جمعرات , 1 دسمبر 2022

نیتن یاہو کی آبادکاری کی پالیسی ناکام ہوگی:حماس

مقبوضہ بیت المقدس:اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں صیہونی آبادکاری غیر قانونی ہے۔ نیتن یاہو کا انتہا پسند بن گویر سے یہودی بستیوں اور 65 کالونیوں کو "آئینی” قرار دینے اور مغربی کنارے میں بائی پاس سڑکیں قائم کرنے کا مجرمانہ عہد ایک کھلی پالیسی ہے جو کہ قبول نہیں کی جائے گی۔

جمعرات کو ایک پریس بیان میں حماس نے ہماری قوم اور ان کی زندہ قوتوں سے ان قابض دشمنوں کے رجحانات اور پالیسیوں کے مقابلے میں مزید یکجہتی اور اتحاد کا مطالبہ کیا۔

حماس نے عرب اور اسلامی قوم اور دنیا کے آزاد لوگوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر ہمارے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کی حمایت کریں۔ قابض ریاست کے بائیکاٹ کو فعال کریں اور اس کے رہ نماؤں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلائیں۔ انصاف کی فتح اور ہمارے فلسطینی عوام کی آزادی، واپسی اور خود ارادیت کے حقوق کی حمایت کی مہم چلائی جائے۔

اگلی قابض حکومت مغربی کنارے میں نئی آبادکاری کالونیوں کو مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ سینکڑوں فلسطینی دونم کی ضبطی کے ساتھ موافق ہے۔ مغربی کنارے اور مقبوضہ یروشلم میں بستیوں کی توسیع اور آبادکاری کی سڑکیں بنانا ہے۔

"لیکوڈ” اور "اتزما یہودیت” جماعتوں نے دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے اتحادی مذاکراتی اجلاس کے دوران، نئی دائیں بازو کی حکومت کی تشکیل کے 50 دنوں کے اندر مغربی کنارے میں 65 بے ترتیب یہودی کالونیوں کو آئینی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

نئے آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے: امریکا

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پاکستان کا …