بدھ , 7 دسمبر 2022

سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے کو مسترد کردیا

ریاض:سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پیر کی شب ریاض اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا۔سعودی عرب اور اوہیک+ کے درمیان 500,000 بیرل یومیہ اضافے کے جائزے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔

اس موقف کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: "یہ بہت واضح ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ اوپیک+ اپنی میٹنگ سے پہلے کسی فیصلے پر نظرثانی نہیں کرتا ہے۔”بن سلمان نے کہا: یومیہ 2 ملین بیرل کم کرنے کا فیصلہ، جو اوپیک + نے لیا تھا، 2023 کے آخر تک جاری رہے گا۔

سعودی وزیر توانائی نے مزید کہا: "اگر ہمیں تیل کی طلب اور رسد کے درمیان توازن بحال کرنے کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تو ہم اس معاملے میں کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”

بن سلمان کے الفاظ اس وقت سامنے آئے جب امریکی وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ 4 دسمبر کو ہونے والے اوپیک پلس اجلاس میں یومیہ 500,000 بیرل پیداوار بڑھانے کے معاملے پر بات ہوگی۔

اوپیک+ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کمی کرے گا، اور یہ اقدام، جسے کورونا وبا کے بعد سب سے بڑی کمی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر امریکی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا جو اپنے ملک میں پٹرول کی قیمت میں اضافے سے پریشان تھے۔

واشنگٹن کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا خیال ہے کہ امریکہ کو اوپیک+ کے فیصلے کی روشنی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

کربی نے مزید کہا: میں سمجھتا ہوں کہ صدر نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ان تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ہم اس کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ڈیموکریٹک چیئرمین باب مینینڈیز نے بھی ریاض کو ہتھیاروں کی فروخت سمیت سعودی عرب کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ کنیکٹی کٹ کے سینیٹر کرس مرفی نے سعودی مخالف ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی 20 لاکھ بیرل کی پیداوار میں اچانک کمی کی روشنی میں امریکہ کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

یہ معاہدہ زیادہ پیداوار کے لیے امریکا اور دیگر ممالک کے دباؤ کے باوجود طے پایا، اور اس نے مارکیٹ میں سپلائی کو مزید محدود کر دیا، جو کہ ابھی تک تنگ جگہ پر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی پر ٹیکس فراڈ کے الزامات ثابت ہو گئے

نیویارک: امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی پر ٹیکس فراڈ کے الزامات ثابت …