جمعہ , 3 فروری 2023

امریکا کو فلسطینی اتھارٹی کے سقوط کا خدشہ

فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کے خاتمے کے بارے میں "اسرائیل” کو امریکا کے انتباہات اور فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ سقوط کے بارے میں امریکی خدشات بے جا نہیں۔ امریکا کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کا سقوط ہوتا ہے تو اس کے خطے کی سیاست اورسلامتی دونوں پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ حالات میں اقتصادی امن، مسئلہ فلسطین کے حل کے امکانات بری طرح ناکام ہوگئے ہیں اور غاصبانہ صہیونی قبضہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ ایسے میں صرف فلسطینی مزاحمت ہی اس کا مقابلہ کررہی ہے۔

چند روز قبل امریکا نے اسرائیل کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں اسے آنے والے عرصے کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے نتائج سے خبردار کیا گیا تھا۔ اس پیغام کے دوران امریکی خصوصی ایلچی برائے اسرائیل و فلسطین ہادی عمر پیغام لےکراسرائیل آئے تھے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو اپنے علاقوں پر فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ وہ قابض انتظامیہ سے اتھارٹی کی طاقت کو مضبوط کرنے کے مفاد میں اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

امریکا نے فلسطینیوں اور "اسرائیل” کے درمیان تنازع کے عمل کو پچھلی صدی کے نوے کی دہائی کے اوائل میں اس کے آغاز سے اسپانسر کیا یہاں تک کہ سیاسی منظر نامے پر صیہونی انتہا پسندی کے غلبہ کے ساتھ 2015ء میں یہ مکمل طور پر زوال پذیر ہو گیا۔

چند ہفتے قبل اسرائیلی سکیورٹی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں عوامی مزاحمت کے بڑھنے، غزہ کے محاصرے کے جاری رہنے اور سیاسی خلاء میں داخل ہونے کے خوف سے قابض قیادت کو اقتدار کے خاتمے سے خبردار کیا تھا۔

جب کہ "اسرائیل” اور فلسطینی اتھارٹی کے مشترکہ مفادات ہیں، جن میں سب سے اوپر سکیورٹی کوآرڈینیشن کا تسلسل ہے۔ سرائیل تنازع کے آغاز کے بعد سے دستخط شدہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ یہ مغربی کنارے کو یہودیانے اور بیت المقدس میں آباد کاری کو فروغ دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اہم استحکام

جب امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی برادری نے فلسطینی اتھارٹی کے قیام اور عرب اسرائیل تنازعہ کو اپنی اہم ترین کھڑکی سے حل کرنے پر زور دیا جو کہ مسئلہ فلسطین ہے تو اس کا مقصد سیاسی منظر کو پرسکون کرنا تھا۔

فلسطینی تجزیہ نگار ڈاکٹر احمد رفیق عوض نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کے بارے میں امریکی انتباہ کے بین الاقوامی اور علاقائی جواز موجود ہیں جن میں سب سے اہم حقیقت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے کیونکہ فلسطینی اتھارٹی خطے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

بین الاقوامی اور علاقائی طاقتیں روس کے کردار اور ایرانی، ترکیہ اور چینی منصوبوں میں پیشرفت کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کو تیزی سے جھنجھوڑ رہی ہیں، لہٰذا امریکا کو خوف ہے کہ اس کی سلامتی اور خودمختاری پر مبنی حکمت عملی کا کچھ حصہ کھو جائے گا۔ اسرائیل” پر اس کا کنٹرول کم ہوجائے گا اور تیل کے وسائل کھو دےگا۔

تجزیہ کار عوض نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” فلسطینی اتھارٹی کو اب بھی علاقائی اور بین الاقوامی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن اسرائیل کی انتہا پسند جماعتیں اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، چاہے اندر سے ہو یا باہر سے۔”

فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے کا اسرائیلی دائیں بازو کے مطابق دو ریاستی حل کا خاتمہ ہے جو اب حقیقت پسندانہ نہیں رہا۔ مغربی کنارے کی زمینوں کی لوٹ کھسوٹ سے فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے تصور کو مزید مشکل کردیا گیا ہے۔

بہت سی اسرائیلی جماعتوں نے قابض ریاست کے متوقع وزیر اعظم "نیتن یاہو” کو فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے سے خبردار کیا ہے اور اس کی حمایت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کیونکہ اس کے خاتمے سے "اسرائیل” ایک بار پھر فلسطینی شہری کی زندگی کی ذمہ داری اٹھانے کا پابند ہوگا ہے۔

اسرائیلی امور کے ماہر محمد مصلح کا کہنا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کی سروس شن بیٹ نے حال ہی میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کی تھی، جس میں فلسطینی اتھارٹی کے خاتمے اور سکیورٹی کوآرڈینیشن کےانقطاع کی وارننگ دی گئی تھی۔ کیونکہ مزاحمت کی پیشرفت کے ساتھ مغربی کنارے میں سیکورٹی کا منظر جزوی طور پر بدل گیا ہے۔

اسرائیلی فاشزم

دائیں اور انتہائی دائیں بازو جو دو دہائیوں سے "اسرائیل” کے سیاسی منظر نامے پر حاوی ہیں اسرائیلی بائیں بازو اور مرکز کے زوال کے ساتھ آباد کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کی آخری امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ ایسے امکانات ابھرے ہیں جو ایک میدان کی وارننگ دیتے ہیں جہاں تصادم اور سیاسی ناکامی ہوگی جس کی تائید روزمرہ کی جارحیت، بستیوں میں اضافہ اور یہودیت مسلط کرنے سے ہوتی ہے۔

تجزیہ کار عوض نے نشاندہی کی ہے کہ فاشزم کے مرحلے تک پہنچنے والی اسرائیلی جماعتیں آنے والی قابض حکومت میں مزید طاقت کے ساتھ داخل ہوں گی اور ان کا خیال ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنے وجود کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اس کے کردار کو غرب اردن کو سلب کرکے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ "الحاق کا منصوبہ” ایک سرخ لکیر ہے اور اس سے افراتفری اور عدم استحکام کی حالت میں داخل ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے اس کا خیال ہے کہ اب اتھارٹی کے لیے معاشی تعاون تناؤ کو کم کرتا ہے جبکہ ساتھ ہی سیاسی حل کے لیے اس کی اہمیت کا اشارہ بھی دیتا ہے۔

مصلح نے کہا کہ امریکا عربوں کو اسرائیل کے قریب لانا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ صیہونی انتہا پسندی کے غلبے کو بھی مسترد کرتا ہے۔ کیونکہ غاصبانہ قبضے کی انتہا پسندی کا مقابلہ فلسطینی مزاحمت کو تیز کرنے اور صیہونی انتہا پسندی کی تقویت سے کیا جائے گا۔

منظر میں تبدیلی کے باوجود مسئلہ فلسطین عرب اسرائیل تنازعہ کا مرکز بنا ہوا ہےاور نیتن یاہو اس وقت جھوٹ بولتے ہیں جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطینی دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہیں۔

ڈیڑھ دہائی تک جس کے دوران "نیتن یاہو” نے "اسرائیل” کی قیادت پر غلبہ حاصل کیا۔ اس نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ معاملات کو پس پشت ڈال دیا۔ اس پر ایرانی اور شامی اطراف کو ترجیح دی، جبکہ امریکا پہلے سے کہیں زیادہ یوکرین، ایران کے جوہری پروگرام،روس اور چین کے ساتھ مصروف نظر آتا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین کی جانب سے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت

بیجنگ: چین نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی مذمت کرتے …