بدھ , 8 فروری 2023

ہماری گھڑیوں پر نظر آنے والا وقت ’حقیقی‘ کیوں نہیں ہے؟

(رچرڈ فِشر)

ہمیں بالکل درست وقت کس طرح پتہ چلتا ہے؟

رچرڈ فِشر کہتے ہیں کہ یہ سوال جتنا سادہ نظر آتا ہے یہ اُس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

میں لندن میں ایک لیبارٹری کے اندر انتباہی نشان دیکھ رہا ہوں۔ انتباہی نشان کہتا ہے کہ ’ماسر (maser) کو مت چُھوئیے،‘ (ماسر مائیکرو ویو رینج میں مربوط مونوکرومیٹک برقی تابکاری کو بڑھانے یا پیدا کرنے کے لیے پرجوش جوہریوں کے ذریعہ تابکاری کے محرک اخراج کو استعمال کرنے والا آلہ ہوتا ہے۔)

یہ پہیوں پر کھڑے ایک سٹیل کے حفاظتی باکس میں نصب ہے اور ایک لمبے بلیک باکس سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔

پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی اہم باکس ہے، اور یہاں اس انتباہی نشان کے لگانے کی ایک وجہ ہے۔ یہ خطرناک نہیں ہے، لیکن اگر میں آلہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کروں گا تو یہ وقت میں خلل ڈال سکتا ہے۔

یہ ان چند آلات میں سے ایک ہے جو جنوب مغربی لندن میں نیشنل فزیکل لیبارٹری (این پی ایل) میں رکھے گئے ہیں، جو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں کہ دنیا کو سیکنڈوں، منٹوں اور گھنٹوں کا درست مشترکہ احساس ہے اور اس کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔

انھیں ’ہائیڈروجن ماسرز‘ کہا جاتا ہے، اور یہ انتہائی اہم ایٹمی گھڑیاں ہیں۔ تقریباً ایسے ہی 400 دیگر آلات کے ساتھ، جو پوری دنیا میں مختلف مقامات پر رکھے گئے ہیں، وہ دنیا کو نینو سیکنڈ تک کا وقت بتانے میں مدد دیتی ہیں۔

ان گھڑیوں کے بغیر اور ان کے آس پاس کے لوگ، ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کے بغیر، جدید دنیا آہستہ آہستہ افراتفری کا شکار ہوجائے گی۔

سیٹلائٹ نیویگیشن سے لے کر موبائل فونز تک بہت سی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز کے لیے جن پر ہم انحصار کرتے ہیں۔،

تو پھر ہم سب سے پہلے ’ٹائم کیپنگ‘ (وقت کے تعین کا حساب کتاب رکھنا) کے اس مشترکہ نظام تک کیسے پہنچے، یہ کیسے درست رہتا ہے، اور مستقبل میں یہ کیسے تیار ہو سکتا ہے؟

ان کے جوابات کی تلاش کرنے کے لیے ہمیں گھڑی کے ظاہری حصے سے آگے دیکھنا ہے اور یہ سمجھنا ہے کہ اصل میں وقت ہے کیا۔ تھوڑا گہرائی میں جائیں تو آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ وقت کے ظاہر ہونے سے کہیں زیادہ پہلے یہ انسانی تصور کی ایک تعمیر کا نام ہے (یعنی انسانی ذہن کی ایک اختراح ہے۔)

یہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا کہ دنیا میں سب ایک ہی وقت رکھیں۔ صدیاں پہلے ایسا یہ ناممکن تھا، اور وقت کی تعریف مقامی طور پر صرف قریبی گھڑی سے کی جا سکتی تھی۔ کسی ایک جگہ دوپہر کا وقت تھا، لیکن ذرا فاصلے پر 11 بج رہے ہوتے تھے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے 1800 کی دہائی میں، امریکہ میں سینکڑوں مختلف وقت کے معیارات کام کر رہے تھے، جن کا تعین شہروں اور مقامی ریل روڈ مینیجروں نے رکھا ہوا تھا۔

اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پوری زمین تو چھوڑ دیں، کسی ایک ملک میں بھی ہر گھڑی کو ہم آہنگ کرنے کا کوئی قابل عمل طریقہ نہیں تھا۔ زیادہ تر انسانی تاریخ کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ایک میعاری وقت تھا یا نہیں: لوگوں نے ضرورت کے وقت کام کیا، دور سفر نہیں کیا، اور اگر وہ وقت جاننا چاہتے ہیں، تو قریبی گھڑیال، ٹاؤن کلاک، یا چرچ کی گھنٹیاں، یا نماز کے لیے اذان سُن کر وقت معلوم کر سکتے ہیں۔

تاہم جیسے جیسے صنعتی دور کا آغاز ہوا اور یہ فروغ پاتا گیا، یہ واضح ہو گیا کہ وقت کے اس بے جوڑ تصور کی یہ حالت جاری نہیں رہ سکتی۔ کچھ معاملات میں تو پرانا تصور مہلک تھا۔ مثال کے طور پر 1800 کی دہائی کے وسط میں نیو انگلینڈ میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے 14 افراد ہلاک ہو گئے کیونکہ ایک کنڈکٹر ’ناقص اور ادھار کی گھڑی‘ استعمال کر رہا تھا، جس پر اس کے ساتھی نے غلط وقت مقرر کر رکھا تھا۔

مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو درست وقت کے بہتر مشترکہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ کارخانے، افرادی قوت کو ایک ہی گھنٹے میں کام دے سکیں، ٹرینیں روانہ ہو سکیں اور ایک طے شدہ وقت پر پہنچ سکیں، اور بینکر مالیاتی لین دین کے وقت کا مناسب تعین کرسکیں یا ’ٹائم سٹیمپ‘ کر سکیں۔ جیسا کہ مؤرخ لیوس ممفورڈ نے ایک بار کہا تھا کہ بھاپ کا انجن نہیں بلکہ یہ گھڑی تھی، جو صنعتی انقلاب کی سب سے اہم مشین تھی۔

بھاپ کے انجنوں سے کارخانے اور ٹرانسپورٹ تو چل سکتی ہیں، لیکن وہ لوگوں اور ان کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ نہیں کر سکتے۔

تھوڑی دیر کے لیے، اس نئے مشترکہ وقت کا اہم ثالث لندن میں گرین وچ مین ٹائم یعنی جی ایم ٹی تھا۔ وہاں رکھی جدید مکینیکل گھڑیوں نے ’حقیقی‘ وقت دکھایا اور بتایا۔

سنہ 1833 میں، وقت کا تعین کرنے والوں یعنی ’ٹائم کیپرز‘ نے لندن میں رائل گرین وچ آبزرویٹری کی عمارت کے مستول میں ایک گیند شامل کی۔ اور طے یہ ہوا تھا کہ یہ ہر روز 13:00 پر گرا کرے گی تاکہ تاجر، فیکٹریاں اور بینک اپنی چلتی ہوئی گھڑیوں کو ایک میعاری وقت کے مطابق درست کر سکیں۔

کچھ سال بعد ’جی ایم ٹی‘ کو ٹیلیگرام کے ذریعے ملک بھر میں ’ریلوے وقت‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ پورے برطانیہ کے ٹرین نیٹ ورک کو ایک ہی وقت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ سنہ 1880 کی دہائی میں گرین وچ ٹائم سگنل کو آبدوز کیبل کے ذریعے بحر اوقیانوس کے پار امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں ہارورڈ یونیورسٹی تک بھیجا گیا۔ اور واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی میریڈیئن کانفرنس میں، 25 سے زیادہ ممالک نے فیصلہ کیا کہ ’جی ایم ٹی‘ کو بین الاقوامی وقت کا معیار تسلیم کیا جانا چاہیے۔

20 ویں صدی کے اوائل میں، بی بی سی نے دنیا بھر میں عین ایک مشترکہ وقت کے پھیلانے میں مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ جب کارپوریشن نے دنیا بھر میں ریڈیو نشر کرنا شروع کیا تو اس میں گھنٹے پر ’پِپس‘ (pips) کا ایک سلسلہ شامل تھا، جو کہ وقت پر گرین وچ میں تیار کیا جاتا تھا۔

آج بی بی سی انھیں تخلیق کرتا ہے، اور یہ کُل چھ ہیں، فائنل کے آغاز سے نشان زدہ گھنٹے کے ساتھ، طویل ’پِپس‘۔ کچھ دوسرے ممالک میں بھی یہ ہیں: مثال کے طور پر فن لینڈ میں، وہ ‘پِپٹِس’ (pipit) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ، اگرچہ ڈیجیٹل ریڈیو نے آپ کی گھڑی کو ترتیب دینے کے لیے ان کی درستگی کو کم کر دیا ہے، کیونکہ سگنل کی تبدیلی میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے۔

تاہم جوں جوں دہائیاں گزرتی گئیں یہ واضح ہوتا گیا کہ وقت کو ہم آہنگ کرنے کا ایک بہتر طریقہ درکار تھا۔ گرین وچ کے ٹائم کیپرز نے شاید دنیا کی کچھ درست ترین گھڑیوں کو چلانے کا دعویٰ کیا ہو، لیکن انھوں نے اپنے حسابات کو ایک ناقابل اعتبار حوالہ پر مبنی کیا: یعنی کہ زمین کو ایک گردش سے گھومنے میں جتنا وقت لگا۔

درست وقت فراہم کرنے کے لیے تمام گھڑیوں کو ایک متواتر دہرانے والے عمل کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے یہ جھولتا ہوا پینڈولم ہو، یا کوارٹز کرسٹل کی الیکٹرانک ارتعاش۔ گرین وچ کی گھڑیوں کو اس وقت کا استعمال کرتے ہوئے تَعين کے عمل کے لیے ایک پیمائش کے مطابق ڈھالا گیا یا ’کیلیبریٹ‘ کیا گیا تھا جو سورج کو ایک دن کے بعد آسمان میں اسی مقام پر پہنچنے میں لگا تھا۔ اس لیے ان کا پینڈولم خود زمین تھی، جو بظاہر متوقع شرح سے گھوم رہی تھی۔

یہ یونیورسل ٹائم پر بھی لاگو ہوتا ہے، جس نے سنہ 1928 میں ’جی ایم ٹی‘ کی جگہ لے لی تھی۔

تاہم 20 ویں صدی میں سائنس دانوں نے محسوس کیا کہ چاند، سورج اور دیگر سیاروں کی کشش ثقل کے اثرات، زمین کے اندر اور اس کی سطح پر ارضیاتی تبدیلیوں، اور یہاں تک کہ سمندری اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارے سیارے کی گردش میں چند سالوں میں کمی بیشی ہو جاتی ہے یعنی اس میں ایک تغیر پیدا ہوتا جاتا ہے۔

سنہ 1900 میں یہ 21 ویں صدی کے موڑ کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً چار ملی سیکنڈ آہستہ گھوم رہی تھی۔ لہٰذا جب کہ دنیا کے بہترین ٹائم کیپرز اوسط گھڑی یا دادا کی گھڑی سے زیادہ درستگی کا دعویٰ کر سکتے ہیں، وہ خود ’حقیقی‘ وقت تعین کے بارے میں غلط تھے۔

اسی عرصے میں کوانٹم طبیعیات دانوں نے تجویز کیا کہ ایٹموں میں زمین کی گردش کے مقابلے میں وقت کو برقرار رکھنے کا بہتر طریقہ ہو سکتا ہے۔ ایک ایٹم پر برقی مقناطیسی تابکاری کی ایک مخصوص فریکوئنسی لگائیں اور اس کی توانائی کی سطح بدل جائے۔ آپ ان تبدیلیوں پر نظر رکھنے کے لیے الیکٹرانک کاؤنٹر استعمال کر سکتے ہیں۔ جھولتے پینڈولم کی طرح یہ ایک مستحکم متواتر عمل بناتا ہے جس پر ٹائم سکیل کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ ’اٹامک کلاک‘ کی بنیاد ثابت ہوا۔

جوہری گھڑیاں زمین کی گردش پر مبنی کسی بھی گھڑی سے کہیں زیادہ درست طریقے سے وقت کا تعین کر سکتی ہیں۔ حقیقت میں اتنی درست کہ اگر ہم اپنی دنیا کو ان پر پوری طرح سے استوار کر لیں، تو بالآخر ’وقت‘ رات اور دن سے الگ ہو جائے گا، اس طرح سورج 18:00 بجے طلوع ہونا شروع ہو جائے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ٹائم کیپر ہر بار ایک لیپ سیکنڈ کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ وقت کو زمین کی گردش سے ہم آہنگ رکھا جا سکے۔لندن میں این پی ایل میں ‘ہائیڈروجن ماسرز’ دنیا کی سب سے اہم ایٹمی گھڑیاں ہیں۔

دنیا بھر میں ان میں سے کئی سو اور بھی ممالک میں نصب ہیں، جو نیشنل میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ چلاتے ہیں، اور وہ ہم سب کے لیے وقت کے تعین کے لیے نئی ثالث ہیں۔

لیکن ان پر وقت کا تعین کر کے اور اُسے سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے: مقامی کشش ثقل کے اثرات یا ان کے الیکٹرانکس کے درمیان فرق جیسی چیزوں کی وجہ سے کوئی بھی جوہری گھڑی ایک ’کامل‘ آلہ نہیں ہے۔

لہذا میٹرولوجسٹ کو ان خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں یہ ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے؟

این پی ایل جیسی ایک لیبارٹری اگر گھڑی پر وقت کو ایک میعار سے مختلف وقت بتاتے ہوئے دیکھے تو کبھی کبھار تصحیح کا اطلاق کرتی ہے جس کے لیے وہ جوہری گھڑیوں کے بینک سے ٹائمنگ کی معلومات کو ہائیڈروجن ماسر کی مدد سے بہتر کرتی ہے (میٹرولوجسٹ اسے ’سٹیرنگ‘ کہتے ہیں اور اسے ایک سیکنڈ کی طوالت کی وضاحت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔ اس موضوع پر آگے چل کر مزید بات ہو گی۔)

این پی ایل (NPL) پھر اسے پیرس میں ‘بین الاقوامی دفتر برائے اوزان و پیمائش’ (انٹرنیشنل بیورو آف ویٹ اینڈ میژرز) کو بھیجتا ہے۔ بی آئی پی ایم میں ٹائم کیپر ان تمام پیمائشوں کا اوسط بناتے ہیں، جو بہتر کارکردگی دکھانے والی گھڑیوں کو اضافی اہمیت دیتے ہیں۔مزید موافقت کی جاتی ہیں، اور آخر کار یہ عمل اس وقت کا تعین کر لیتا ہے جسے انٹرنیشنل اٹامک ٹائم کہا جاتا ہے۔

مہینے میں ایک بار بی آئی پی ایم ایک انٹرنیشنل اٹامک ٹائم کو ایک انتہائی اہم دستاویز میں بھیجتا ہے جسے ’سرکلر ٹی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دستاویز قومی لیبارٹریوں کو اپنی گھڑیوں کو دوبارہ درست وقت سے موافق ہونے کا موقع دیتی ہے، اور اہم طور پر ایک درست وقت کا علم، جس کی مختلف صنعتوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

برطانیہ کے لیے، یہ کام ‘این پی ایل’ سر انجام دیتی ہے، لیکن امریکہ میں یہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی ہے اور دنیا بھر میں اور بھی بہت سے یہ کام انجام دینے والے ادارے ہیں۔ ’سرکلر ٹی‘ بنیادی طور پر گرین وچ میں گرنے والی گیند کے نظام کی ایک جدید شکل ہے جو ایک عالمی وقت کا تعین کرتی ہے۔

اگرچہ عام طور پر زیادہ تر لوگوں کو نینو سیکنڈ تک کا وقت جاننے کی ضرورت نہیں ہے تاہم بہت سی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز کو یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ این پی ایل سے وابستہ ایک میٹرولوجسٹ، پیٹرک گِل کہتے ہیں کہ ’سیٹیلائٹ نیویگیشن شاید سب سے زیادہ ہر جگہ انتہائی اعلیٰ درستگی کے تقاضوں میں سے ایک ہے لیکن اس کے علاوہ اور بھی ہیں۔ کمیونیکیشن سنکرونائزیشن، توانائی کی تقسیم اور مالیاتی تجارت سب کے لیے وقت کی اعلیٰ درستگی درکار ہوتی ہے۔‘

