ماضی میں قابل ذکر قوت برداشت کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے باوجود ہر آدمی کی اپنی ایک حد ہوتی ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین میں روز بروز شدید ہوتی مسلح اسلامی مزاحمت

(تحریر: حسین فاطمی) گذشتہ ہفتے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے قریب واقع قصبے حوارہ …