بدھ , 8 فروری 2023

مذہبی یہودیوں کی "نیٹزہ یہودا” بٹالین "مذہب” کی آڑ میں جرم

حریدی برادری اور اسرائیلی وزارت دفاع کے درمیان بھرپور تعاون جاری ہے۔ اس تعاون کا عملی نتیجہ "نیتزہ یہودا” نامی ایک بٹالین ہے جس کا نام حالیہ دنوں میں فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے جرائم کی وجہ سے زیادہ عام ہوا ہے۔

"نیتزہ یہودا” بٹالین قابض فوج کی سب سے انتہا پسند اور بنیاد پرست بٹالین ہے۔ اسرائیلی فوجی ماہرین اسے دائیں بازو اور مذہبی بنیاد پرست بٹالین کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس کے ریکارڈ میں جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اسے ایک انتہا پسند اور دہشت گرد بٹالین میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ بٹالین سے ملیشیا میں بدل گئی جسےاسرائیلی فوج کی سرپرستی میں فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی مکمل آزادی حاصل ہے۔یہ فوج اور اسرائیلی عدالتوں کے اندر احتساب سے تقریباً مکمل طور پر محفوظ ہے۔

اس میں انتہا پسند نظریاتی عقائد اور عرب اور فلسطین مخالف بائبلی نظریات رکھنے والے آباد کاروں کے علاوہ انتہائی آرتھوڈوکس مذہبی کے سپاہی شامل ہیں، جو انہیں اپنے خلاف انتقامی تشدد پر عمل کرنے کے لیے اندرونی مقابلے کی طرف لے جاتے ہیں۔

"نیتزہ یہودا‘‘ بٹالین 1999 میں قائم کی گئی تھی، جیسا کی کفیر بریگیڈ کی ایک بٹالین، جس کے اہلکاروں کی تعداد 900 تھی۔ یہ الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹی اور اسرائیلی وزارت دفاع کے درمیان قریبی تعاون پر مبنی فوجی بریگیڈ تھا۔اس کا مقصد حریدی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرنا تھا۔

مذہبی بریگیڈ

مرکزاطلاعات فلسطین کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اسرائیلی امور کے ماہر معتصم سمارہ نے کہا کہ یہ ایک مذہبی بٹالین ہے جو مذہبی یہودیوں کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق فوج میں شامل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔اس میں ابتدائی طور پر 30 فوجی شامل تھے۔ لیکن یہ برسوں کے دوران بہت پھلی پھولی اور ایک مکمل بٹالین کی حیثیت تک پہنچ گئی۔ اس کے سپاہیوں کی تعداد 1000 سے زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے اس بٹالین کو "ناحال حریدی” کے نام سے جانا جاتا تھا، جو کہ تین عبرانی الفاظ "نوعار اکسزاوی ہریدی” کا مخفف ہے، جس کا مطلب ہے "پابند فوجی جوان”۔ پھر اس کا نام بدل کر "نیتزاہ یہودا” کر دیا گیا۔ جس کا مطلب ہے "ابدی یہود”۔

سمارہ کا کہنا ہے کہ بٹالین اپنی صفوں میں خواتین کو شامل نہیں کرتی۔ یہودی غذائی قوانین کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل کرتی ہے، "کوشیر” (یہودی قانون کے مطابق حلال) کو اپنی خوراک کے طور پر لیتی ہے۔ ہفتے کے دن کام نہیں کرتی اور ان تمام اقدامات پر عمل کرتی ہے تاکہ مذہبی یہودیوں کی ممکنہ بڑی تعداد کو فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔

سمارا بتاتے ہیں کہ قابض ریاست کا قانون "مرد اور خواتین شہریوں” کو لازمی فوجی خدمات کا پابند کرتا ہے، لیکن مذہبی یہودیوں کی اکثریت مذہب کے کل وقتی مطالعہ کی بنیاد پر اس سروس کو انجام دینے سے انکار کرتی ہے۔ قابض ریاست کے قیام کے بعد سے ہی مذہبی یہودیوں کی اکثریت اس سروس کو انجام دینے سے انکاری ہے۔ ریاست میں ڈیوڈ بین گوریون اور الٹرا آرتھوڈوکس تحریک کے رہ نماؤں کے درمیان فوج میں حریدی نوجوانوں کی ایک بہت کم فیصد بھرتی کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

