اتوار , 27 نومبر 2022

فلسطین میں انسانی حقوق گروپوں کے خلاف نفرت پر اکسانے کی اسرائیلی مہم

یروشلم:صیہونی دائیں بازوسے وابستہ قانون سازوں نے اگلی قابض حکومت کے قیام کے بعد 1948ء کے مقبوضہ فلسطین میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دینا شروع کردیا ہے۔

دائیں بازو کی "مذہبی صیہونیت” کے رہ نما بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ ” بائیں بازو کی تنظیمیں اسرائیل کے لیے ایک خطرہ ہیں اور اگلی حکومت کو ان سے نمٹنا چاہیے۔”

سموٹریچ نے کہا کہ کنیسیٹ (پارلیمنٹ) میں انتہائی دائیں بازو کی "یہاں تک” تنظیم کی طرف سے "حماس کے ذریعے چلائی جانے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں” کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس میں مزید کہا کہ "یہودی ریاست کو ان تنظیموں کے فنڈز کو ضبط کرنا چاہیے اور ان کے خلاف کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کے خلاف کام کررہی ہیں۔

’حتیٰ ھنا‘ نے سنہ 1948ء میں مغربی کنارے اور مقبوضہ علاقوں میں سرگرم انسانی حقوق کی غیر ملکی تنظیموں کے بارے میں عبرانی چینل 13 کے ذریعہ شائع کردہ "ٹکڈ ان” کے عنوان سے ایک سیریز کے بعد اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک نوجوان سویڈش خاتون کو دائیں بازو کی تنظیم "سو ہیر” نے مغربی کنارے میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے اندر سے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔

سموٹریچ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرگرمیاں چھوٹی سے شروع ہوئیں اور آج ہم ان کے خطرے کی طاقت کو سمجھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

روسی فوجیوں کے بہیمانہ قتل کا ویڈیو حقیقی ہے: اقوام متحدہ

نیویارک:روس کی جانب سے تمام ثبوت پیش کئے جانے کے بعد، اقوام متحدہ کے انسانی …