جمعہ , 9 دسمبر 2022

اسرائیل، بچوں کی قاتل رژیم کیوں؟

(تحریر: فاطمہ محمدی)

کوئی دن ایسا نہیں جب عالمی ذرائع ابلاغ میں غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں بیگناہ فلسطینی شہریوں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی شہادت کی خبر نہ ملتی ہو۔ اب تک دنیا والے پانچ سالہ معصوم فلسطینی بچی آلا قدوم کا چہرہ نہیں بھول پائے ہیں۔ اگست کے شروع میں قاتل صیہونی رژیم کے ہرکاروں نے غزہ کی پانچ سالہ معصوم بچی کو شجاعیہ محلے کی مسجد ابوسمرہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے نشانہ بنایا اور انتہائی بے دردی سے اسے شہید کر ڈالا۔ اسی مہینے چند دیگر معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل بھی غاصب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات میں اضافہ ہو گیا۔ چار سالہ جمیل نجم، پندرہ سالہ جمیل ایہاب نجم، سترہ سالہ محمد صلاح نجم، سولہ سالہ حامد حیدر نجم اور سولہ سالہ نظمی فائز ابوکرش۔ یہ بچے غزہ پر غاصب صیہونی رژیم کے جنگی طیاروں کی بمباری میں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔

صیہونی حکام ایک ہفتے کے مسلسل انکار کے بعد آخرکار اس اعتراف پر مجبور ہو گئے کہ وہ ان پانچ فلسطینی بچوں کی شہادت کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بچے فلوجہ قبرستان میں کھیلنے میں مصروف تھے اور ہر گز یہ تصور بھی نہیں کر رہے تھے کہ کچھ لمحوں بعد یہیں ان کی بھی قبر بنا دی جائے گی۔ غاصب صیہونی رژیم نے جب بھی غزہ کی پٹی پر جارحیت کی ہے فلسطینی بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ سالانہ دسیوں فلسطینی بچے صیہونی رژیم کی بربریت کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق 2000ء سے 2021ء کے آخر تک اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم 2 ہزار 230 فلسطینی بچوں کو شہید کر چکی ہے۔ ان میں سے 315 بچے 2009ء میں غزہ پر صیہونی جارحیت کے دوران شہید ہوئے ہیں۔

2014ء میں غزہ کی پٹی پر صیہونی رژیم کی جارحیت کے دوران 546 فلسطینی بچے شہید ہوئے جبکہ مئی 2021ء میں غزہ پر گیارہ روزہ صیہونی جارحیت میں بھی فلسطینی بچوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس جنگ میں صیہونی بمباری نے سینکڑوں فلسطینی شہریوں کی جان لے لی جن کی تعداد 232 بتائی جاتی ہے اور ان میں 65 بچے بھی شامل ہیں۔ غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی بچوں کا قتل عام اس قدر واضح ہے کہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھی اس کا نوٹس لے چکے ہیں۔ حالیہ برس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتھونیو گوتریش نے اپنی سالانہ رپورٹ میں "بچے اور مسلح جھڑپیں” کے عنوان سے غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں بچوں کے قتل عام کا جائزہ لیا ہے۔

45 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: "اسرائیل 2021ء میں مقبوضہ فلسطین میں 78 بچوں کے قتل اور 982 بچوں کے معذور ہونے کا ذمہ دار ہے۔” اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اس رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی رژیم نے 85 فلسطینی بچوں کو قیدی بنایا اور ان سے بدسلوکی بھی کی۔ اسی طرح قیدی بنائے گئے بچوں میں سے 75 فیصد نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان پر جسمانی تشدد کیا گیا ہے۔ اینتھونیو گوتریش کی رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ فلسطین میں مجموعی طور پر 1 ہزار 128 بچے معذور ہوئے ہیں جن میں سے 1 ہزار 121 بچے فلسطینی اور 7 بچے اسرائیلی ہیں۔ معذور ہونے والے فلسطینی بچوں میں سے 661 کا تعلق غزہ کی پٹی، 464 کا تعلق مغربی کنارے اور باقیوں کا تعلق مشرقی بیت المقدس سے ہے۔

ایک طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم ہمیشہ مختلف فلسطینی علاقوں پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کی بھینٹ چڑھنے والے افراد میں زیادہ تر بچے دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف مغربی حکومتوں نے مجرمانہ اور پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ خود کو دنیا میں انسانی حقوق کی علمبردار بھی ظاہر کرتی ہیں۔ مغربی ممالک نے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی ظلم و ستم پر یوں آنکھیں بند کر رکھی ہیں گویا کسی قسم کا مجرمانہ اقدام انجام ہی نہیں پایا۔ ایسے میں یہی مغربی ممالک اپنے مخالف ممالک خاص طور پر اسلامی ممالک میں انسانی حقوق کے دفاع کے بہانے آئے دن مداخلت کرتے رہتے ہیں اور مقبوضہ فلسطین میں صیہونی رژیم کے واضح ظلم و ستم کے باوجود ہمیشہ اس مجرم رژیم کی حمایت کرتے رہتے ہیں۔

عالمی اداروں جیسے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات پر واضح موقف اختیار کریں اور عالمی طاقتوں کے دباو میں آئے بغیر قانون کے تقاضے پورے کریں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی قومی سلامتی میں شدید سیاست بازی کے باعث کبھی بھی اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور نہیں کی جاتی۔ ہیومن رائٹس واچ ہر سال اپنی رپورٹ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی بچوں کے قتل و غارت کی جانب اشارہ کرتا ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ 22 سال میں 2500 فلسطینی بچوں کی شہادت کے بعد کتنے اور فلسطینی بچے اس ظلم و ستم کی بھینٹ چڑھیں گے تاکہ عالمی برادری، اقوام متحدہ کی قومی سلامتی اور انسانی حقوق کی کونسل اس خونخوار رژیم کو لگا ڈالے؟بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جرمنی: تختہ الٹنے کی مبینہ سازش

(پال کربی) حراست میں لیے جانے والے افراد میں خود کو ہنریک دواز دہم کہلوانے …