جمعرات , 8 دسمبر 2022

یمن میں آل سعود کے ہاتھوں 8 ہزار سے زائد بچوں کا قتل:قانونی تنظیم انتصاف

صنعا:یمنی خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم قانونی تنظیم "انتصاف” نے امریکہ کی قیادت میں جارح سعودی اماراتی اتحاد کے جرائم پر ایک نئی رپورٹ شائع کی ہے۔اس رپورٹ میں اس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں اس جارحیت کے آغاز سے لے کر آج تک آٹھ سال کے دوران آٹھ ہزار 116 بچے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

المیادین نیوز چینل نے انتساف کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یوم اطفال کے موقع پر جو کل پیر ہے، بتایا جائے کہ سعودی عرب نے 3,860 یمنی بچوں کو شہید اور ان میں سے 4,256 کو زخمی کیا ہے۔

اس تنظیم کے مطابق اس اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں چھ ہزار شہری معذور ہوئے ہیں، جن میں پانچ ہزار 559 بچے تھے۔

انتصاف نے یہ بھی بتایا کہ ایک ملین 400 ہزار یمنی بچے اپنے آسان ترین حقوق سے محروم ہیں اور پانچ سال سے کم عمر کے 20 لاکھ 300 ہزار سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے روزانہ 80 سے زائد بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ اس طرح کہ ہر سال 39% یمنی بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن میں خواتین اور بچوں کے خلاف تمام جرائم کا ذمہ دار سعودی اتحاد ہے، انصاف نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

اس سلسلے میں یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کی وزارت صحت کے مشیر ڈاکٹر نجیب القباتی نے کہا کہ 39 فیصد نوزائیدہ بچے قبل از وقت ہوتے ہیں جو کہ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

ان کے مطابق سعودی اتحاد کی جارحیت اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال یمن میں قبل از وقت بچوں کی پیدائش کی بڑی وجہ ہے۔ وہ ہتھیار جن کی یمنی جنگ میں انسانی حقوق کے اداروں نے بارہا اطلاع دی ہے اور ان کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کی فہرست جاری،پاکستان کا نمبر کونسا؟

اسلام آباد:دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ کی فہرست میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) …