نئی ٹیکنالوجیزاس سے بھی یہ درستگی کا تقاضہ کرتی ہیں۔ فائیو جی نیٹ ورک وقت کے عین مطابقت کی بنیاد پر بنایا گیا ہے، مثال کے طور پر نیویگیشن ٹیکنالوجی ’خود مختار کاروں‘ کی رہنمائی کرتی ہے۔

اگرچہ بات یہ ہے کہ ایک انٹرنیشنل اٹامک ٹائم اب بھی ایک فرضی ’حقیقی‘ گھڑی کے وقت کو تعمیر کرتی ہے: ایک ایسی پیمائش جس پر دنیا محض اتفاق کر رہی ہے۔ یہ صرف اتنا نہیں ہے کہ یہ کئی مختلف ایٹمی گھڑیوں کا اوسط وقت ہے، جن میں ہر ایک گھڑی قدرے مختلف وقت بتا رہی ہوتی ہے۔

ایک اور وجہ بھی ہے، اور یہ ایک بنیادی سوال کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایک عین سیکنڈ کیا ہے؟ سالہا سال کے عرصے میں اس سیکنڈ کے یونٹ (SI) کی تعریف بدل گئی ہے۔ اور اسی لیے ہماری وقت کی تعریف بھی بدل گئی ہے۔ مزید یہ کہ یہ جلد ہی ایک بار پھر تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ پہلے ہوتا تھا کہ ایک سیکنڈ کی تعریف اوسط شمسی دن کے 86400ویں حصے (1/86,400) کے طور پر کی جاتی تھی۔ اوسط وقت جو سورج کو دوپہر کے وقت آسمان میں اسی نقطہ پر پہنچنے میں لگتا ہے، جس میں تقریباً 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ زمین کی گردش پر مبنی تھا، جسے اب ہم جانتے ہیں کہ مکمل درست نہیں ہے۔

دوسرا، اس تعریف کے مطابق، اس لیے سنہ 1900 میں سنہ 1930 کے مقابلے میں ایک سیکنڈ ذرا لمبا ہوتا تھا، جب سیارے کی اوسط گردش تیز تھی۔ (میٹرولوجسٹوں کو ایک بار کلوگرام کے ساتھ بھی ایسا ہی مسئلہ درپیش تھا: یہ پیرس میں ایک والٹ میں رکھے ہوئے دھات کے بلاک پر مبنی تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ غیر واضح طور پر تبدیل ہو گیا اور اسی وجہ سے ایک کلوگرام کی تعریف بھی ممکن ہوئی۔)

20 ویں صدی کے وسط میں، میٹرولوجسٹ نے فیصلہ کیا کہ وقت کے معاملے میں ایسا نہیں ہو گا۔ لہذا انھوں نے وقت کے لیے ایک نئی تعریف پیدا کی۔

سنہ 1967 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کی بجائے ایک سیکنڈ ایک غیر متزلزل ’سیزیم گراؤنڈ اسٹیٹ ہائپر فائن ٹرانزیشن‘ کی ایک مقررہ عددی قدر پر مبنی ہونا چاہیے۔

پیٹرگِل یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’یہ ذرا ناقابلِ فہم ایک لمبا سا نام معلوم ہوتا ہے۔ تو، اس کا کیا مطلب ہے؟بنیادی طور پر یہ صرف ایک اور متواتر، دہرایا جانے والا عمل ہے، جو کہ تمام ٹائم کیپنگ کی بنیاد بنتا ہے۔

اگر آپ مائیکرو ویوز میں سیزیم کے ایٹموں کو غسل دیتے ہیں، تو وہ ایک مخصوص فریکوئنسی کے ساتھ زیادہ برقی مقناطیسی تابکاری خارج کرتے ہیں جس کا دار و مدار ایٹم کے اندر توانائی کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس فریکوئنسی کی پیمائش کر کے جیسے پینڈولم کے جھولوں کو گننا آپ وقت کے گزرنے کی پیمائش کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگوں کے لیے گھڑی کے وقت کا ایک تاریک پہلو ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں گھڑی کے مطابق زندگی بسر کرو اور اس طرح وقت ہمارا ساتھی بننے کے بجائے ہمارا مالک بن جاتا ہے۔

ماہر عمرانیات باربرا ایڈم نے استدلال کیا ہے کہ جب صنعت نے وقت پر قابو پا لیا، تو یہ ایک ‘قابل مقداری وسیلہ بن گیا جس میں منیپولیشن، انتظام اور کنٹرول کے امکانات ہیں، اور اس طرح اسے ایک جنس کے طور پر، مختص کیا جا سکتا ہے، اس کا استعمال ہو سکتا اور اسے غلط طریقے سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

غیر صنعتی ثقافتیں اکثر وقت کے بارے میں مختلف سوچتی ہیں۔ کچھ کے لیے یہ اوپر کی طرف بہتا ہے، کچھ کے لیے یہ لکیر سے زیادہ جھیل کے مشابہ ہے، جبکہ دوسروں کے لیے، مستقبل پیچھے ہے اور ماضی سامنے ہے۔ وقت کو ایک شے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا جسے ’خرچ‘ یا ’ضائع‘ کیا جا سکتا ہے۔

پیٹر گِل کہتے ہیں کہ کئی دہائیوں سے وقت کی یہ تعریف بہت مضبوطی سے برقرار ہے۔ ’یہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ معیار ہر پانچ منٹ میں تبدیل نہیں ہو رہا ہے، جو میٹرولوجی میں اہم ہے۔‘

اور اسے این پی ایل اور بی آئی پی ایم کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سرکلر-ٹی جیسی دستاویزات پر کیلکولیشن کو کم کیا جا سکے۔

تاہم جیسا کہ سائنس نے ترقی کی ہے اور جیسا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے لیے زیادہ درست وقت درکار ہے۔ ماہرینِ میٹرولوجسٹ نے سیکنڈ کے لیے ایک نئی تعریف پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

یہ راتوں رات نہیں ہو گا۔ شاید سنہ 2030 کی دہائی تک ہو پائے لیکن یہ سنہ 1960 کی دہائی کے بعد مشترکہ ٹائم کیپنگ میں سب سے بڑی تبدیلی کا نشان ہو گا۔

این پی ایل میں ماہر طبیعیات، این کرٹس بتاتی ہیں کہ ’یہاں تک کہ جب سیزیم میں مائکرو ویو کی اس منتقلی کے لحاظ سے سیکنڈ کی تعریف کی گئی تھی، یہ پہلے ہی سمجھا گیا تھا کہ آپ آپٹیکل فریکوئنسی پر جا کر ایک بہتر گھڑی بنا سکتے ہیں۔ آپٹیکل فریکوئنسیاں سیکڑوں ٹیرا ہرٹز میں بہت زیادہ، بہت تیز تر ہوتی ہیں۔ یعنی فی سیکنڈ سینکڑوں کھربوں مرتبہ حرکت کرتی ہیں۔‘

زیادہ تیز فریکوئینسی کیوں بہتر ہے؟ کرٹس اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جس طرح سے آپ اس بارے میں سوچ سکتے ہیں کہ یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے وہ ایک محدود تعداد والے لائنوں والے رُولر کے بارے میں سوچنا ہے۔‘ لہذا، مثال کے طور پر، ایک معیاری رولر پر ملی میٹر نشان لگے ہوتے ہیں، لیکن مائیکرو میٹر کے نشانات نہیں ہوں گے۔ ’اگر آپ لائنوں کی تعداد میں چار کی شدت کے لحاظ سے اضافہ کرتے ہیں، تو آپ واضح طور پر بہت زیادہ درست طریقے سے پیمائش کر سکتے ہیں۔‘

لہذا این پی ایل جیسی لیبارٹریوں میں سائنسدان اب نئی آپٹیکل ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربہ کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اگلی دہائی یا اس کے اندر سیکنڈ کو ایک نئی تعریف مل جائے گی۔اگرچہ کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے بہت زیادہ تجربات اور ٹسیٹوں کی ضرورت ہے۔

کرٹس کا کہنا ہے کہ ’آپ کو (سیکنڈ کی) ایک ایسی تعریف تیار کرنے کی ضرورت ہے جو قابل استعمال ہو، جو عملی ہو، اور پوری دنیا کی مختلف قومی میٹرولوجی لیبارٹریوں کے لیے قابل عمل ہو۔ لہذا یہ صرف ایک مخصوص چیز نہیں ہو سکتی ہے جو صرف ایک گروپ کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ اسے واقعی اچھی طرح سے کرتے ہیں، تو یہ کچھ ایسا ہونا چاہیے جسے ہم عالمی طور پر ایک نئی تعریف کہہ سکتے ہیں۔‘

وقت بطور ایک ذہنی تصور
تو ہم میں سے باقی لوگوں کو اس سب کا کیا کرنا چاہیے؟ ایک تو یہ ایک غیر معمولی سچائی کی وضاحت کرتا ہے: یعنی زمین پر کوئی گھڑی ایسی نہیں ہے جو کبھی بالکل مستحکم ہو یا بالکل صحیح شرح پر چل سکے۔ یہ اس وقت سچ تھا جب لوگ سورج کی گردش پر مبنی سن ڈائیلز استعمال کرتے تھے، اور یہ آج بھی سچ ہے۔ یہاں تک کہ اٹامِک ٹائم کیپنگ کے ساتھ بھی یہ ایک سچ ہے۔

مثال کے طور پر، سیکنڈ ہمارے پاس دستیاب ٹیکنالوجی کے مطابق تعریف کیا گیا ہے، اور یہی میٹرولوجسٹ کے ایک گروپ نے دستیاب ٹیکنالوجیز کے انتخاب کا فیصلہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایٹمی گھڑیاں چاہے کتنی ہی درست کیوں نہ ہوں، پھر بھی انھیں رہنمائی یعنی ‘سٹیرنگ’ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب میٹرولوجسٹ ٹائم سکیل میں لیپ سیکنڈز شامل کرنے جیسے کام کرتے ہیں، تو وہ انسانی ضروریات کے مطابق وقت کو ایڈجسٹ کر رہے ہیں: اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کچھ چیزیں ایک جیسی رہیں جیسے صبح کے طلوع آفتاب کا لطف۔گھڑی کا وقت وہی ہے جس پر ہم متفق ہیں۔ یہ صحیح وقت نہیں ہے۔

تاہم جدید معاشروں کے اندر رہنے اور کام کرنے کی کے لیے اس پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ان دنوں میں واپس چلے جائیں جب تمام وقت کی مقامی طور پر تعریف کی گئی تھی، تو ہماری بہت سی ٹیکنالوجیز کام کرنا چھوڑ دیں گی، ٹرینوں کے حادثات ہو جائیں گے، اور مالیاتی منڈیاں تباہ ہو جائیں گی۔ آپ پسند کریں یا نہ کریں، دنیا گھڑی کے وقت پر کھڑی ہے۔

اگرچہ وقت کے اس تصور کی بنیادیں اصل میں کیا ہیں اس پر غور کرنا ہمارے ذہن کو منور کسرسکتا ہے۔ جب آپ ایک میٹرولوجسٹ کی طرح وقت کے بارے میں سوچتے ہیں تو وقت کچھ مختلف ہو جاتا ہے۔

این پی ایل کی جانب واپس بات کرتے ہیں، جب میں نے ’ماسر کو ہاتھ نہ لگائیں‘ کا نشان پڑھا تھا، میں نے ہمیں اس مرکز کی سیر کرانے والے سائنسدانوں میں سے ایک سے پوچھا تھا کہ کیا وہ خود ایک اچھا ٹائم کیپر ہے: مثلاً کیا وہ ذاتی طور پر وقت کا پابند ہے؟ اُس نے جواب دیا ‘اوہ، میں صرف نینو سیکنڈ میں سوچتا ہوں۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …