پیر , 28 نومبر 2022

ایران میں حالیہ فسادات ایک گہری سازش

(تحریر: علی واحدی)

گذشتہ ستمبر سے ایران کے بعض شہروں میں ہنگاموں اور توڑ پھوڑ کا ایک نیا دور شروع ہوا، ان فسادات اور دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں متعدد پولیس والے اور عام شہری جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، شہید یا زخمی ہوئے، نیز نجی اور عوامی املاک کو بہت نقصان پہنچایا گیا اور یہ فسادات اب بھی جاری ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں بالخصوص امریکی حکومت نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ گذشتہ برسوں میں ایران کے خلاف تمام آپشنز من جملہ فوجی آپشن میز پر ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی ڈیٹرنس پاور میں بہتری کسی بھی آپشن کے استعمال میں رکاوٹ بنی۔ دشمن نے اس ڈیٹرنس پاور پر یقین رکھتے ہوئے نرم طریقوں کے استعمال کو ایجنڈے میں شامل کیا اور ’’سول نافرمانی‘‘ اور ’’میڈیا وار‘‘ کی دو حکمت عملیوں پر عمل کرکے ایرانی معاشرے کو انتشار کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ حالیہ فسادات میں مخالف میڈیا کی مربوط، ٹارگٹڈ اور فوری کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک چالاک اور مضبوط تھنک ٹینک ان سب کا انتظام کر رہا ہے، جو مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

درحقیقت، اسلامی جمہوریہ اور ایرانی قوم کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی میں مغربی ممالک اور امریکیوں کی ناکامی کے بعد، وہ ایک مشترکہ اور ہائبرڈ جنگ کو نافذ کر رہے ہیں۔ جس میں فوجی دھمکیاں، پابندیوں کا استعمال کرتے ہوئے اقتصادی جنگ، مذاکراتی آلات کا استعمال کرتے ہوئے سفارتی جنگ، انٹیلیجینس کی جنگ، خفیہ جنگ اور سائبر حملے شامل ہیں۔ 28 ممالک کی مداخلت، درجنوں سیٹلائٹ نیٹ اور ورچوئل نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ 16 علیحدگی پسند اور انقلاب مخالف گروپوں کا استعمال کیا گیا، جن میں کوملہ پارٹی، ایم کے او، پیجک وغیرہ شامل ہیں۔ ایران کے اندر احتجاج کرنے والے ہجوم میں گھس کر، ان گروہوں اور ان کے کارندوں نے ہجوم کا فائدہ اٹھا کر قتل کے منصوبے کو انجام دیا اور پھر میڈیا کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اسے حکومت کی مسلح افواج سے منسوب کرنے کی کوشش کی۔

ان اقدامات کے ساتھ ہی دشمنوں نے جو عوام کو سڑکوں پر آنے پر اکسانے پر تلے ہوئے ہیں، بیرون ملک ایران کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی۔ اسی مناسبت سے درجنوں ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مظاہرے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، تاکہ ایران کے خلاف دباؤ کی شدت میں اضافہ ہو۔ درحقیقت اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن ایک ہائبرڈ جنگ کی صورت میں ایران کی داخلی رائے عامہ کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انتشار کے تسلسل اور افراتفری کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ایک گہری علمی جنگ میں دشمن عوام کے ذہنوں اور افکار کے ایک حصے کو فتح کرنے اور اپنے مفادات کے لیے رائے عامہ کو منظم کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نظریات اور اہداف کی مخالفت کرنے کے درپے ہیں۔ لوگوں کے لیے مسلسل پراپگنڈا ایک اہم عنصر ہے، جس کا مقصد فسادات کو جاری رکھنا اور پھیلانا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دشمن اس بات سے ناخوش ہیں کہ ایران ترقی کی طرف آزادانہ قدم اٹھا رہا ہے اور اس کا اثرورسوخ خاص طور پر مغربی ایشیائی خطے میں بڑھ گیا ہے، جو دوسرے ممالک کے لیے نمونہ بن گیا ہے۔ اس سلسلے میں رہبر معظم نے فرمایا: "ان کا اصل مسئلہ ایک مضبوط اور خود مختار ایران اور ملک کی ترقی سے ہے۔” ایران کے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد امریکہ کی ایران کو تقسیم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر ایجنڈے پر ہیں۔ امریکی صیہونی یونیورسٹی کے پروفیسر برنارڈ لیوس کا "گریٹر مڈل ایسٹ” پروجیکٹ بھی مغربی ایشیائی خطے کے ممالک کی تقسیم پر زور دیتا ہے۔ لوئس کہتے ہیں: "اسلامی ممالک مغربی دنیا کے لیے خطرہ ہیں اور ان ممالک کو تقسیم ہونا چاہیئے، تاکہ اسلام کی طاقت کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کر دیا جائے، ورنہ اسلام مغرب کو تباہ کر دے گا۔” اس کے منصوبے کا بنیادی حصہ ایران کی تقسیم تھا: "لیوس کے منصوبے کے مطابق، ایران کو 6 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ درحقیقت ایران کے کچھ حصے پڑوسی ممالک میں شامل ہو جائیں گے اور بلوچ، عرب، ترک اور کرد قبائل ایران سے الگ ہو جائیں گے۔

"جیمز جارج جیٹرز” جو کہ امریکی سینیٹ کے سابق مشیروں میں سے ایک ہیں، کہتے ہیں: "اسرائیل اور سعودی عرب ایران کی علاقائی طاقت کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور ان کا ایک حل ایران کو تقسیم کرنا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔” امریکہ، بڑا شیطان، اسلامی جمہوریہ ایران کے اصل دشمن کی حیثیت سے ہمیشہ ایران کی تقسیم کے میدان میں اپنے دشمنانہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا رہا ہے اور وہ اس سلسلے میں علیحدگی پسندوں کی ہمہ گیر حمایت کرتا ہے۔ امریکہ نے مختلف گروہوں بشمول کرد گروپس جیسے کوملہ، ڈیموکریٹس، کردستان آزاد لائف پارٹی (PAJAK) اور کردستان فریڈم پارٹی (PAK) کو اپنی پے رول پر رکھا ہوا ہے۔ تاہم ایران کا فیصلہ کن ردعمل اور عراقی کردستان میں ان گروہوں کے ہیڈکوارٹرز اور اڈوں پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے امریکہ کی علاقائی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا اور اسلامی ایران کے خلاف واشنگٹن کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک موثر اقدام ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خارکیف میں تین سو غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت:ایگور کوناشنکوف

روس نے خارکیف میں تین سو غیر یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔میڈیا …