بدھ , 7 دسمبر 2022

امریکہ کے جنگی جرائم

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر اقتصادیات نے امریکی فوج کے بیس سال کے قبضے کو اس ملک کے اقتصادی ڈھانچے کی تباہی کا بنیادی سبب قرار دیا ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر اقتصادیات قاری دین محمد حنیف نے کہا کہ اس ملک پر امریکہ کی بیس سالہ موجودگی اور قبضے کے دوران افغانستان کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، بلکہ انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔ افغانستان کے نقل و حمل کے راستوں کی حالت اور افغان عوام کے حالات زندگی کا تجزیہ کرتے ہوئے حنیف نے مزید کہا کہ قبضے کے دوران نہ صرف ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر کو نظر انداز کیا گیا بلکہ پیداوار کے لیے معاشی مراعات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ طالبان حکومت کے اقتصادی وزیر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ افغانستان پر قبضے کے دوران ہم نے اس ملک میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا اور اس وقت افغانستان میں نشے کے عادی افراد کی تعداد چار سے ساڑھے چار ملین کے درمیان ہے اور یہ امریکی قبضے کا نتیجہ ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر اقتصادیات کے اس ملک پر امریکی قبضے کے دوران افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بارے میں بیانات ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے افغانستان کی ترقی پر کئی دہائیوں تک تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

11 ستمبر 2001ء کے واقعے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور نیٹو ممبران کے ساتھ مل کر اس ملک میں اپنی ناکام موجودگی کے بیس برسوں میں عدم تحفظ اور تباہی کی ایک عبرتناک وراثت چھوڑی۔ امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں موجودگی کے دوران وہ پوست کی کاشت کے کھیتوں کو تباہ کرکے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو ختم کر دے گا اور منشیات کی اسمگلنگ اور دوسرے ممالک کو آمدورفت کو روکے گا، جبکہ گذشتہ بیس سالوں میں نہ دہشت گردی کو تباہ کیا گیا ہے اور نہ ڈرگ مافیا پر کنٹرول حاصل کیا گیا بلکہ اس وقت افغانستان میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا راج ہے۔ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے افغانستان پر قبضے کے دوران اس ملک میں منشیات کی پیداوار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے اور پوست کی زیر کاشت زمین میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کا افغانستان میں فوج بھیجنے کا ایک اور خیالی وعدہ، جمہوریت کا قیام تھا، جس کے نتیجے میں اس ملک کے ہزاروں بے گناہ اور مظلوم عوام کا قتل عام کیا گیا، لیکن افغانستان میں یہ جمہوری منصوبہ کبھی عملی جامہ نہ پہن سکا۔ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ نے قبضے کے بعد کے عرصے میں اپنی پابندیوں اور افغان اثاثوں کی ناکہ بندی کی پالیسی سے اس ملک کے عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لوگوں کو یہ توقع تھی کہ امریکہ اس ملک سے نکلنے کے بعد اس ملک کے عوام اور حکومت کو افغانستان میں بے نتیجہ جنگ کا معاوضہ ادا کرے گا۔ دریں اثناء، افغانستان کی صحت عامہ کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اس ملک کی 35 ملین آبادی میں سے 46 فیصد امریکی جنگ کی وجہ سے صحت و سلامتی سے محروم ہیں۔ ان میں سے تقریباً 72% خواتین اور 60% مرد ہیں۔

اس تناظر میں، شمالی افغانستان کے صوبہ بلخ میں دماغی صحت کے ماہر ڈاکٹر فریدون لطیفی کہتے ہیں: "بدقسمتی سے، بے روزگاری کی بلند شرح، ٹوٹی پھوٹی معیشت اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے مزار شریف میں دماغی صحت کی صورتحال ابتر ہوگئی ہے اور اس علاقے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ خواتین اور نوجوان ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا کی سب سے کمزور معیشتوں میں سے ایک ہے اور اس ملک کی تقریباً نصف آبادی (47.3%) مطلق غربت میں زندگی گزار رہی ہے اور اس ملک میں سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح تقریباً 11.7% اور اس ملک میں تقریباً 34.3% کارکن روزانہ بہت کم کماتے ہیں۔ افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے امریکی فوجیوں کا ٹرائل، ہلاک شدگان کے خاندانوں کو جنگی معاوضے کی ادائیگی اور ذہنی اور جسمانی طور پر زخمی ہونے والوں کی صحت کے اخراجات کی ادائیگی سمیت اس ملک کے عوام کے متعدد مطالبات ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور اس کے اتحادیوں نے بیس سال کے قبضے میں عصمت دری، تباہی اور قتل و غارت کے علاوہ افغانستان میں کچھ نہیں کیا۔ افغانستان میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی بنا پر امریکی فوجی کمانڈروں پر کریمینل لائیبلٹی عائد ہونے کے علاوہ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بھی تفتیش کی جدید ترین ٹیکنیکوں اور تشدد کی اجازت دینے کی بنا پر اس سلسلے میں جوابدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سی آئی اے کے ملازمین کے ہاتھوں جنگي قیدیوں پر جان لیوا تشدد اور تفتیش امریکی حکومت کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا سے افغانستان میں امریکہ کے جنگی جرائم کے بارے میں انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کی تحقیقات کا راستہ مزید صاف ہوگیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کے جنگی جرائم کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے اقدامات اس کورٹ کے لئے ایک آزمائش شمار ہوتے ہیں، کیونکہ اس کورٹ پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے اب تک عموماً افریقہ کے مسائل کے بارے میں بھی ہی کردار ادا کیا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں بڑی طاقتوں کے جرائم سے چشم پوشی کر رکھی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

یوکرین اور روس کے ہمسایہ ملک پولینڈ کو جنوبی کوریا کے ہتھیاروں کی پہلی کھیپ موصول

وارسا :یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ کو منگل کے روز ٹینکوں اور ہووٹزروں کی پہلی …