جمعہ , 9 دسمبر 2022

چین کے بحری جہاز انڈیا کے ممکنہ میزائل تجربے کی راہ میں کیسے رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

(شکیل اختر)

انڈیا گذشتہ ہفتے اڑیسہ کے ساحل میں واقع ایک جزیرے سے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کرنے والا تھا لیکن بظاہر بحر ہند میں چین کے ایک جہاز کی موجودگی کے سبب یہ تجربہ مؤخر کرنا پڑا ہے۔ تجربے کے لیے انڈیا نے دوبارہ نوفلائی زون کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، لیکن اطلاعات ہیں کہ اسی دوران چین کا ایک اور بحری جہاز بحر ہند کے خطے میں داخل ہو گیا ہے۔

انڈیا نے میزائل ٹیسٹ کے لیے 23، 24 نومبر کے لیے نو فلائی زون کا جو نیا نوٹس جاری کیا ہے جو خلیج بنگال سے لے کر سری لنکا سے قریب تک کے خطے تک پھیلا ہوا ہے۔ نو فلائی نوٹس عموماً اس نوعیت کے کسی بھی تجربے سے قبل پیشگی جاری کیا جاتا ہے اور اسے ’نوٹیم‘ یعنی ’نوٹس ٹو ایئرمین‘ کہا جاتا ہے۔

دفاعی نوعیت کی معلومات حاصل کرنے والے سرکردہ ماہر ڈیمئن سائمن نے 12 نومبر کو ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’انڈیا نے خلیج بنگال میں نو فلائی زون کا دوبارہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ یہ آئندہ دنوں کے دوران میزائل ٹیسٹ کیے جانے کا اشارہ ہے۔

یہ نوٹس ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب میزائلوں کے تجربے اور سٹیلائٹس لانچ کی تفصیلات جمع کرنے والے دو چینی تحقیقی بحری جہاز بحر ہند کے خطے میں موجود ہیں۔‘

انڈیا نے گذشتہ ہفتے 10 اور 11 نومبر کے لیے بھی نو فلائی زون کا نوٹس دیا تھا مگر بحیرہ ہند میں چینی بحری جہاز کی موجودگی کی وجہ سے اس کی تاریخ تبدیل کر دی گئی ہے

اہم بات یہ ہے کہ انڈیا نے گذشتہ ہفتے 10 اور 11 نومبر کے لیے بھی نو فلائی زون کا نوٹس دیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نوٹس میزائل کے تجربے کے لیے تھا لیکن اُس وقت بحر ہند میں چینی تحقیقی جہاز یوان وانگ – 6 کی آمد سے یہ تجربہ موخر کرنا پڑا تھا۔

گذشتہ جمعرات کو وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے میزائل کے تجربے کو مؤخر کیے جانے سے متعلق ایک سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا لیکن انھوں نے کہا کہ ’ہماری ایجنسیوں کو معلوم ہے کہ چینی بحری جہاز کہاں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری سکیورٹی کے اداروں کو جو بھی قدم اٹھانے ہوتے ہیں وہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ ہمارے متعلقہ ادارے ہمیشہ چوکس اور خبردار رہتے ہیں اور ضرورت کے مطابق اقدامات کرتے ہیں۔ سکیورٹی کے معاملات میں اس سےزیادہ کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔‘

انڈیا کی طرف سے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے اس کا دائرہ 2250 کلو میٹر تک خلیج بنگال میں اڑیسہ کے سمندر میں واقع میزائل تجربہ گاہ مرکز سے لے کر سری لنکا کے سمندر میں نیچے تک پھیلا ہوا ہے۔

دفاعی امور کے سرکردہ ماہر راہل بیدی کہتے ہیں کہ ’میزائل ٹیسٹ بہت خفیہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور حکومتیں اس کے بارے میں زیادہ نہیں بتاتیں۔ لیکن انڈیا نے نو فلائی زون کا جو نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس کی رینج تقریباً 2250 کلو میٹر ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ٹسٹ اگنی ساخت کے بین براعظمی میزائل کا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ میزائل اس رینج میں فٹ بیٹھتا ہے۔‘

پوری دنیا میں سمندر میں ہر طرح کے بحری جہازوں کی آمد ورفت پر نظر رکھنے والی ویب سائیٹ ’میرین ٹریفک‘ نے چار نومبر کو بتایا تھا کہ چینی بحری جہاز یوان وانگ -6 انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے سمندر سے بحر ہند کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ویب سائیٹ کی پیر تک فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق وانگ -6 کے ساتھ اب یوان وانگ -5 بھی بحر ہند کے خطے میں کہیں موجود ہے۔ یوان وانگ -5 گذشتہ اگست میں سری لنکا کی بندرگاہ ہمبن ٹوٹا پر کچھ دنوں کے لیے لنگر انداز ہوا تھا۔

اس وقت انڈیا میں اس کے بارے میں کافی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہ شک ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ تحقیقی جہاز انڈیا کے سٹیلائٹ لانچ وغیرہ کی جاسوسی کے لیے وہاں آیا ہے۔ چین نے اس کی تردید کی تھی اور اسے معول کی پورٹ کال بتایا تھا۔

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’یوان وانگ -6 جدید قسم کے سینسر، ریڈار اور آلات سے لیس ہے۔ یہ طویل دوری کے بیلسٹک میزائل کی تجربے اور سٹیللائٹ لانچ کی تفصیلات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیقی جہاز بڑے جہازوں میں شمار ہوتے ہیں اور اس پر چینی بحریہ کے تقریباً 450 ماہرین مامور ہیں۔ چین کے پاس اس طرح کے چھ بحری جہاز ہیں۔‘

ان جہازوں کی نوعیت تحقیقی قسم کی ہے اور تکنیکی اعتبار سے یہ فوجی جہازوں کے زمرے میں نہیں آتے اس لیے انھیں بین الاقوامی سمندر کے ساتھ ساتھ ملکوں کے خصوصی اقتصادی زون میں بھی آنے کا اختیار حاصل ہے۔

انڈیا کا اقتصادی زون سمندر میں 200 ناٹیکل میل تک پھیلا ہو اہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ چینی بحری جہاڑ انڈیا کے افتصادی زون میں داخل ہوں گے یا نہیں۔ انڈیا کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر ملکی جہاز کو پیشگی اجازت کے بغیر تحقیق، سروے یا مہم جوئی کی ممانعت ہے اور اگر کوئی بھی جہاز انڈیا کے خطے میں داخل ہوگا تو اسے انڈین بحریہ روکنے کی کوشش کرے گی۔

چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں سات نومبر کو شائع ایک مضمون میں شینگہوا یونیورسٹی میں نیشنل سٹرٹیجی انسٹیٹیوٹ کے سربراہ کیانگ فینگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’یہ چین سے تعلقات کے ضمن میں انڈیا کی کم اعتمادی کا عکاس ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ یوان وانگ جنگی جہاز نہیں ہے اور اگر وہ انڈیا کے خطے سے کوئی خطرہ پیدا کیے بغیر گزر رہا ہے تو یہ بالکل معمول کی بات ہے اور پوری طرح جائز ہے۔‘

اب جب کہ انڈیا نے میزائل ٹیسٹ کے لیے 23، 24 نومبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے مگر چین کے دو جہاز بحر ہند میں کب تک موجود رہیں گے یہ واضح نہیں ہے۔

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبریں ہیں کہ یہ جہاز چین کے خلائی راکٹ کو ٹریک کرنے کے لیے اس خطے میں آئے ہیں، یہ راکٹ آئندہ چند دنوں میں لانچ کیے جانے ہیں۔

راہل کا کہنا ہے کہ چین کو انڈیا کے میزائلوں پر نظر رکھنے کے لیے ان جہازوں کو یہاں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’اس کے پاس خلا میں طاقتور مصنوعی سیارے موجود ہیں جو انڈیا کے میزائل ٹیسٹ اور سٹیلائٹ لانچ کو آسانی سے ٹریک کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ جہاز میزائل ٹسٹ کی آئندہ تاریخ تک انڈین خطے کے آس پاس کہیں لنگر انداز رہے تو انڈیا کے لیے یہ ایک نئی مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کی موجودگی کے سبب ہی پچھلے ہفتے میزائل ٹیسٹ کو موخر کرنا پڑا تھا۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …