جمعہ , 3 فروری 2023

بھکمری، افلاس و غربت اور ہماری قومی و مذہبی ذمہ داری

غربت، بھوکمری و افلاس کی جونک جس معاشرے سے لپٹ جائے اسکا خون چوس چوس کر بے سدھ کر دیتی ہے ، یہ وہ مصیبت ہے جس سے چھٹکارا آسانی سے ممکن نہیں وہ آفت ہے جو انسان کی صلاحیتوں کی فصل کو تباہ کر دیتی ہے اسی لئے آج ہر صاحب فکر و شعور اس بات کا قائل ہے کہ ہر معاشرے کی ایک بڑی اور بنیادی مشکل غربت و فقر ہے، یہ وہ مرض ہے جو تیسری دنیا کے زیادہ تر معاشروں میں پھیلا ہوا ہے اور دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔فقر و غربت و ناداری کا علاج اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک غربت و فقر کی علت و اس کے محرکات کا پتہ نہ چل جائے اس مرض کی جب تک تشخیص نہ ہو علاج ممکن نہیں ہے ، آپ جب بھی کسی ڈاکٹر کے پاس کسی مرض کے علاج کے لئے جاتے ہیں تو یوں ہی ڈاکٹر آپ کو دیکھ کر نسخہ نہیں لکھ دیتا پہلے وہ اپنے آلے کے ذریعہ دیکھتا ہے نبض پکڑ کر سمجھتا ہے کہ مرض کیا ہے صحیح مرض کی تشخیص بیماری کے علاج میں بنیادی حیثیت کی حامل ہوتی ہے ، فقر و ناداری بھی ایک مرض ہے ، ایسا مرض جس کی بنا پر کتنے ہی معاشرے تباہ و ہلاک ہو گئے ، کتنے تباہ ہو رہے ہیں ، جب ہم فقر و ناداری کے محرکات و عوامل کو تلاش کرتے ہیں تو ہمیں تین طرح کے محرکات نظر آتے ہیں ۱۔ طبیعی و فطری عوامل ۲۔ غیر طبیعی و غیر فطری عوامل ۳۔ خود ساختہ علل و اسباب جنکا کوئی تعلق نہ فطرت سے ہے نہ ہی غیر طبیعی عوامل سے ہے بلکہ انکا تعلق انسان کے عمل سے ہے.

ان عوامل پر روشنی ڈالنا فی الحال مقصود نہیں پیش نظر تحریر میں ہم اپنے ملک میں غربت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پہلے غربت کے مفہوم کی مختصر وضاحت کریں گے پھر اسی کے ضمن میں حالیہ جو اعداد و شمار ہندوستان میں بھکمری و افلاس سے متعلق آئے ہیں ان کا تجزیہ کرتے ہوئے کوشش کریں گے اس سلسلہ سے اپنی ذمہ داریوں کی طرف ایک اشارہ کر سکیں ،

فقر و غربت کا معنی و مفہوم :

فقر لغت عرب میں احتیاج و ضرورت کے معنی میں ہے ، انسان کی ریڑھ کی ہڈی میں جو مہرے ہوتےہیں چونکہ انکے درمیان تھوڑا تھوڑا فاصلہ ہوتا ہے اس لئے ’’فقار‘‘ کہا جاتا ہے فقیر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کی پیٹھ کے مہرے بے چارگی کی بنیاد پر ٹوٹ جائیں راغب اصفہانی نے مفردات میں فقر کے استعمال کے چہار وجوہ بیان کئے ہیں ۔

۱۔ حاجت اور ضرورت : یہ احتیاج و ضرورت جو انسان کو اپنی زندگی میں ہے کسی ایک محدود زمانے اور محدود وقت کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام موجودات کے درمیان یہ احتیاج ہے یہ ہر ایک موجود کے اندر پائی جاتی ہے ہر ایک سانس لینے کے لئے جینے کے لئے زندگی گزارنے کے لئے اپنے رب کی عنایت کا محتاج ہے جسے قرآن کریم نے اس طرح پیش کیا ہے ’’ تم سب کے سب فقیر ہو بس اللہ کی ذات ہے جو غنی و بے نیاز ہے

۲۔ انسان کے پاس اتنی جمع پونجی نہ ہو کہ روز مرہ کے مصارف میں لا سکے ارشاد ہوتا ہے : یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ کی راہ میں ناچار و محصور ہو گئے ان کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ آگے بڑھ کر کچھ کر سکیں

۳۔ نفس کی ضرورتوں میں انسان کے پاس کچھ نہ ہونا انسان کا حریص ہونا اور اسکے پاس کچھ نہ ہونا یہ وہ فقر ہے جو کفر پر منتہی ہوتا ہے

۴۔ اللہ کی جانب ضرورت و احتیاج جسے ’’فقر الی اللہ ‘‘کہا جاتا ہے وہ فقر جس کے لئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کی ہے ۔

قرآن کی نظر میں غربت وفقر :

قرآن کی نظر میں فقر کوئی اچھی چیز نہیں ہے انسان کے زندگی میں فقیری کا ہونا قرآن کی نظر میں مطلوب نہیں ہے اگر فقر و ناداری کوئی اچھی چیز ہوتی تو قرآن ہرگز پیغمبر ص سے یہ نہ کہتا کہ ہم نے آ پ کو بے نیاز بنایا ۔

اسی سورہ میں اس سے پہلے ارشاد ہوتا ہے ہم نے آ پ کو محتاج ہدایت پایا تو آپ کی ہدایت کی اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ مادی فقر ہی کی طرح مادی ضرورتوں کی طرح معنوی و فکری ضرورت بھی ہے جس طرح مادی احتیاج انسان کو فقیر بناتی ہے فکری و معنوی ضرورت بھی انسان کو فقیر بنا دیتی ہے محض مادی طور پر کسی کو بے نیاز بنا دینا کافی نہیں معنوی طور پر بھی بے نیازی ضروری ہے اسی لئے شیطان انسان کو فقیری کا وعدہ دیتا ہے اور فحشا و فساد کی طرف لے کر جاتا ہے قرآن کریم نے شیطان کے وسوسوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے اس بات کو بیان کیا ہے کہ شیطان اس لئے وسوسہ کرتا ہے کہ اگر تم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کروگے تو فقیر ہو جاوگے. اب یہ انسان کے اوپر ہے کہ وہ کس قدر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتا ہے کتنا شیطان پر ؟

فقر ناداری کا ایک سبب صاحبان حیثیت کی جانب سے حق تلفی :

امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فقیری کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں بے شک خدا وند متعال نے فقرا کے رزق کو سرمایہ داروں کے اموال میں رکھا ہے پس کوئی فقیر بھوکا نہیں رہتا ہے مگر یہ کہ کوئی غنی و مالدار اس کے کا حق ہڑپ لے خدا ایسے سرمایہ داروں سے غریبوں کے بارے میں سوال کرے گا ۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ اگر ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں تو اس کی راہ میں خرچ کریں اس کی راہ میں خرچ کا ایک راستہ اسکے ضرورت مندوں کی مدد ہے ، ان فقرا کی مدد ہے جو اللہ کی راہ پر گامزن ہیں لیکن دنیاوی مشکلات کا شکار ہیں ، روایت میں ہے اگر ہم کسی ایک شخص کی مشکل کو حل کرنے کے لئے باہر نکلتے ہیں تو ایسا ہی ہے جیسے انسان صفا و مروہ کے درمیان سعی کر رہا ہو اگر کوئی کسی کی مشکل کو حل کرتا ہے تو حدیث کہتی ہے وہ ایسے شخص کی طرح ہے جس نے جنگ بدر و احد میں زخم کھائے ہوں ۔

