پیر , 28 نومبر 2022

امریکا پاکستان کے دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن: امریکا کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی خطے میں ہمارا ایک اہم ترین اور قابل قدر اتحادی ملک ہے۔ذرائع کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت ایک عالمی شراکت دار جب کہ پاکستان ایک حساس خطے میں ہمارا قابل قدر اتحادی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے پرنسپل نائب ترجمان نے بھارت کے ساتھ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف خطے میں بلکہ امریکی پالیسیوں اور مشترکہ ترجیحات کے اعتبار سے انڈیا عالمی سطح پر امریکا کا ایک انمول شراکت دار ہے۔

جب اُن سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے دیرینہ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس نے ہمیشہ ایک خوشحال اور جمہوری پاکستان کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھا ہے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر محکمہ خارجہ کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ پاکستان اب بھی حساس خطے میں امریکا کا اہم ترین اور قابل قدر اتحادی ملک ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے پاکستان میں داخلی سیاسی تبدیلیاں امریکا کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ داخلی سیاسی تبدیلیوں سے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی امریکی خواہش میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے اور افغانستان کو مستحکم کرنے میں ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ اپنے حالیہ بیانات میں امریکی حکام کا اصرار رہا ہے کہ وہ اب پاکستان کو بھارت یا افغانستان کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ وہ پاکستان کو 220 ملین سے زیادہ آبادی والے جوہری صلاحیت کے حامل ایک اہم ملک کے طور پر تسلیم کرتے ہیں جس کی سرحدیں خطے کے اہم ممالک بھارت، چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

پاکستان کے ساتھ تجارت کے حوالے سے محکمہ خارجہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک امریکا رہا ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، موسمیاتی بحران سے نمٹنے، افغانستان میں استحکام اور انسداد دہشت گردی تک کے وسیع مسائل پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں جنوبی ایشیائی امور کے 10 امریکی اسکالرز نے نوٹ کیا کہ گزشتہ دہائی کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات کے کئی پہلو بدلے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکا اور بھارت کا اتحاد مستحکم ہوا ہے جب کہ چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے جو اس جانب نشاندہی کرتے ہیں کہ چین پر قابو پانے کی امریکی خواہش نے اسے بھارت کے قریب کیا ہے۔

امریکی اسکالرز نے یہ بھی نوٹ کیا کہ روس اور چین کے ساتھ جغرافیائی تزویراتی مقابلہ جس میں پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے پائیدار تعلقات کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک مناسب لمحہ ہو سکتا ہے۔

امریکی ماہرین نے تجویز دی کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایک معمولی لیکن عملی تعلقات ہوں جس میں فریقین مبالغہ سے بھرے توقعات نہ رکھیں اور دونوں کو یہ سمجھنا ہوں کہ وہ افغانستان کے بارے میں الگ الگ رائے رکھتے ہیں لیکن دونوں افغانستان میں نہ صرف امن برقرار رکھنے کے لیے تعاون کر سکتے ہیں بلکہ افغان عوام کی تکالیف کو دور کرسکتے ہیں۔

امریکی تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ اور مقبول بیانیہ کی سطح پر بھارت و امریکا کے بارے میں رویے بتدریج بدلیں گے اور مزید یہ کہ امریکا اور پاکستان دونوں میں رائے عامہ دو طرفہ تعلقات میں رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کو اپنے نمائندوں کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے روکیں: طالبان

کابل:افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شرعی سزاؤں کے نفاذ پر …