منگل , 29 نومبر 2022

امریکہ کرد ملیشیا کو مسلح کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے:اردگان

انقرہ:ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک بار پھر شمالی شام میں کرد ملیشیا گروپوں کی حمایت اور انہیں ہتھیار بھیجنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اردگان نے پیر کی شام "اناطولیہ” خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومتوں نے حالیہ برسوں میں شامی کرد ملیشیا کو گولہ بارود کے ہزاروں ٹرک فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: "ہمیں اس بات سے دکھ ہوا ہے کہ نیٹو اتحاد میں شامل ترکی کے ایک اتحادی نے شام کے ان علاقوں میں گولہ بارود اور ہتھیاروں سے بھرے ہزاروں ٹرک پہنچائے ہیں جہاں حالیہ برسوں میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔”

اس رپورٹ کے مطابق، ترکی کے صدر نے کہا: "یہ راستہ براک اوباما کے دور صدارت سے جاری ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی جاری رہا، اور جو بائیڈن کے دور میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”

ایردوان نے کہا کہ انقرہ نے شام کے معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار واشنگٹن کے سامنے کیا ہے اور کہا: "میں نے ذاتی طور پر اوباما، ٹرمپ اور بائیڈن کے ساتھ بات چیت میں اس مسئلے کو اٹھایا اور وضاحت کی کہ اگر ہم نیٹو کے اتحادی اور پارٹنر ہیں تو ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔ شام میں دہشت گردوں کی امریکی حمایت ترکی کی جنوبی سرحدوں کے لیے خطرہ ہے۔ اگر ضروری ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔”

اناطولی کے مطابق، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی فریق کے پاس انقرہ کو جواب دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، انھوں نے مزید کہا: "ہم ترکی کی قومی سلامتی کی ضرورت کے مطابق اپنے اقدامات جاری رکھیں گے۔ ہم کوئی پوائنٹ نہیں دیتے۔ کیونکہ ہمارے ملک کے لیے کسی بھی پوزیشن کی تبدیلی کے ساتھ مسائل پیدا ہوں گے۔

گزشتہ روز ترکی کے صدر نے کہا کہ شمالی شام اور عراق میں آپریشن صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں رہے گا، اور کہا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے کے لیے زمینی افواج کی تعداد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یوم بحریہ کے موقع بحریہ کے کمانڈروں کی آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات

تہران:رہبرانقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای …