ہفتہ , 10 دسمبر 2022

سر اٹھاتی دہشتگردی

(رپورٹ: سید شاہریز علی)

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف لگ بھگ دو دہائیوں تک سخت جنگ لڑی، اس دوران بے پناہ جانی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مختلف فوجی آپریشنز کے نتیجے اس دہشتگردی میں کمی تو ضرور آئی، تاہم اب بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں موجود ضرور ہے۔ کبھی قتل و غارت گری کے اس سلسلے میں کمی آجاتی ہے تو کبھی یہ سلسلہ ملک میں دہشتگردوں کی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں گذشتہ چند ماہ کے دوران جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، وہیں ایک مرتبہ پھر دہشتگرد اپنی مزموم کارروائیوں میں تیزی لے آئے ہیں۔ دہشتگرد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کیساتھ گذشتہ دور حکومت میں افغان حکومت کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس پر ملک کے سنجیدہ اور دانشور حلقوں نے کڑی تنقید بھی کی، بات چیت کے اس سلسلے کے کئی دور ہوئے، تاہم اب پی ڈی ایم کے دور حکومت میں مقتدر قوتیں ان مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف کرچکی ہیں۔

اس مذاکراتی عمل کے دوران ٹی ٹی پی کے جو مطالبات سامنے آئے، ان سے اس تاثر کو تقویت مل رہی تھی کہ بات چیت کا یہ عمل پاکستان میں پائیدار قیام امن کی طرف قدم نہیں بلکہ سفاک دہشتگردوں کو ’’این آر او‘‘ دیئے جانے کیساتھ ساتھ افغان سرزمین کو پرامن بنانے کی کوشش ہے۔ یہی وجہ تھی کہ افغانستان کی طالبان حکومت اس تمام تر معاملہ میں پیش پیش رہی۔ اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں ڈیڈلاک آچکا ہے اور فی الوقت ’’خاموشی‘‘ ہے۔ تاہم پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں آئے روز تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے سانحات تسلسل کیساتھ ہو رہے ہیں۔ گو کہ دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں، تاہم آئے روز سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز لکی مروت اور باجوڑ میں دہشتگردی کے دو مختلف واقعات میں دو فوجی جوان اور چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

لکی مروت کے علاقہ ڈاڈیوالہ کی حدود میں پولیس موبائل پر دہشتگردوں کے حملہ کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوئے، مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے چوکی عباسہ خٹک کی موبائل گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سوار اے ایس آئی علم دین اور 5 کانسٹیبلز پرویز، محمود، دل جان، عبید اللہ اور احمد نواز نے جام شہادت نوش کیا۔ علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 2 جوان شہید ہوئے، سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔ ایک ہی دن میں دہشتگردی کے ان دو افسوسناک واقعات نے ملک میں قیام امن کے دعووں پر سوال اٹھا دیا ہے۔ چند روز قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ماہ اکتوبر کی اپنی ایک کارکردگی رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا کہ اس تنظیم سے منسلک دہشتگردوں نے ایک ماہ کے دوران پاکستان میں 43 مختلف دہشتگرانہ حملے کئے۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کے 18 اضلاع میں 43 حملے کئے، زیادہ حملے شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت میں کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ملاکنڈ میں بھی طالبان کی واپسی کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ یاد رہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان میں اڑھائی ہزار پولیس اہلکاروں نے پولیس کی نوکری چھوڑ دی ہے، کیونکہ اس سال مستقل حملوں میں 375 سپاہی ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔ ایک ذرائع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کئی گرفتار دہشتگردوں کو رہا کیا گیا اور افغانستان میں چھپے کئی دہشتگرد واپس پاکستان بھی آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی ٹی ٹی پی کے دہشتگرد افغان بارڈر سے پاکستان میں آسانی سے داخل ہو رہے ہیں، جہاں سرحدی علاقوں میں انہیں پناہ دینے، ٹارگٹ کے لیے ریکی کرنے اور اسلحہ و بارود فراہم کرنے کے لئے لشکر جھنگوی اور دیگر کالعدم گروہ سہولتکاری فراہم کر رہے ہیں۔

ماضی میں ایسے ہی چھوٹے دہشتگرد گروہ جنہوں نے اپنے بعض معمولی اختلافات کی وجہ سے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار نہیں کی، تاہم اس دہشتگرد تنظیم کیساتھ ان کا غیر اعلانیہ الحاق اور تعاون جاری رہا ہے۔ اب بھی اسی قسم کے چھوٹے گروپس ٹی ٹی پی کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر لانے کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد ریاست پاکستان کو دہشتگردوں کیخلاف ایک مرتبہ پھر آپریشن راہ نجات اور ردالفساد کی طرز پر بھرپور کارروائی کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان سرزمین پر امن پاکستان سمیت پورے خطہ کیلئے خوش آئند ہے، تاہم یہ امن ہرگز پاکستان کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیئے۔ امارات اسلامیہ داعش کے خطرے سے بچنے کیلئے ٹی ٹی پی کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی، اس لئے انہیں محفوظ راستہ دینا چاہتی ہے، تاہم اسلام آباد حکومت کو کسی بھی صورت پاکستان کے اسّی ہزار شہداء کے خون کا سودا اور ملک کا امن داو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سعودی عرب اب امریکہ کے بجائے چین جیسے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

(فیصل محمود علی) چینی صدر شی جن پنگ سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جہاں وہ …