اتوار , 5 فروری 2023

پی ٹی آئی کا راولپنڈی میں جلسہ: کیا عمران خان اپنے تمام سیاسی پتے کھیل چکے یا آپشنز ابھی باقی ہیں؟

(سحر بلوچ)

پاکستان میں رواں سال مارچ سے اب تک سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بہت سی سیاسی چالیں چلی ہیں اور متعدد بیانات دیے ہیں۔

جہاں ایک طرف تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اپنی برطرفی کے بارے میں انھوں نے مبینہ ’بیرونی سازش‘ کا حوالہ دیا تو وہیں جلد عام انتخابات کروانے کے مطالبے کو لیے ان کی جماعت راولپنڈی میں آج سیاسی طاقت کا مظاہرہ کر رہی۔

24 نومبر کو آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں بھی عمران خان کی پارٹی نے ایک اعلامیے کے ذریعے کہا کہ ’پی ٹی آئی فوج کی نئی قیادت سے امید کرتی ہے کہ وہ ملک میں آئینی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔‘ گذشتہ رات ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ نے نئی شروعات کرنی ہے تو ان لوگوں کو فارغ کرے جنھوں نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے۔‘

لیکن اس سے پہلے کی تقاریر میں خود پی ٹی آئی سربراہ کا آرمی چیف کی تقرری کے بارے میں بالکل مختلف ردعمل رہا اور کچھ عرصے میں عمران خان اپنے پہلے دیے گئے بیانات سے پیچھے ہٹتے ہوئے نظر آئے۔

مثال کے طور پر لانگ مارچ کے بارے میں انھوں نے مختلف بیانات میں کہا ہے کہ یہ ’فیصلہ کُن مارچ ہے‘ اور یہ بھی کہ مارچ اسلام آباد ضرور پہنچے گا لیکن اس کے بعد سے لے کر اب تک لانگ مارچ کی تین مختلف تاریخیں بتائی گئیں۔

اسلام آباد پہنچنے میں تاخیر اور تاریخوں میں تبدیلی عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے سے پہلے رونما ہوئیں۔

امریکہ کی طرف سے مبینہ سازش کر کے انھیں حکومت سے نکالنے کے بارے میں بارہا دعوے کرنے کے بعد عمران خان نے حالیہ بیان میں کہا کہ ان کے لیے وہ ’باب اب ختم ہو چکا ہے۔‘

تو پھر اس وقت عمران خان کا بیانیہ کیا ہے؟
راولپنڈی میں راجہ بشارت کے گھر پی ٹی آئی کا کنونشن ہوا اور اس دھوم سے ہوا کہ لگا جیسے ابھی سے انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔

راولپنڈی میں جگہ جگہ پی ٹی آئی کے مقامی رہنما اپنے سپورٹرز کے ساتھ چوک پر لگے شامیانوں میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیے۔وہیں پر پی ٹی آئی کی صوبائی اسمبلی کی رکن سیمابیہ طاہر بھی موجود تھیں۔

پی ٹی آئی کے بیانیے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’خان صاحب نے اپنے تمام پتے نہیں کھیلے اور یہ ایک اچھے لیڈر کی بات بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس سرپرائز ایلیمنٹ رکھتا ہے۔ عمران خان اس جلسے میں سب کو حیران کر دیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کا بیانیہ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ پہلے بھی وہ ان عناصر کے خلاف تھے جو پاکستان مخالف ہیں اور آج بھی وہ ان کے خلاف ہیں۔ ان کا بیانیہ حالیہ واقعات کے بعد مضبوط ہوا۔‘

لانگ مارچ میں تاخیر کے بارے میں پی ٹی آئی کی راولپنڈی کی کارکن عریشہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک وقت ایسا بھی تھا کہ میں ہر دوسرے دن پی ٹی آئی کارکنان سے صرف اس لیے ملتی تھی تاکہ ان کا اور میرا حوصلہ بنا رہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تیاریاں تو ہو رہی تھیں ’لیکن بے چینی اس بات کی تھی کہ ہمیں کب اور کہاں پہنچنا ہے لیکن اس میں ظاہر ہے تھوڑا وقت لگا کیونکہ خان صاحب زخمی ہو گئے تھے۔‘

عریشہ نے کہا کہ ’وزیر آباد میں حملے کے بعد ایک غیر یقینی کی صورتحال بن گئی تھی لیکن کارکنان کی وجہ سے بات بنی رہی کیونکہ میرے جیسے بہت لوگ ہیں جو عمران خان کے ساتھ ہیں۔‘

کیا عمران خان اپنے تمام سیاسی پتے کھیل چکے ہیں؟
صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا کہ یہ عمران خان کی آخری لڑائی تو نہیں ہے۔ ’جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سیاست میں کوئی آخری لڑائی نہیں ہوتی۔‘انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو شروع کرنا ’سیاسی طور پر ان کا سب سے بڑا قدم ہے۔‘

حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ’لانگ مارچ اس طرح آگے بڑھا نہیں جیسا انھوں نے سوچا تھا لیکن 26 نومبر کو جتنا بڑا مجمع ہو گا اتنی ہی ان کی خود اعتمادی بڑھے گی۔‘

نسیم زہرہ نے کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنایا لیکن آرمی چیف پھر بھی تعینات ہو گئے، صدر نے دستخط بھی کر دیے کیونکہ وہ آئینی طور پر مزید کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ تو آگے آنے والے دنوں میں ہم عمران خان کی طرف سے دیگر سیاسی رہنماؤں پر تنقید سنیں گے۔‘

یہی سوال جب پشاور اور لاہور میں عام شہریوں سے پوچھا گیا تو پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے کہا کہ ’یہ عمران خان کی آخری جنگ تو بالکل نہیں کیونکہ وہ بہت جنگجو ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جیسے عمران خان نے ہمیں ورلڈ کپ جتایا اور جیسے وہ 22 سال سے سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے۔‘ایک خاتون نے بتایا کہ ’وزیرِ اعظم بننے کی فہرست سے انھیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مشکل ہے کہ وہ دوبارہ آئیں گے۔‘

ایک طالبعلم نے کہا کہ ’یہاں پر ہر بندہ کرسی کے پیچھے ہے یا طاقت حاصل کرنے کے پیچھے ہے۔ جب تک ہماری سوچ یہ رہے گی کہ ہم کرسی اور طاقت کے پیچھے بھاگیں تب تو انقلاب آنے سے رہا۔‘

ایک اور طالبہ کا خیال تھا کہ ’اگر عمران خان صاحب نے کال دی ہے تو ہر پاکستانی شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق اور مطالبات کے حصول کے لیے اسلام آباد پنڈی میں جمع ہو۔‘

’آپشنز صرف پی ٹی آئی کے پاس‘
اب سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ حکومت اور فوج عمران خان کے مطالبات نہیں مانتی تب ان کا ایکشن پلان کیا ہو گا؟پی ٹی آئی کی رکن اور سابق وفاقی وزیر عندلیب عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت پی ٹی آئی کے پاس ہی تو سیاسی آپشنز ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پی ڈی ایم کے سیاسی آپشنز ختم ہو گئے ہیں۔ وہ معیشت میں فیل ہو گئے، گورننس میں فیل ہو گئے۔ سیاسی آپشنز تب تک ہوتے ہیں جب تک آپ کے ساتھ عوام کھڑی ہو، جب عوام تیار ہو، اور جب عوام آپ کی حمایت کرے۔‘

عندلیب نے کہا کہ ’آپ نے اس کی بہت زبردست مثال دیکھی سارے ایک طرف تھے۔ تیرہ جماعتیں الیکشن کمیشن، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور عوام ہمارے ساتھ کھڑی تھیں، عمران خان صاحب لیڈ کر رہے تھے اور ہم نے ان کو بالکل پچھاڑ دیا۔ اس لیے سیاسی طور پر اس وقت صرف ایک آپشن ہے اور وہ ہے عمران خان صاحب۔‘

بہرحال نتیجہ جو بھی ہو بقول نسیم زہرہ فیصلہ آنے والا لانگ مارچ طے کرے گا کہ عمران خان کے پاس مزید کتنے سیاسی آپشنز ہیں۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …