اتوار , 4 دسمبر 2022

نواز شریف اور صدارتی پویلین کا کھیل

(ایف ایس اعجازالدین)

یہ بات بہت عجیب ہے کہ 3 مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے کسی فرد کو اپنے ہی ملک میں داخل ہونے کے لیے سفارتی پاسپورٹ کی ضرورت ہو۔نیلے رنگ کا سفارتی پاسپورٹ عموماً ’سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی، صوبائی وزرا، عدالتِ عظمیٰ اور ہائی کورٹ کے ججوں، حکومت کے ساتھ کام کرنے والے افسران جو سرکاری کام پر بیرونِ ملک ہوں اور دیگر سرکاری افسران‘ کو دیا جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس فہرست میں اضافے ہوتے رہے اور اس میں سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، سابق چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر، ان کے شریکِ حیات اور بچے یعنی باورچیوں اور چوکیداروں کے علاوہ سب ہی شامل ہوگئے۔

ویسے تو کسی بھی شخص کو اپنی سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد 30 دن کے اندر سفارتی پاسپورٹ واپس کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہر دوسری سہولت کی طرح اس کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد اسے اس طرح اپنے پاس رکھتے ہیں جیسے یہ جنت میں جانے کا دروازہ ہو۔

اس پاسپورٹ پر دنیا کے تقریباً 70 ممالک میں بغیر ویزا کے داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ہی ممالک ایسے ہیں جو عام پاکستانیوں کو اس طرح کی آزادی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک ملک روس بھی ہے لیکن آخر کون ہوگا جو یکطرفہ ٹکٹ لے کر روس جانا چاہے گا؟

2013ء میں ایک اسکینڈل منظرِعام پر آیا تھا کہ ’جولائی 2010ء سے فروری 2013ء تک کم و بیش 2 ہزار بلیو پاسپورٹ غیر قانونی طریقے سے اور 15 سے 20 لاکھ کی بھاری رقم کے عوض بااثر شخصیات کو فروخت کیے گئے یا پھر ان افسران کو جاری کیے گئے جو اس کے اہل نہیں تھے‘۔

اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جب نیب کو حرکت میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس طرح ایک گروہ نے اربوں روپے کمائے۔ اس ’طاتقور گینگ میں کم از کم ایک سابق وفاقی وزیر [اور] وزارتِ داخلہ اور ڈائیکٹریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے کئی سینیئر افسر شامل تھے‘۔

دنیا میں موجود اتنے سارے نیلے پاسپورٹ کو دیکھتے ہوئے ہمیں 19ویں صدی کا پروشیا یاد آجاتا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو امتیازی طور پر بے تحاشہ اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک چور نے ہر وہ اعزاز چرالیا جس تک اس کی رسائی ہوئی لیکن اس نے پروشیئن ایوارڈ چھوڑ دیا کیونکہ وہ اس کے پاس پہلے سے موجود تھا۔

میاں نواز شریف روایتی سبز پاسپورٹ کے بغیر 3 سال سے لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ لیکن اب جبکہ وہ قانونی طور پر پاکستان آسکتے ہیں تو کیا وہ پاکستان آئیں گے اور آئیں گے تو کس لیے؟

نواز شریف کے ساتھ جس تواتر سے مشاورت کی جارہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ شہباز شریف کی کرسی کے پیچھے اصل قوت وہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو قومی خزانے کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ یہ دونوں ایک ہی ملک میں رہیں۔

اگر نواز شریف واپس بھی آئے تو کس منصب پر آئیں گے؟ ظاہر ہے کہ وہ وزیرِاعظم کی کرسی پر تو بیٹھیں گے نہیں۔ وہ پہلے ہی اس کرسی پر 3 مرتبہ بیٹھ چکے ہیں۔ اس مرتبہ یہ صدارت کی کرسی ہونی چاہیے، وہ بھی تمام تر تعیش اور شاہانہ انداز کے ساتھ۔ پھر 18ویں ترمیم کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کی حکومت پر 2-58 (بی) کی تلوار چلانے سے بھی بچ جائیں گے جو پہلے ان کی حکومت پر بھی چل چکی ہے۔

اس وقت جو چیز نواز شریف اور صدارت کے عہدے کے درمیان حائل ہے وہ موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی ضد ہے۔ وہ عہدہ صدارت پر 2 سال پورے کرچکے ہیں اور پینشن اور دیگر مراعات کے اہل ہوگئے ہیں۔

اس دوران لندن میں نواز شریف اپنا وقت اس کھیل کو دیکھنے میں گزار رہے ہوں گے جو ان کا بھی جنون ہے اور عمران خان کا بھی، یعنی کرکٹ۔ اپنے لاکھوں ہم وطنوں کی طرح وہ بھی ہماری قومی ٹی20 ٹیم کو میلبرن میں کامیابی کے اتنے قریب آنے کے بعد برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے 2 پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی وجہ سے ہارجانے پر افسردہ ہوں گے۔

پاکستان میں ایسا کوئی فرد نہیں ہوگا جس نے شاہین شاہ آفریدی کے گھٹنے میں ہونے والی انجری کا درد محسوس نہ کیا ہو اور جسے افتخار کی جانب سے شاہین کے ماندہ اوور میں دیے گئے 13 اہم ترین رنز بھول گئے ہوں۔ ہماری ٹیم نے قابلِ ستائش جوش اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی کوششوں کی پذیرائی کرنی چاہیے۔ اس ٹیم نے ٹرافی تو نہیں جیتی لیکن ہماری نظروں میں اس ٹیم کی عزت بہت بڑھ گئی ہے۔

اس بارے میں بہت لطیفے بیان کیے گئے کہ اگر بابر اعظم یہ ورلڈ کپ جیت جاتے تو وہ ہمارے مستقبل کے وزیرِاعظم بننے کے لیے کوالیفائی کرجاتے۔ لیکن اس کے امکان بہت کم ہیں اور یہ بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی نواز شریف کی جوانی کی خواہش جیسا ہی ہے۔

1997ء میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے سرکاری دورے سے ٹھیک پہلے میری میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ 1960ء کی دہائی کے وسط میں وہ خاص طور پر میرے بڑے بھائی کو کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے لاہور جیم خانہ گئے تھے۔

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں بھی کرکٹ کھیلتا ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ ’نہیں‘۔ انہوں نے زور دیا کہ میں یہ کھیلا کروں اور کہا کہ ’یہ ایک اچھا کھیل ہے‘۔ میں نے جواب دیا کہ چونکہ وہ وزیرِاعظم ہیں اس وجہ سے ان کے الفاظ میرے لیے حکم کا درجہ رکھتے ہیں لیکن میری عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں مجھ سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں رکھنی چاہئیں۔

تو بس نواز شریف جب بھی اپنے بلیو پاسپورٹ پر وطن واپس آنے کا فیصلہ کریں تو ملک کو ان سے بہت زیادہ امیدیں نہیں لگانی چاہئیں، اس عمر میں تو بالکل بھی نہیں۔ اب ان کی واحد دلچسپی صدارتی پویلین میں بیٹھ کر کھیلنا ہی ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

طاقت کا کھیل تماشہ جہاں کچھ کردار مُہرے تو کچھ کٹھ پُتلیاں

کل ایک ٹویٹ دیکھنے کو ملا جس میں پرنس کریم آغا خان کو یہ کہتے …