اگر ہم کسی کی ضرورت میں کام آتے ہیں تو اسکا اجر تو اپنی جگہ ہے جو آخرت میں ہمیں نصیب ہوگا اس دنیا میں بھی ہم اپنے عمل سے بہت بڑا کام کر رہے ہیں خاص کر اگر سی تہیدست و فقیر و غریب انسان کی مشکل کو حل کر دیں ، کسی کے مالی مسائل و اقتصادی پریشانیوں کو اگر ہم اس طرح حل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ کسی کو چھوٹا موٹا کاروبار کرا دیا ، کسی کو نوکری پر لگا دیا کسی کو روزگار دے دیا تو یہ معمولی بات نہیں ہے ، ایک ثواب تو ہمیں آخرت میں ملے گا کہ ہم نے کسی کی مشکل کو حل کیا مومن بھائی کی پریشانی کو دور کیا تو ایک تو ہمیں اپنے اس عمل کی بنیاد پر جنگ بدر و احد میں اللہ کی راہ میں جہاد کا ثواب ملے گا اس دنیا میں بھی اسکا ظاہری فائدہ یہ ہوگا کہ ہم ایک شخص کے دین کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے اگر وہ اسی طرح تنگدستی میں گزارتا تو ممکن تھا کہ یہ فقر و ناداری اسے تباہ کر دیتی اس کے دین کو ناقص کر دیتی اس کی عقل کام نہ کرتی وہ سرگردانی کا شکار رہتا لیکن ہمارے ایک عمل نے کتنی ہی مشکلات کو حل کر دیا امام علی علیہ السلام اپنے فرزند محمد حنفیہ کو خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : اے بیٹا میں تہیدستی کو لیکر فکر مند ہوں فقیری سے خدا کے حضور پناہ مانگو کہ یہ فقیری انسان کے دین کو ناقص کر دیتی ہے عقل کو سرگرداں بنا دیتی ہےاور دشمنی کا سبب ہے ۔

ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور ہماری ذمہ داری :

غربت و افلاس کی جتنی ہمارے دین میں مذمت کی گئی ہے اور جس قدر اس سے مقابلے کی تاکید ہے شاید ہی کسی مکتب میں ہو لیکن افسوس آج ہمارے ملک میں غربت افلاس کی جو صورت حال ہے وہ بھی ایسی ہے جو شاید ہی اتنی بڑی اقتصادی طاقت کے حامل کسی ملک میں ہو جسے دنیا کی چوتھی ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر جانا جاتا ہے افسوس کی بات ہے کہ قابل ذکر ہے کہ 2022 ء کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کے لیے جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں ان کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی صورت ہمارا ملک ۱۲۱ ممالک میں سے 107 ویں نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے پاس افغانستان کو چھوڑ کر جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک سے کم غذائیت کا حامل ملک ہے ۔ شرم کی بات ہے کہ ہمارے تمام پڑوسی ملک اس معاملہ میں ہم سے بہتر ہیں سری لنکا (64ویں)، نیپال (81ویں) اور بنگلہ دیش (84ویں) نے ہندوستان سے بہتر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان، ہندوستان سے بہت زیادہ غریب ملک ہونے کے باوجود غذائیت کے معاملے میں 99 ویں نمبر پر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس سکور کو چار ڈیٹا پوائنٹس کا استعمال کرتے ہوئے شمار کیا جاتا ہے تاکہ کسی ملک میں غذائیت کی حالت کو دیکھا جا سکے۔ یہ چار پوائینٹ اس طرح ہیں کہ سب سے پہلے غذائیت کی وسعت کو دیکھا جاتا ہے جسے ہم غذائیت کا پھیلاؤ کہہ سکتے ہیں (آبادی کا وہ حصہ جسکو غذا مکمل نہیں ملتی ) پھر بچوں کے وزن کے لحاظ سے انکی کمی کو جانچا جاتا ہے (پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کا وہ حصہ جن کے قد کے لحاظ سے ان کا وزن کم ہے) پھر بچوں کی نشوونما کو دیکھا جاتا ہے (پانچ سال سے کم عمر کے بچے) ان کی عمر کے لحاظ سے کم اونچائی) اور پھر بچوں کی اموات کو دیکھا جاتا ہے (پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات)۔

درحقیقت، اگر دیکھا جائے تو یہ اعداد و شمار زیادہ تر بچوں کی صحت کے ایک پیمانہ کے طور پر کام کرتے ہیں ، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہندوستانی بچے اور خاص کر چھوٹے بچے خطرناک حد تک غذائی قلت کا شکار ہیں۔ درحقیقت، جیسا کہ رپورٹ بتاتی ہے، ہندوستان میں بچوں کے کمال تک نہ پہنچ کر ضائع ہو جانے اور انکی بربادی کی شرح، 19.3 فیصد، دنیا کے کسی بھی ملک سے سب سے زیادہ ہے”۔ ہندوستان کی ناقص کارکردگی ہی کی بنیاد پر یہ ملک جنوبی ایشیا کے لئے دنیا کا “سب سے زیادہ بھوک کی سطح رکھنے والے خطے کے طور پر جانا جاتا ہے وجہ صاف ہے کہ ہندوستان میں بچوں کے ضائع ہونے کی شرح دنیا کے کسی بھی ملک سے سب سے زیادہ ہے اور یہ اپنے آپ میں ایک المیہ ہے اس سے بھی زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ کچھ اہم پیرامیٹرز پر، چیزیں بدتر ہوتی جا رہی ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت بچوں کے ضائع ہونے کی شرح دو دہائیوں پہلے کے اعداد و شمار سے بھی بدتر ہے۔ اور 2013-2015 کے مقابلے آج زیادہ ہندوستانی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ایک طرف یہ اعداد شمار ہیں دوسری طرف ہندوستانی حکومت نے اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کے طریقہ کار کو غلط قرار دیا ہے حکومت کی جانب سے پیشتر بھی ایسا ہی رد عمل سامنے آ چکا ہے جبکہ ۔ امبیڈکر یونیورسٹی، دہلی کی ایک فیکلٹی اور فوڈ رائٹس، نیوٹریشن اور پبلک ہیلتھ کی ماہر دیپا سنہا نے اس سے قبل 2021 میں نشاندہی کی تھی، اور کہا تھا کہ حکومت کے اعتراضات حقیقت پر مبنی نہیں تھے اور واضح کیا تھا کہ اعداد و شمار میں “استعمال شدہ تمام ڈیٹا متعلقہ قومی حکومتوں کے سرکاری ڈیٹا ذرائع سے ماخوذ ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ اتنی بھکمری اور افلاس و غربت کے بعد کیوں ہندوستان میں کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ ہمارے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ کیونکر ہماری یہ حالت ہو گئی کہ بنگلا دیش و سری لنکا حتی پاکستان ہم سے بہتر حالت میں ہیں ، کیا یہ افسوس کا نام نہیں ہے کہ ایک بڑی معیشت اور دنیا کی بڑی اقتصادی طاقت ہونے کے بعد بھی ہندوستان غریب سے غریب ملک سے بھی بد ترین حالت میں ہو ؟

اگر یہ غلط ہے اور ہمیں اس بات پر افسوس ہے تو ہم سب کو اس سلسلہ سے چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری ایک تو قومی و ملکی ذمہ داری ہے دوسرے ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے ہمارا دین ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اس ملک کے عوام کے لئے فکر مند ہوں جس کے ہم باشندے ہیں ، لہذا ہم سبھی اس مسئلہ کو لیکر سوچیں غور کریں اور راہ حل کو تلاش کریں امید کہ ایک دن یہ غربت کا منحوس دیو ہمارے ملک سے باہر نکل جائے گا اور ہندوستانی عوام اس طرح سے عزت کے ساتھ جئیں گے جو ان کا حق ہے ۔بشکریہ ابنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …