جمعرات , 8 دسمبر 2022

سوال کس سے کیا جائے؟

(تحریر : ایاز امیر)

ایک زمانہ تھا جب ہمیں یہ کہانی سنائی جاتی تھی کہ ایک مسلمان دس ہندوؤں کے برابر ہے۔65ء کی جنگ جب نادانی میں چھڑی تب بھی اس قسم کے افسانے سننے کو ملتے تھے۔ہندوؤںوالا دیس جو ہمارا پڑوسی ہے اور جسے ہم دشمن نمبر ایک قرار دیتے ہیں کہیں آگے چلا گیا ہے اور ہم جو اپنے آپ کو صحیح نظریات سے لیس سمجھتے تھے‘ پتا نہیں کس گڑھے میں پہنچ چکے ہیں اور گڑھے سے نکلنے کی ہمیں کوئی تدبیر نہیں سوجھ رہی۔ اُن کا کمال نہ اپنا زوال سمجھ آ رہا ہے۔ اور ملت کے ٹھیکیدار جو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہیں وہ بھی ہمیں کچھ بتا نہیں رہے۔ہرروز کی خبر یہی ہوتی ہے کہ مسائلستان کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک تسلی البتہ ہے کہ ایٹم بم ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آ رہی کہ ایٹمی قوت کا استعمال کہاں کیا جائے۔ قومی خزانے میں پیسہ خاصا کم رہ گیا ہے لیکن کاش ایٹمی قوت اس کمی کو پورا کرسکتی۔معیشت کا برا حال ہے لیکن ایٹمی قوت سے معیشت نے ٹھیک نہیں ہونا۔ توانائی کے حوالے سے سرکلر قرضہ ہماری دسترس سے کہیں اونچا ہو چکا ہے لیکن وہاں بھی ایٹمی قوت کسی کام کی نہیں۔البتہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہمارے مسائل بھی کچھ انوکھے ہیں۔دنیا کے کسی اور ملک میں یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کہ فوج کا سربراہ کیسے چنا جائے گا۔ روٹین میں یہ کام ہو جاتا ہے لیکن ہم ہیں کہ پورے ایک سال سے اس بخار میں مبتلا ہیں کہ نئے سربراہ ِ تفنگ کون ہوسکتے ہیں۔بس بہت سی باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آتیں۔

رستمِ معیشت جناب اسحق ڈار کوہی دیکھ لیجئے۔ کیا نوید قوم کو اُنہوں نے سنائی تھی کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنا جانتا ہوں۔ حالت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے آخری قسط لینے کیلئے جو مذاکرات ہونے تھے وہ شروع ہی نہیں کیے جاسکے کیونکہ آئی ایم ایف کے سامنے جو ہم نے حساب کتاب رکھنا تھا وہی درست نہیں ہے۔اب آئی ایم ایف سے کچھ اور مہلت مانگ لی ہے۔کہنے کا مطلب یہ کہ بڑھکوں کا سہارا ہی ہم لیتے ہیں۔ ہرکوئی ٹرخانے پہ لگا ہوا ہے‘ کام جو کرنے کے ہوتے ہیں وہ ہم سے نہیں ہوتے۔پوری قوم کا سانس اس نکتے پر رکا ہوا ہے کہ اہم ادارے میں تقرری متوقع ہے۔ اب تو کچھ دنوں کی بات ہے‘ وہ تقرری ہو جائے گی۔ پھر کیا مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے؟تقرری تو ایک محکمے میں ہونی ہے لیکن پوری قوم منتظر ہے کہ پھر پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔ ہمارا مسئلہ کیا ہے یہ تو کوئی بتائے۔ ایشیا میں کتنے ممالک ہیں جو ٹھیک چل رہے ہیں۔ ہمارے بارے میں یہ رائے قائم ہو چکی ہے کہ یہ ملک ٹھیک نہیں چل رہا۔

عمران خان پر فائرنگ ہوتی ہے اور وزیراعظم صاحب فرما دیتے ہیں کہ پوری سپریم کورٹ بیٹھ کراس معاملے کی چھان بین کرے۔ مطلب یہ ہوا کہ درمیان میں کوئی سطح رہی نہیں جو اس مسئلے کو دیکھ سکے اور فقط سپریم کورٹ ہی ہے جو معاملے کی تہہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یعنی باقی ریاست ناکارہ ہوچکی اور مسئلہ وہیں جاکر سلجھ سکتا ہے۔ لایعنی باتیں کرنے سے پہلے ہم کچھ سوچتے نہیں ہیںکہ ہم کیا کہنے جا رہے ہیں؟

بس پھر یہی ہے کہ جیسے حالات چل رہے ہیں اسی میں خوش رہیں۔ جو حالات کا ماتم کررہے ہیں کرتے رہیں اور جن کا دال پانی چل رہا ہے اُسی میں خوش رہیں۔مغربی سرحد پر دہشت گردی کے واقعات پھر زور پکڑ رہے ہیں اور بلوچستان کے وسیع علاقے میں بھی حالات خرا ب ہیں۔ لیکن خراب ہونے دیں‘ دیکھا جائے گا۔ ویسے بھی بلوچستان اور مغربی سرحد پنجاب سے دور لگتے ہیں۔یہاں تو جیسا بھی ہے کام اور دھندے چل رہے ہیں۔یہ رویہ ہمارا بن چکا ہے کہ قوم کے مسائل قوم جانے‘ ہمیں تو غرض اپنی ذات سے ہے۔ عمران خان حقیقی آزادی کے طلب گار ہیں اور اُن کی تحریک جو چل رہی ہے اسی نکتے کے گرد گھوم رہی ہے کہ ہم قوم کیلئے حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔حقیقی آزادی جائے بھاڑ میں ہمیں تو اپنی آزادی چاہئے۔جس کا مطلب ہے کہ روزمرہ کی دشواریاں نہ ہوں۔مہنگائی اتنی ہو کہ برداشت کے قابل ہو۔ بجلی کے بل اتنے ہوں جو عام آدمی ادا کرسکے۔ علاج معالجے کی سہولتیں قدرے آسان ہو جائیں۔ تعلیم کا معیار بہتر ہو جائے۔پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں نہ بھرنی پڑیں‘ سرکاری سکولوں کا معیار تسلی بخش ہو جائے۔یہ کام کرنے کے ہیں جو ہم سے نہیں ہوتے۔طبقاتی معاشرہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اوپر کے طبقات آسانیوں سے بھری زندگی گزارتے ہیں۔ اکثریت جس حال میں ہے بس ہے۔

ذاتی طور پر تو میں کہوں گا کہ جہاں قوم کو بڑے مسائل درپیش ہیں جہاں ممکن ہو وہاں تو آسانیاں پیدا ہونی چاہئیں۔یہ کس حکیم نے کہا ہے کہ قوم اپنا تمام پیسہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لگا دے؟ ڈویلپمنٹ کے نام پرزرعی زمینیں تباہ ہو رہی ہوں‘ یہ سبق ہم نے کہاں سے سیکھا ہے؟ پاکستان نے سنگاپور یا ہانگ کانگ نہیں بننا‘ یہ بات ہمیں جان جانی چاہئے۔ لیکن کم از کم زراعت کے شعبے میں ہم خودکفیل ہو جائیں۔شرم کا مقام ہے‘ گندم باہر سے منگوانی پڑرہی ہے‘ خوردنی تیل باہر سے آتا ہے۔ خدا کا قہر‘ دالیں ہمیں باہر سے منگوانی پڑتی ہیں۔اس طرف تو کوئی توجہ دے۔

کچھ اپنا رونا بھی رولوں۔ کچھ بیچ کے سوداگر اچھے مل گئے تھے تو ہم نے سمجھا کہ ہمارا شام کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ لیکن دو نمبری یہاں اتنی ہے کہ خدا کی پناہ۔ ایک صاحب تھے جنہوں نے دو تین مرتبہ صحیح کا سامان مہیا کیا۔ ہم نے کہا کیا پارسا اور پوتر ہے۔لیکن پھر جو اُس نے ہمیں بائیں ہاتھ کی ماری ساری پارسائی پوری ہو گئی۔ایک آدھ جگہ سے اور کوشش کی لیکن وہاں بھی دو نمبری کا سامنا ہوا۔اسی لیے جو ہمارے ہمہ وقت کے انقلابی ہیں اُن سے التماس ہے کہ حقیقی آزادیاں اپنے پاس رکھیں فقط اتنا کریں کہ روزمرہ کے معاملات میں جو دونمبری اِس معاشرے کا وتیرہ بن چکی ہے وہ تو تھوڑی کم ہو۔ہر ملک کے اپنے مسائل ہوتے ہیں لیکن یہ جو خوا ہ مخواہ کے مسائل ہم نے چھوٹی چیزوں میں بنا رکھے ہیں ان سے تو اجتناب حاصل کیا جاسکتا ہے۔

میرا ذاتی مسئلہ ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جب سے میرے بیٹے کا واقعہ ہوا لوگ پھبتی کس دیتے ہیں کہ اپنے بیٹے کی تربیت تو کرنہ سکا‘ قوم کو بھاشن دیتا پھرتا ہے۔ بیٹا اندر ہے اور اپنے نصیبوں کو بھگت رہا ہے۔ افسوس ہے‘ ندامت ہے‘ لیکن جب ایسا واقعہ ہو جائے ندامت ہی رہ جاتی ہے۔دنیا اور اُس کے کام تو چلتے رہتے ہیں۔ نیکی کا پرچار کبھی نہیں کیا اور کربھی نہیں سکتا کیونکہ یہ کھاتا خاصا کمزور ہے۔لیکن جو سامنے ہے اور جو محسوس کرتا ہوں اُس کا ذکر کبھی ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ معاشرے میں آسانیاں پیدا ہونی چاہئیں‘ یہ کون سا گناہ ہے؟

ہاں‘ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کبھی شام اور اُس کے تقاضوں کی بات ہو تو کچھ مہربان ہیں جو کہے بغیر نہیں رہتے کہ پھر وہی باتیں کررہے ہو‘ اپنی آخرت کا خیال کرو۔ یہ بھی تلقین کرتے ہیں کہ نماز روزے کی طرف دھیان دیا کرو۔ ایسے کرم فرماؤں سے گزارش ہے کہ یہ مسائل اپنے اور پروردگار کے درمیان ہوتے ہیں۔ آپ اپنی آخرت کی فکر کریں اور جو بھی آ پ کو درست لگے وہ راستہ اپنائیں۔ بے جا کے وعظ و نصیحت رہنے دیں۔ویسے بھی ہمارے معاشرے میں نصیحت کچھ زیادہ ہی ہے۔بشکریہ دنیا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی) صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ …