جمعرات , 1 دسمبر 2022

جمال خاشقجی قتل کیس: محمد بن سلمان کے استثنیٰ پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا غم و غصے کا اظہار

واشنگٹن:امریکا کی حکومت کی جانب سے 2018 میں ترکی میں قتل ہونے والے سعودی نژاد واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار امریکی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قانون کارروائی سے استثنیٰ دینے کی سفارش پر انسانی حقوق کے گروپوں نے بائیڈن انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’بڑی دھوکہ دہی‘ قرر دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے استثنیٰ کی تجویز نے صحافی جمال خاشقجی کی بنائی گئی این جی او ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کے نمائندگان، ان کی منگیتر اور دیگر حامیوں میں شدید غم وغصہ پیدا کردیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اگنیس کالامرڈ نے استثنیٰ کی سفارش کو ’بڑا دھوکہ قرار دیا، جمعے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ آج یہ استثنیٰ ہے، اس سے سزا نہ ملنے کے واقعات میں ایک اور اضافہ ہوگیا، انہوں نے مزید لکھا جمال خاشقجی آج ایک بار پھر انتقال کر گئے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے سے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی عدالت میں پیش کی گئی تجویز میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت سعودی حکومت کے وزیراعظم ہیں، لہٰذا بطور سربراہ سلطنت انہیں اس کیس سے استثنیٰ حاصل ہے۔

یہ سفارش امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی گئی جو دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے جمعرات کی رات دیر گئے اس سفارش کی دستاویز جمع کرائی جب کہ استثنیٰ کے سوال پر انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ہونے والی عدالتی سماعت کی آخری تاریخ سے چند گھنٹے قبل، عدالت حاصل استثنیٰ کی بنیاد پر مقدمے کو خارج کرنے کے لیے شہزادے کے دلائل بھی سن رہی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا درجہ باضابطہ طور پر ستمبر میں تبدیل ہوا جب انہیں وزیراعظم نامزد کیا گیا، سعودی عرب میں اقتدار بادشاہ، ولی عہد اور قریب ترین خونی تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کے افراد کو حاصل ہے، ولی عہد 2017 میں تخت کا وارث بننے کے بعد سے بہت طاقتور اور بااختیار ہے۔

ولی عہد کے طور پر محمد بن سلمان خودمختار استثنیٰ کے حقدار نہیں تھے جب کہ یہ حق عام طور پر صرف ایک سربراہ مملکت، سربراہ حکومت یا وزیر خارجہ کو حاصل ہوتا ہے۔

ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارا لیہ وٹسن نے کہا کہ ’بائیڈن انتظامیہ محمد بن سلمان کے لیے استثنیٰ کی سفارش کرنے اور انہیں احتساب سے بچانے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ جو بائیڈن نے سعودی ولی عہد کو استثنیٰ دے دی ہے تو اب ہم محمد بن سلمان سے اپنے ملک کے لوگوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرنے کی ہی توقع کر سکتے ہیں‘۔

خیال رہے محمد بن سلمان چند برسوں سے سعودی عرب کے ولی عہد ہیں جو کہ اپنے والد شاہ سلمان کے دور میں نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔

صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد کافی عرصے تک تنہائی کا شکار رہنے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا رواں سال دنیا کی اسٹیج پر واپس آنے پر استقبال کیا گیا جس میں امریکی صدر جو بائیڈن کا رواں سال جولائی میں دورہ سعودی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بادشاہی ریاست کو عالمی سطح پر تنہا رکھنے کا عزم کیا گیا تھا۔

سابق سعودی جاسوس سعد الجابری کے بیٹے خالد الجابری نے کہا کہ ان تجاویز کا مطلب سعودی حکومت کے سربراہ کو قتل کرنے کا لائسنس دینا ہے۔

خالد الجابری نے کہا کہ صحافی کے قتل میں سعودی ولی عہد کو سزا دینے کا عزم توڑتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف محمد بن سلمان کو امریکی عدالت میں احتساب سے استثنیٰ دی گئی ہے لیکن بغیر کسی ڈر کے اپنے مزید ناقدین کو قتل کرنے کا لائسنس دیتے ہوئے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیا گیا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کو کو ستمبر میں شاہی فرمان کے ذریعے وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں کہ وہ غیرملکی عدالتوں میں دائر مقدمات سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں مقتول صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر ہیٹیس سینگز کی طرف سے امریکا میں دائر کی گئی درخواست بھی شامل ہے۔

چار سال قبل استنبول میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد مغرب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو عارضی طور پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

محمد بن سلمان کے وکلا نے امریکی عدالت میں پہلے دلائل دیے تھے کہ وہ سعودی عرب کی حکومت کے سب سے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں اور اس طرح استثنیٰ دینے کے اہل ہیں کیونکہ امریکی عدالتوں میں غیر ملکی سربراہان مملکت اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو استثنیٰ حاصل ہے۔

گزشتہ سال امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹیلی جنس رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی کے خلاف آپریشن کی منظوری دی تھی تاہم، سعودی حکام نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔

مقتول صحافی کی منگیتر اور ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی طرف سے دائر کیے گئے سول مقدمے میں مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور 20 سے زائد مدعا علیہان نے ایک سازش کے تحت صحافی کو منصوبہ بندی سے اغوا کرکے، نشہ دے کر، تشدد کے بعد وحشیانہ طریقے سے قتل کیا۔

انہوں نے مالیاتی ہرجانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی کہ قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے دیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

چین کی بڑھتی دفاعی طاقت نے امریکا کو پریشان کر دیا

واشنگٹن:چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت نے امریکا کو پریشان کر دیا ہے، امریکی محکمہ …