جمعہ , 3 فروری 2023

نام نہاد چینی سامراج کے خلاف داعش خراسان کا ابھرتا ہوا پراپیگنڈہ

(عبدالباسط خان)

امریکہ اور چین جیسی عظیم عالمی طاقتوں کے مابین جاری مقابلے کے ساتھ ساتھ عالمی جہادی گروہوں کے بیانیے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔نائن الیون کے بعد امریکہ القاعدہ اور اسلامک سٹیٹ (داعش) کے پراپیگنڈے کا مرکز تھا۔

تاہم امریکہ اور چین کی عالمی دشمنی کے تناظر میں داعش خراسان بیجنگ پر اپنی توجہ بڑھا رہی ہے لیکن یہ توجہ چین مخالف معمول کی تنقید سے مختلف ہے۔

چین کے مغربی سنکیانگ صوبے میں اویغور مسلم برادری پر چین کے جبر پر اپنی نظریاتی تنقید کے برعکس داعش خراسان نے اب اپنی توجہ چینی ’سامراجیت‘ کی سیاسی اور اقتصادی تنقید پر مرکوز کر دی ہے۔

اس سب کا تعلق بیجنگ کے عظیم بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) سے ہے جس کا مقصد ایشیا کو یورپ اور افریقہ سے جوڑنا ہے۔

داعش خراسان کے ماہانہ انگریزی زبان کے پراپیگنڈا میگزین ’وائس آف خراسان‘ کے ستمبر کے شمارے میں ’China’s Daydream of Imperialism‘ کے نام سے ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے عالمی اقتصادی اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

داعش خراسان کا خیال ہے کہ تائیوان کے حوالے سے چین کے ساتھ اور یوکرین کے حوالے سے روس کے ساتھ امریکہ کی عالمی دشمنی داعش کی خود ساختہ عالمی سنی خلافت کے عروج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

مضمون میں داعش خراسان کا ایک بیانیہ یوں سامنے آتا ہے کہ امریکہ کے برعکس، جس نے اپنی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر عالمی سطح پر پیش رفت کی، چین اپنے معاشی وسائل کو اپنے عالمی اثر و رسوخ کو پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

داعش خراسان نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کا موازنہ برطانوی سامراج سے کیا جو کہ بدنام زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے برصغیر میں پھیلا۔

مضمون میں داعش خراسان نے یہ دعویٰ کیا کہ عالمی طاقت کے طور پر چین کا عروج قلیل المدت ہوگا کیونکہ اس کے پاس مغرب کے مقابلے میں فیصلہ کن فوجی یا تکنیکی برتری کی کمی ہے۔

چین کا موازنہ مغرب کے کئی صدیوں کے تسلط سے کرنے کی بجائے داعش خراسان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر چین کا عروج 13ویں صدی کی منگولوں کی شاہراہ ریشم کی بنیاد پر وجود پانے والی سلطنت کی طرح ہوگا جو 100 سال سے کچھ زیادہ عرصے کے لیے نسبتاً مختصر وقت تک قائم رہی۔

مضمون میں داعش سے وابستہ شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے موزمبیق میں چینی کمپنیوں کے بند ہونے کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

داعش خراسان کی چین کو دی گئی دھمکیاں صرف دھمکیاں نہیں کیونکہ 2017 میں اس گروپ نے پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں ایک چینی جوڑے کو اغوا کر کے قتل کر دیا تھا جہاں اربوں ڈالر کا میگا پراجیکٹ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) واقع ہے جس میں شاہراہیں، پل، بندرگاہیں اور ریل کی پٹریاں شامل ہیں۔

اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے داعش خراسان ملک میں ایک اہم چین مخالف جہادی گروپ کے طور پر ابھرا ہے۔

داعش خراسان کا چین کے حوالے سے پراپیگنڈا چینی صوبہ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں پر جبر کے حوالے سے نظریاتی تنقید پر مرکوز رہتے ہوئے اب چین کے پھیلتے ہوئے عالمی اقتصادی اثرات پر تنقید تک پہنچ چکا ہے اور اس کے دو اہم مقاصد ہیں۔

پہلا مقصد یہ کہ داعش خراسان، اور اس کے ساتھ داعش بھی بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی سیاسی رجحانات کے ساتھ متعلقہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح کے بیانیے پیش کیے جانے کے ممکنہ فوائد سمیٹنے کے لیے خود کو پہلے ہی سے پوزیشن میں لے رہے ہیں۔

دوسرامقصد یہ کہ داعش خراسان افغانستان میں ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) کے ناراض اویغور عسکریت پسندوں کو اپنی لپیٹ میں لینا چاہتی ہے، خاص طور پر جب طالبان اور القاعدہ دونوں صوبہ سنکیانگ میں چین کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔

ایسا کرتے ہوئے داعش خراسان افغانستان میں طالبان کی ڈی فیکٹو حکومت اور (ٹی آئی پی) کے درمیان بھی دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد طالبان نے چین کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے شمالی بدخشاں صوبے سے ٹی آئی پی کے عسکریت پسندوں کو چین – افغانستان سرحد کے قریب وسطی افغانستان میں منتقل کر دیا۔

کچھ ٹی آئی پی عسکریت پسند جو چین میں جاری معاملات سے طالبان کی لاعلمی پر ناراض تھے اس سال بدخشاں واپس آئے اور اپنی پناہ گاہیں دوبارہ بنائیں۔

طالبان اور ٹی آئی پی کے کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھانے کے لیے داعش خراسان کے ایک وفد نے مبینہ طور پر ٹی آئی پی کارندوں سے ملاقات کی اور تقریباً 50 اویغور عسکریت پسندوں کی وفاداریاں جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

مثال کے طور پر شمالی افغانستان کے صوبہ قندوز میں گذشتہ اکتوبر میں ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنانے والا داعش خراسان کا خودکش بمبار محمد اویغوری ایک سابق ٹی آئی پی عسکریت پسند تھا۔

داعش خراسان نے اس نسلی اویغور خودکش بمبار کو یہ ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا کہ اس نے افغانستان میں کامیابی سے ایغور عسکریت پسندوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کر لیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے داعش خراسان نے یہ بھی قبول کیا کہ یہ حملہ شیعہ برادری اور طالبان حکومت کے خلاف تھا جس نے چین کے مطالبے پر اویغوروں کو نکال دیا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک طرف طالبان چین کے مطالبات پر ٹی آئی پی عسکریت پسندوں پر جتنا زیادہ پابندیاں لگاتے ہیں اور دوسری طرف داعش خراسان اویغوروں کے ساتھ چین کے سلوک کا جتنا فائدہ اٹھاتی ہے، ٹی آئی پی عسکریت پسندوں کے داعش خراسان کی طرف متوجہ ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے امریکہ اور چین کی عالمی دشمنی میں شدت آتی جائے گی، بیجنگ عالمی جہادی پراپیگنڈے میں زیادہ نمایاں ہو گا۔داعش خراسان کو اپنے تشدد کا جواز پیش کرنے اور اپنی بھرتیوں اور چندہ اکٹھا کرنے کی مہموں کو ہوا دینے کے لیے کسی مرکزی دشمن کردار کی ضرورت ہے۔

پچھلی تین دہائیوں سے عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلتیں عالمی جہادی گروپوں کے پروپیگنڈے اور بیانیے کے پیچھے محرک عوامل تھیں۔تاہم اب بڑی طاقتوں کے مقابلے کے دور میں روڈ اینڈ بیلٹ پراجیکٹ کے ذریعے چینی ’سامراج‘ داعش خراسان جیسے گروہوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔بشکریہ دی انڈپینڈنٹ

 

یہ بھی دیکھیں

چین کی جانب سے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت

بیجنگ: چین نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی مذمت کرتے …