اتوار , 27 نومبر 2022

امریکہ کی ایران کے عوام سے دشمنی کی تاریخ

(تحریر: سید انجم رضا)

امریکی اپنے پروپیگنڈے میں جاسوسی کے مرکز (امریکی سفارت خانے) پر قبضہ ہو جانے کے واقعے کو ملت ایران اور امریکہ کے مابین ‏دشمنی ‏کی شروعات ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ان کا جھوٹ ہے۔ ملت ایران اور امریکہ کے درمیان 19 اگست 1953ء کی بغاوت سے مشکلات شروع ہوئیں، جب منتخب حکومت امریکہ کی مدد سے گرائی گئی، محمد مصدق ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم تھے۔ 1953ء میں سی آئی اے نے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ تقریباً دس سال بعد 1963ء میں، محمد رضا پہلوی، ایران کے شاہ نے ایران میں کئی جدید اصلاحات شروع کیں، جنہیں "شاہ اور عوام کا انقلاب” یا سفید انقلاب کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ منصوبے ایران میں سماجی اور معاشی تبدیلیوں کے دعوؤں پر مبنی تھے۔ چنانچہ 26 جنوری 1963ء کو شاہ نے سفید انقلاب کے 19 قوانین کے لیے قومی ریفرنڈم کرایا۔ رضا شاہ پہلوی نے اس انقلاب کا اعلان جدیدیت کے راستے کے طور پر کیا۔ اس کے علاوہ دیگر ذرائع کا خیال ہے کہ شاہ اپنے سفید انقلاب سے پہلوی خاندان کو قانونی حیثیت دے سکتا ہے۔ انقلاب نے محمد رضا پہلوی اور حوزہ علمیہ کے علماء کے درمیان گہری دراڑ پیدا کردی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تبدیلیاں اسلام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ان میں سب سے نمایاں شخصیت آیت اللہ العظمیٰ امام روح اللہ خمینی تھے، جنہوں نے قم میں دیگر مراجع اور علماء کے ساتھ ملاقات کی اور انقلاب کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ بائیس 22 جنوری 1963ء کو امام خمینی نے ایک لفظی اعلامیہ جاری کیا، جس میں شاہ اور ان کے منصوبوں کی مذمت کی گئی۔ امام خمینی نے شاہ کے پروگراموں کی مذمت جاری رکھی۔ آپ نے ایک منشور جاری کیا، جس میں آٹھ دیگر سینیئر مذہبی اسکالرز کے دستخط بھی تھے۔ اس میں شاہ کے مختلف جرائم کو بیان کیا گیا تھا، جن میں شاہ نے آئین کی خلاف ورزی کی، ملک میں اخلاقی بدعنوانی کے پھیلاؤ کی مذمت کی اور شاہ پر ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حوالے کرنے کا الزام لگایا۔ 3 جون 1963ء کی سہ پہر، عاشورہ، امام خمینی نے مدرسہ فیضیہ قم المقدسہ میں ایک تقریر کی، جس میں انہوں نے اموی ملوکیت اور شاہ کے درمیان مماثلت کھینچی۔ آپ نے شاہ کو ایک "بدبخت، دکھی آدمی” قرار دیا اور اسے خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنے طریقے نہ بدلے تو وہ دن آئے گا، جب لوگ ملک سے باہر جانے کے لیے شکریہ ادا کریں گے۔

امام خمینی کی اس تقرىر نے تخت شاہی کو ہلا كر ركھ دىا۔ پورا اىران ارتعاش محسوس كرنے لگا۔ سات دن بعد امام خمینى كو گرفتار كركے تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے جلا وطن كر دىا گیا۔ امام ایک سال ترکی میں رہے اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔ عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوشاتو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی رہبری کی، جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے۔ امام خمینى جب یکم فرورى 1979ء كو سولہ سالہ جلا وطنى كے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائى اڈے سے بہشت زہراء كے قبرستان تک لاكھوں ایرانیوں نے ان كا استقبال كیا۔ بعض لوگوں نے یہ تعداد ای كروڑ سے بهى زىادہ لكهى ہے۔

یہ بهى عجیب دن تها، شاہانہ جاہ و جلال ركهنے والا اىک حكمران، امریكہ كى بهرپور سرپرستى، اىک بڑى سپاہ اور ساواک جیسى خونخوار ایجنسى كے باوجود اىک خرقہ پوش كے ہاتهوں شكست كها كر ملک سے فرار ہوچكا تها۔ اس كى نامزد كردہ حكومت خزاں رسیدہ پتے كى طرح كانپ رہى تهى۔ شاہ پور بختىار تمام تر كاغذى اختىارات كے باوجود ردى كے كاغذ كا اىک پرزہ بن چكا تها، جو كسى لمحے کوڑا دان كا رزق بننے والا تها۔ شاہ نے قم كے حوزہ علمیہ فیضیہ كى آواز دبانے كے لیے كیا کیا جتن نہ کیے، كون كون سے مظالم نہ توڑے، لیكن امام خمینى كى آواز نہ دبائى جا سكى۔ امریكہ كى گود مىں بیٹها بادشاہ اہل ایران كى خودى اور ان كى زندگیوں سے كهىل رہا تها۔ امام خمینى كچھ وقت قم میں گزارنے کے بعد تہران آئے تو کہا کہ میں عوام کے درمیان کسی سادہ سے گھر میں رہوں گا۔

رضا شاہ پہلوی کے خلاف امام خمینی (رہ) کا بیانیہ رضا شاہ کے اندرونی جبروت اور بیرونی دنیا میں اس وقت کی دو بڑی طاقتوں روس اور امریکہ کا امریکی حلیف ہونا تھا۔

بی بی سی کے مطابق اکتوبر 1979ء کی بات ہے۔ شاہ محمد رضا پہلوی کو ایران سے فرار ہوئے آٹھ ماہ بیت چکے تھے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی فرانس میں جلاوطنی سے واپس ایران آکر یکم اپریل کو رہبرِ اعلیٰ کے عہدے پر فائض ہوچکے تھے۔ ایسے میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر جارج کیو امریکہ سے تہران پہنچے اور ایران کے عبوری ڈپٹی وزیرِاعظم عباس امیر انتظام اور وزیرِ خارجہ ابراہیم یزدی سے ملاقاتیں کیں۔ انھوں نے دونوں رہنماؤں کو خبردار کیا کہ مصدقہ خفیہ معلومات اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو ملنے والے شواہد کے مطابق ہمسایہ ملک عراق کے صدر صدام حسین خاموشی مگر منظم انداز سے ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اب تک امریکہ کی انقلاب کو ناکام بنانے اور شاہ کو واپس اقتدار میں لانے کی تمام تر امیدیں ماند پڑ چکی تھیں۔

تاہم انہیں اس بات کی امید ضرور تھی کہ وہ تہران میں نئی قیادت کے ساتھ تعلقات استوار کر پائیں گے، ابھرتی ہوئی اسٹیبلشمنٹ میں سے اعتدال پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرسکیں گے اور ایران کو سرحد پار موجود سوویت یونین سے متعلق جاسوسی کرنے کے لیے استعمال کرسکیں گے، جو اس وقت امریکہ کے ایجنڈا پر سرِفہرست تھا۔ تاہم ایران میں انقلابی حکومت سے ایسا کچھ بھی ممکن نہیں ہونے والا تھا۔ اکتوبر میں کیو کی دوسری ملاقات کے دو روز بعد اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر کیسنر کے مرض میں مبتلا شاہ کو نیو یارک سے علاج کرنے کی اجازت دے دی۔ ان کا یہ فیصلہ ایرانیوں کو ہرگز نہ بھایا اور انھوں نے تہران میں مظاہرے شروع کر دیئے، جن کا اختتام ایران میں امریکی سفارت خانے پر چار نومبر کو ہونے والے حملے اور 61 سفارت کاروں اور سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنانے پر ہوا۔ ان غیر معمولی واقعات کے باعث 444 روز تک یرغمال بنائے گئے افراد کے گرد ایک ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی، جس نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایسا تناؤ پیدا کیا، جو آج تک باقی ہے۔

ایران کے انقلابی اس وقت بھی اور آج بھی امریکہ کو "ایک عظیم شیطان” قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کو شاید غلط فہمی تھی کہ کیونکہ شاہ کے خلاف تحریک اور انقلاب پر مقامی ایرانی مذہبی قیادت کی گرفت زیادہ مضبوط ہے اور اس لئے آنے والی مذہبی قوتوں کی حکومت “اینٹی کیمونسٹ” ہونے کی بنا پر لامحالہ ہمارے بلاک میں شامل ہوگی۔ مہدی بازرگان سے بنی صدر تک کی صدارت کا دورانیہ اسی توقع پر رہا،
حالانکہ انقلابیوں کی جانب سے امریکہ کے خلاف سخت ترین بیانیہ اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور امریکہ کی طرف سے ایرانی اثاثہ جات کو منجمند کرنا ، صدام کا ایران پر حملہ کر دینا، یہ اس اوائل انقلاب کے حقائق ہیں۔ بنی صدر اور مجاہدین خلق کی سازشوں نے امریکہ کے خلاف ایرانی مؤقف اور بیانیہ میں مزید شدت پیدا کر دی، اسی طرح جب امریکی حمایت یافتہ خلق نے ایران کی پوری پارلیمنٹ بم دھماکے میں اڑا دی اور آئمہ ہائے جمعہ و جماعت اور انقلاب کے حمایتی اہم شخصیات کو قتل کرنا شروع کر دیا تو ایران کو یقین کامل ہوچکا کہ امریکہ ہی اسلامی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔

مگر اس کے باوجود ایران نے نہ تو ہمسایہ روس کے بلاک سے کوئی تعلق رکھا
بلکہ اپنے "لاشرقیہ ولا غربیہ” کے مؤقف پہ سختی سے قائم رہے۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے انتقال کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای جو کہ رہبر ایران ہیں، اس دوران بھی اور آج بھی ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ چالیس برس کے اس عرصے میں خطے میں افغان جنگ ختم ہونے، طالبان کی پیدائش، روس کا بکھرنا، عرب اسپرنگ اس دوران ایران کا اینٹی امریکہ مؤقف کم و بیش وہی ہے، جو روز اول سے ہے۔ آج ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی دشمنی ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے ہے۔ اسی بنا پر امریکہ ایران کے خلاف ہر جارحانہ قدم اٹھانے کے لئے مختلف سازشیں کرتا رہتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے حالیہ دنوں میں بھی ملاقات کے لئے آنے والے مختلف عوامی طبقات کے اجتماع سے خطاب میں ملت ایران سے امریکہ کی سرکردگی میں سامراج کی دشمنی کی پانچ وجوہات بیان کیں۔

1۔ اسلامی جمہوریہ کی پیشرفت لبرل ڈیموکریسی کے بیانئے پر خط بطلان کھینچ دیتی ہے۔
2۔ اسلامی جمہوریہ سے سامراج کو سب سے زیادہ تکلیف یہ ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ پیشرفت کرے، آگے بڑھے اور دنیا میں بلندی حاصل کر لے تو مغربی دنیا کی لبرل ڈیموکریسی کا بیانیہ بے بنیاد ثابت ہو جائے گا۔
3۔ مغرب والوں نے لبرل ڈیموکریسی کی بیانئے کے ذریعے دو صدی سے زیادہ عرصے تک پوری دنیا کو لوٹا۔ کہیں انھوں نے کہا کہ یہاں آزادی نہیں ہے، کہیں کہا کہ یہاں ڈیموکریسی نہیں ہے اور وہاں گھس گئے۔ ڈیموکریسی قائم کرنے کے بہانے اس ملک کے اثاثوں، اس ملک کے خزانوں، اس ملک کے وسائل کو لوٹا۔ تہی دست یورپ، ہندوستان اور چین جیسے امیر ملکوں کو مٹی میں ملا کر مالامال ہوگيا۔ حالانکہ ایران کو براہ راست نوآبادی نہیں بنایا گيا، لیکن یہاں بھی ان سے جو بن پڑا، انھوں نے کیا۔

4۔ سامنے کی ایک مثال افغانستان ہے۔ امریکی آئے، انھوں نے بیس سال تک افغانستان میں جرائم کیے، طرح طرح کے جرائم کا ارتکاب کیا، پھر بیس سال کے بعد، وہی حکومت افغانستان میں برسر اقتدار آگئی، جس کے خلاف امریکی اس ملک میں گھسے تھے۔ اسی کو حکومت سونپ کر بڑی ذلت کے ساتھ افغانستان سے باہر نکل گئے۔
5۔ اگر دنیا میں ایسی کوئی حکومت یا ایسا کوئی نظام وجود میں آجائے، جو لبرل ڈیموکریسی کے بیانئے کو مسترد کر دے اور ایک حقیقی بیانئے کے ذریعے عوام کو تشخص عطا کرے، اپنے ملک کے عوام کو پہچان عطا کرے، انھیں زندہ کرے، انھیں بیدار کرے، انھیں مضبوط بنائے اور لبرل ڈیموکریسی کے سامنے کھڑا ہو جائے اور اس لبرل ڈیموکریسی کی منطق پر خط بطلان کھینچ دے تو وہ اسلامی جمہوریہ ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے سقوط کا خدشہ

فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کے خاتمے کے بارے میں "اسرائیل” کو امریکا کے انتباہات اور …