جمعرات , 1 دسمبر 2022

عالمی اور علاقائی شیاطین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دشمن کیوں؟

بقلم: ڈاکٹر عابدین مؤمنی، پروفیسر تہران یونیورسٹی

(ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)

مغرب بالخصوص امریکہ میں حقوق نسوان کی حالت زار، اور ہر سال پولیس کے ہاتھوں سینکڑوں خواتین کے قتل، افغانستان، عراق، فلسطین، لیبیا، یمن اور دوسرے ممالک میں ان ہی کے ہاتھوں ہزاروں بچوں اور خواتین کا قتل عام، اور مغربی حکمرانوں اور وابستہ نام نہاد تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی کو دیکھ کر بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ایران سمیت کسی بھی ملک میں انسانی حقوق، حقوق اطفال، حقوق نسوان وغیرہ وغیرہ، ان کے لئے اہم نہیں ہیں؛ اور اگر آج وہ انقلاب اسلامی اور عالمی مقاومت کے رہبر و امام آقا سید علی حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں تو یہ اس لئے نہیں ہے کہ انھوں نے – شیطانوں کے جھوٹے دعؤوں کے مطابق – ایرانی خواتین کے حقوق چھین لئے ہیں بلکہ ان کی دشمنی کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے مغربیوں کے بنیادی نظریئے کو باطل کرکے رکھ دیا ہے؛ اور دوسری طرف سے ان ہی کی زعامت میں ایران میں نہ صرف خواتین کے حقوق پامال نہیں ہوتے بلکہ جو حقوق انہیں ایران میں حاصل ہیں، شاید مغرب میں بھی حاصل نہ ہوں؛ اور ایران سمیت کسی بھی مسلم ملک میں فحاشی، عریانی اور بے پردگی حقوق نسوان کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ انہیں ہوس پرستوں کے لئے لذت کے اوزاروں میں بدل دیتی ہے۔

کچھ عرصے سے جعلی صہیونی ریاست، جرائم پیشہ امریکہ، خبیث جزیرہ برطانیہ اور رجعت پسند استبدادی سعودی حکومت نے مجازی دنیا (سائبر اسپیس) میں ایک عجیب قسم کا گرد و غبار اڑا کر، حقیقی ایران کو دنیا والوں کے لئے مبہم بنا دیا اور اس مقصد کے لئے مختلف قسم کی سازشوں کے ساتھ ساتھ تشہیری گماشتوں کی فوجوں، اور پیٹروڈالرز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کے ساتھ ساتھ ترکیبی جنگ یا ففتھ جنریشن وارفیئر یا ہائی برڈ (Hybrid warfare یا Fifth generation war) کا آغاز کیا ہے۔ وہ یوں ایران میں بلووں کو ہوا دے کر – رہبر انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی ‌زعامت میں اسلامی جمہوریہ ایران سے – اپنی تمام خفتوں اور ناکامیوں کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

البتہ وقت گذرنے کے ساتھ ایران کی انقلابی قوم نے – ابتداء سے بھی اور اسی دوران بھی – ثابت کرکے دکھایا ہے کہ تمام تر مسائل اور دشمن کی تمام تر سازشوں کے باوجود اس انقلاب کا سماجی سرمایہ مسلسل نشوونما پا رہا ہے؛ اگر معاشی مسائل ہیں تو انہیں حل کیا جا رہا ہے، مغربی پابندیوں کو بہت حد تک ناکام بنایا گیا ہے، رہبر معظم خود ان مسائل کے حل کی نگرانی کر رہے ہیں اور ڈاکٹر رئیسی کی حکومت دن رات محنت کرکے سابقہ مشکلات کے اثرات مٹانے اور معاشی مسائل کے حل کے سلسلے میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ ملت ایران مٹھی بھر بد اخلاق، بےتہذیب سماج دشمن بلوائیوں کو سمجھتی ہے اور ان کا مقابلہ کرتی ہے؛ گوکہ مغربی، یہودی اور سعودی اپنے تشہیری ذرائع کے توسط سے انہیں مصنوعی سانس فراہم کرکے بلوائیوں کے تخریبی اقدامات کو زندہ رکھنے کے درپے ہیں۔

اس اثناء میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہے ہے کہ شر کی قوتوں کا ایک مجموعی ان بلؤوں میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے ٹی وی چینلوں کا اسکرین دیکھ کر ہی واضح ہوتا ہے کہ آن کی یہ تشہیری یلغار پوری طرح رہبر انقلاب امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کی ذات پر مرکوز ہے؛ اور آج اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن زیادہ لاپروائی کے ساتھ آنجناب کو اپنی بے شرمانہ اور بزدلانہ حملوں کا نشانہ تشہیری یلغار کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ظلمت، جھوٹ، شر اور فساد کے رنگ برنگے سرغنوں کا ایک اتحاد، امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کے مقابلے میں آکھڑا ہؤا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کے لئے یہ سوال پیش آئے کہ عالمی اور علاقائی شیاطین رہبر انقلاب سے کیوں اس قدر دشمنی اور عداوت اور بغض و کینہ رکھتے ہیں۔

جواب میں کہنا چاہئے کہ شیاطین کی نگاہ میں، امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کا سب سے بڑا گناہ، یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: "رَبُّنَا اللَّهُ” (ہمارا پروردگار اللہ ہے) اور اپنے اس نصب العین پر جمے ہوئے ہیں اور جس طرح کہ اللہ کا فرمان ہے، اس پر استقامت کر رہے ہیں۔ (دیکھئے: سورۃ حم سجدہ، آیت 30) ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ طاقت کے مغربی مراکز خدا اور اخلاق کے منکر (Nihilist) ہیں اور انھوں نے خدا کی دشمنی کی بنیاد پر حکومتیں قائم کی ہیں اور عشروں سے خدا پرستوں اور خداخواہوں کے خلاف صف آرا ہوئے ہیں؛ چنانچہ وہ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کو – جنہوں نے خدا پرستوں کی زعامت سنبھالی لی ہے – گنہگار سمجھتے ہیں۔ وہ ان کی آنکھوں میں کانٹا ہیں کیونکہ وہ خداپرستوں کی عزت، عظمت اور طاقت کا مظہر ہیں۔ وہ امام خامنہ ای کو اپنی تبشہیری جنگ کا نشانہ بناتے ہیں، مختلف قسم کی توہینوں اور تہمتوں کا نشانہ بناتے ہیں، اور ان کی عظیم کامیابیوں اور حصول یابیوں کو چھپاتے ہیں، یا توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور ان کی کردار کُشی کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر دنیا والے انہیں اسی طرح پہچان لیں جس طرح کہ وہ ہیں تو دنیا میں خداپرستی پھیل جائے گی، خدا کے چاہنے والے طاقتور ہو جائیں گے جبکہ یہ حق و حقیقت کے خلاف صف آرا دشمنانِ خدا کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ چنانچہ شیاطین کے خیال میں ان کے خلاف اٹھنا چاہئے، اور دنیا کو ان کے خلاف اٹھانا چاہئے، کیونکہ جب تک وہ ہیں، اللہ کے دشمن بے بس ہیں اور اپنے شیطانی عزائم کے حصول سے عاجز ہیں اور مغربی شیطانوں کا گھونسلا ماند پڑ جائے گا۔ وہ یہ بڑا جھوٹ منوانے کے لئے کوشاں ہیں کہ "خداخواہی اور توحیدی نظریئے پر عمل کرنے کی وجہ سے آزادی سلب اور زندگی تلخ ہو جاتی ہے!”۔

ہیگل (Friedrich Hegel) نے خدا کی موت کا پیغام دیا، نطشے (Friedrich Nietzsche) نے کہا "خدا مر گیا”، فیورباخ (Ludwig Feuerbach) نے کہا کہ "خدا انسان کی خود سے بیگانگی ہے”، مارکس (Karl Marx) نے دین و مذہب کو لوگوں کے لئے افیون قرار دیا! رسل (Bertrand Russell) اور دوسروں نے خدا کا انکار کر دیا۔ رسل نے "شادی اور اخلاق” کے بارے میں کتاب لکھی اور اس میں بیان کیا کہ "دنیا ایک عیش کدہ ہے اور عیاشی کو آزاد ہونا چاہئے”۔ استاد شہید مرتضی مطہری (رحمہ اللہ) نے رسل کے جواب میں کتاب "اخلاق جنسی در اسلام و جهان غرب” (اسلام اور مغربی دنیا میں میں جنسی اخلاقیات) لکھی۔ فرائڈ (Sigmund Freud) نے لکھا کہ "جنسی ناکامی تمام مسائل کی جڑ ہے” اور مغربی تہذیب اور سماجی حیات کا ایک بڑا حصہ اسی نظریئے کی پابندی پر استوار ہے اور اس کی اس تجویز کے اثرات و عواقب آج کے مغربی معاشروں میں سب کے سامنا اشکار ہیں۔

بلا شبہ مغرب خدائے متعال کا دشمن ہے اور مغرب نوازوں اور مغرب پرستوں کے دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔ اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت میں ایران کی تیل کمپنی کے سربراہ "حسن نزیہ” نے کہا تھا کہ "پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام حال حاضر میں قابل نفاذ نہیں ہے، اور اگر نافذ بھی کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا”، تو شہید ڈاکٹر آیت اللہ بہشتی (رحمہ اللہ) نے ان کا جواب دیا، تو عبوری وزیر اعظم مہدی بازرگان نے کہا: "دین کا دنیا سے کوئی سروکار نہیں ہے، اور صرف آخرت کے لئے مفید ہے، جو آخرت کو معمور کرنا چاہے وہ دین کی طرف جائے گا، اور اگر نہ چاہے، تو آزاد ہے”، اور سابق صدر حسن روحانی نے کہا: "جنت جبری نہیں ہے اور کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو جبری طور پر جنت لے جائے”، عبدالکریم سروش نے کہا ہے کہ "دنیا کو سائنس بناتی ہے دین دنیا کی تعمیر نہیں کرتا، چنانچہ ولایت فقیہ کے بجائے سائنس کی ولایت قائم کی جائے!”، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران اور امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) اور رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کی کارکردگی نے نزیہ، روحانی اور سروش وغیرہ کے نظریات کو باطل کر دیا۔

اب جبکہ اسلامی انقلاب اور رہبر معظم کے دشمن دیکھ رہے ہیں کہ دین طاقتور ہو چکا ہے اور مغرب اور بالخصوص امریکہ کے مقابلے میں پورے استحکام، ثابت قدمی اور کامیابی کے ساتھ کھڑا ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کر رہا ہے، تو اب دعوی کر رہا ہے کہ گویا ایران میں خواتین کے لئے راستے بند ہیں، وہ حجاب کو محدودیت اور بندش سمجھتے ہیں اور اسی بہانے اسلام کے خلاف میدان میں آئے ہیں۔
بدھ 12 اکتوبر 2022ع‍، شام پونے چھ بجے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کچھ صہیونیوں سے انٹرویو لے رہا تھا اور وہ سب یہی کہہ رہے تھے کہ "ایران کی ترقی کا راستہ روک لینا چاہئے”، وہ مغرب اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کی اپنی مخالفت سے علی الاعلان پشیمانی کا اظہار کر رہے تھے، اور کہہ رہے تھے کہ "ہم جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی کی حمایت کرکے بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں”، اور کہہ رہے تھے جوہری معاہدے کے سلسلے میں اسرائیل کا موقف غلط تھا کیونکہ ایران کو صرف 300 کلوگرام افزودہ یورینیم رکھنے کا حق دیا گیا تھا”،
اسی اثناء میں ایران کا اخباری چینل ایران کی فوجی حصول یابیوں کا تعارف کرنے میں مصروف تھا، یہ ہم وقتی بہت دلچسپ تھی۔ فوجی صنعت – بالخصوص ڈرون طیاروں کے تزویراتی شعبے میں – اسلامی جمہوریہ ایران کی بے انتہا ترقی سے عالمی حیرت عرصے سے دنیا کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخی بنی ہوئی ہے۔ ہم تین سال قبل اس وقت کے امریکی سلامتی کے مشیر کے نائب اور ایران کے خلاف ایکشن گروپ کے سربراہ بریان ہوک (Brian Hook) نے اسلامی جمہوریہ ایران کی میزائل اور ڈرون کی قوت کو "فوٹو شاپ” کہا تھا، لیکن اس وقت وہی امریکی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ "اسلامی جمہوریہ ایران کہیں دنیا ایک ایک بڑی فوجی طاقت (روسی وفاق) کو ڈرون طیارے نہ بیچ دے کیونکہ ان کے خیال میں یہ ڈرون طیارے [روس اور مغرب کی جنگ کا] تواز بگاڑتے ہیں [اور گیم چینجر کا کردار ادا کرتے ہیں]۔

تو بے شک امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کے ساتھ شیاطین کی دشمنی اس لئے نہیں ہے کہ انھوں نے – ان کے جھوٹے دعؤوں کے مطابق – ایرانی خواتین کے حقوق چھین لئے ہیں بلکہ ان کی دشمنی کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے مغربیوں کے بنیادی نظریئے کو باطل کرکے رکھ دیا ہے؛ انھوں نے کہا کہ "دین و مذہب سے دنیا آباد نہیں ہؤا کرتی”، لیکن وہ دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور ایران امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کی قیادت میں نہ صرف علاقائی پیمانے کی ترقی ہی نہیں بلکہ عالمی معیار کے مطابق، ترقی کے مختلف مراحل سے گذر رہا ہے اور تمام ظالمانہ اور غیر منصفانہ پابندیوں کے باوجود، یہ ملک نہ صرف جما رہا بلکہ اس نے ترقی کی، اور نیٹو کے مقابلے میں ناقابل تسخیر قلعے میں تبدیل ہؤا۔

مغرب کے مقابلے میں مشرقی معاشی محاذ بھی اسلامی جمہوریہ ایران سمیت اہم ممالک کی شرکت سے، روز بروز پہلے سے زیادہ طاقتور ہو رہا ہے۔ وہ اسلامی انقلاب کی ان عظیم تبدیلوں اور ترقیوں کو برداشت نہ کرسکے، اور ایران میں بلؤوں شروع کروا کر مٹھی بھر بلوائیوں کا سہارا لیا۔ وہ حالیہ ایام میں زندگی کے سلسلے میں ایسے نعرے لگواتے رہے، جو ایرانی نوجوانوں کو علم، سائنس اور ترقی سے روکتے ہیں۔ یقینا مغرب نے جس ملک میں بھی اس طرح کے اقدامات کروائے، ان کا نتیجہ آج تک ان ممالک کی تباہی و بربادی کی صورت میں برآمد ہوئے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے یہ مسئلہ نیا نہیں ہے؛ اور ایرانی نوجوانوں نے پہلے بھی اور کل (مورخہ 10 نومبر "یوم مردہ باد امریکہ” کو) بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ مغرب کے عزائم کو خوب سمجھتے ہیں، اور جانتے ہیں کہ ان کے رہبر امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) ہی ان کے حقیقی ہمدرد ہیں جو ان کے لئے دنیا و آخرت کی خوشبختی اور سعادت چاہتے ہیں، اور امریکہ اور اس کا [مخبوط الحواس] سربراہ جو بائیڈن، امریکی کانگریس، ان کے حقیر و بے نوا امریکی ہم نوا اور ان کے کٹھ پتلی علاقائی حکام ان کے خیرخواہ نہیں ہیں؛ اور یہ نوجوان سمجھتے ہیں – اور اب تک نہیں سمجھے انہیں سمجھنا چاہئے – کہ ولی فقیہ حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالیٰ) کی زعامت کے تحت ہی اسلامی ایران کی ترقی اور پیشرفت میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ رہبر معظم کا ایک کلام یہ ہے کہ "إِنَّ مَعِيَ رَبّي” (یقینا میرے ساتھ میرا پروردگار ہے)؛ (شعراء – آیت 62) اور ان کی زعامت سے ان کے اس کلام کی سچائی بالکل ثابت ہے۔

بقولے:
"حق و باطل میں تمیز ممکن نہ ہو تو دیکھو باطل کے تیر کس طرف پھینکے جا رہے ہیں، اور جان لو کہ حق وہی ہے”۔

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یورپ کی چین سےتعلقات کی از سر نو استواری، امریکہ- یورپ تقسیم کو ظاہر کرتی ہے؟

یوکرین تصادم اور روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سےیورپ کے …