پیر , 28 نومبر 2022

پولینڈ پر میزائل حملہ، کیا روس اور نیٹو کی جنگ شروع ہونیوالی ہے؟

(رپورٹ: ایم آر سید)

یوکرین کے قریب پولینڈ کے سرحدی علاقے پر میزائل گرنے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولینڈ پر ایک میزائل حملہ ہوا، جس میں 2 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ حملے کے بعد پولینڈ سمیت یورپ بھر میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولینڈ کی حکومت نے حملے کا الزام روس پر لگایا ہے تاہم روسی وزارت دفاع نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے پولینڈ میں کوئی میزائل نہیں داغے گئے۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں بھی ہیں کہ یہ میزائل یوکرین کی طرف سے فائر کیا گیا تھا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق اس میزائل حملے کے بعد پولینڈ کے جنگی طیارے وسیع پیمانے پر علاقے میں گشتی پروازیں کر رہے ہیں۔ روس نے اس حملے کی تردید کی ہے اور اسے علاقے میں کشیدگی بڑھانے کے لئے امریکی سازش قرار دیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی میزائل حملے میں روس کے ملوث ہونے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے حکومت سے رابطے میں ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے ابتدائی معلومات کے مطابق میزائل روس نے فائر نہیں کئے، میزائل حملے کی تحقیقات کے لئے پولینڈ سے تعاون کریں گے، نیٹو کے ارکان آرٹیکل 5 کے تحت مشترکہ طور پر سرزمین کا دفاع کرنے کا عزم رکھتے ہیں، البتہ اگر حملے میں روس کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی تو روس اور یوکرین کے درمیان تنازع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جوبائیڈن نے جی سیون اور دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ واقعے کے اصل حقائق معلوم کئے جارہے ہیں جس کے بعد ہم مشترکہ طور پر اپنے اگلے اقدام کا فیصلہ کریں گے۔

جوبائیڈن نے انڈونیشیا کے شہر بالی میں جی 20 اجلاس کے موقع پر اتحادیوں کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے، اجلاس میں جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، اسپین، اٹلی، فرانس، برطانیہ کے نیٹو اراکین سمیت یورپی ممالک کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ جوبائیڈن نے کہا کہ جب تک ابتدائی تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق پولینڈ میں میزائل روس نے فائر نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور نیٹو ممالک اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے۔ اس کے علاوہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ پولینڈ میں تنازعات میں شدت میں اضافے کی وجہ سے روس نے پولینڈ پر میزائل پر حملہ کیا البتہ زیلنسکی نے حملے میں روس کی شمولیت کا ثبوت نہیں دیا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ نے یوکرین کی سرحد کے قریب پولینڈ میں میزائل گرنے کے واقعے کے بارے میں نیٹو کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یوکرین کے فضائی دفاعی میزائل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ یہ میزائل روس نے داغے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے جبکہ پولینڈ نیٹو کا رکن ہے لیکن نیٹو نے یوکرین کو مزید جدید فضائی دفاعی نظام دینے کا وعدہ کیا ہے جس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ میزائل روس نے نہیں داغے تھے لیکن مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بقول ان کے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ بند ہوجائے۔

روس کے قصر کرملین کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کرملین میں ایک پریس کانفرنس میں پولینڈ پر روسی میزائل حملہ ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا روس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس سلسلے میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ روسی ترجمان نے اس حملے کے بارے میں روس پر عائد کئے جانے والے الزام پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وارسا کے لئے بہتر ہوگا کہ میزائل حملے کے مقام سے ایس تین سو میزائل کے ملنے والے ٹکڑوں کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کرے اور احتیاط سے لے۔

اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نبزینا نے کہا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ کے حکام میزائل حملے کے بہانے سے ماسکو اور نیٹو کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے۔ روسی مندوب نے کہا کہ اگر سیکورٹی کونسل کی اس نشست کا ایجنڈا طے نہ ہوتا تو پھر تو یوکرین اور پولینڈ کی روس اور نیٹو کو لڑانے کی کوششوں کے بارے میں بحث ہوتی جنہوں نے بالکل غیرذمہ دارانہ بیانات دے کر یہ کوشش کی ہے۔ روسی نمائندے نے مزید کہا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی نے اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کا اعلان کیا، ایسا نہیں ہوسکتا کہ انہیں اس بات کا علم نہ ہو کہ یوکرین کا ہی فائر ہونے والا ایک میزائل پولینڈ میں جا کر گرا ہے، یہ صرف غلط اور نادرست بیان اور اعلان ہی نہیں بلکہ روس اور نیٹو کو لڑانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے حالات اور یکطرفہ معلومات

(تحریر: نذر حافی) اس جنگ میں ایران اکیلا نہیں، یہ میڈیا کی چال ہے کہ …