اس بٹالین نے قابض ریاست کے اندر انتہا پسند تحریک کے فوائد کے بارے میں کافی تنازع کھڑا کیا۔ یہ انتہا پسند گروپ اسرائیل میں آبادی کے تناسب سے تقریباً 12 فیصد ہے۔ ریاست اس تحریک کے بچوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونے کے بعد بھی ان پر خرچ کرتی ہے۔ سمارا کے مطابق ان کی تعلیم، رہائش، کھانے پینے کے اخراجات حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں۔ نیتزہ یہودا بریگیڈ ربیوں کے ایک گروپ نے قائم کی تھی تاکہ حریدی پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جائے اور انہیں بھرتی کیا جا سکے۔

مقدس مشن

محقق ولید حباس کی طرف سے فلسطینی سینٹر فار اسرائیل اسٹڈیز "مدار” کے ذریعہ شائع کردہ ایک مطالعہ کے مطابق "نیتزہ یہودا اسرائیلی فوج میں ایک دائیں بازو کی، مذہبی اور باغی بٹالین ہے جو مغربی کنارے کے اندر کام کرتی ہے”۔ بٹالین بنیادی طور پر رام اللہ کے علاقے اور اس کے اطراف میں کام کرتی ہے اور اس میں بھرتی کا طریقہ "یشیوا ہیسڈر‘‘ کے طرز پر چلتا ہے، جو ایک ایسا کورس ہے جو فوجی علوم کو بائبل کے مذہبی علوم کے ساتھ ملاتا ہے۔

اگرچہ یہ بٹالین 1999ء میں حریدی نوجوانوں کے لیے ایک انکیوبیٹر کے طور پر قائم کی گئی تھی جنہوں نے اسکول چھوڑ دیا تھا، لیکن اس میں حریدیم کی ایک چھوٹی سی تعداد شامل ہے۔ برسوں کے دوران یہ ایک مذہبی سیاسی بٹالین میں تبدیل ہو چکی ہےاور اس میں انتہا پسند صیہونی ارکان شامل ہیں۔ ہل یوتھ”، حریدی آباد کاروں اور مذہبی آباد کاروں کے علاوہ دوسرے جو خواتین کے ساتھ تعلق نہیں رکھنا چاہتے اس بٹالین میں شامل ہوتے ہیں۔

حباس بتاتے ہیں کہ جو چیز اس بٹالین کو ممتاز کرتی ہے وہ ایک نظریاتی، مذہبی اور سیاسی نظریے کا کرسٹلائزیشن ہے جو اس کے سپاہیوں کو یہ یقین کرنے پر اکساتا ہے کہ فلسطینیوں پر فیصلہ مسلط کرنا اور انہیں کنٹرول کرنا مذہبی طور پر ایک "مقدس” مشن ہے، نہ کہ صرف ایک فوجی مشن سے منسلک۔ فوج کی کمان کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے میں ایک کیپٹن اتمار ڈشیل نے وضاحت کی۔ وہ 2016-2018 کے درمیان "نیتزہ یہودا” بٹالین کے کمانڈر تھے۔ اس لیے کہ اس بٹالین کے زیادہ تر سپاہیوں نے پہلے بغاوت کی تھی۔ اپنے خاندانوں اور ربیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور تورات کا مطالعہ کرنے میں ناکام رہے۔ وہ فلسطینیوں پر "مقدس حکمرانی” میں اپنے آپ کو حد سے زیادہ تشدد کا قائل قرار دیتے ہیں۔

خلاف ورزیاں اور جرائم

گذشتہ برسوں کے دوران، فلسطینیوں کے خلاف اس بٹالین کے ارکان کی طرف سے کئی خلاف ورزیوں اور جرائم کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جن میں سے سب سے مشہور یہ ہیں:

– فلسطینی نژاد امریکی عمر اسعد (78 سال) کو 12 جنوری کو رام اللہ کے شمال میں جلجلیا گاؤں کی چوکی پر طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد، ہتھکڑیاں لگا کر اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر بدسلوکی کے بعد سخت سردی میں پھینک دیا گیا۔

پہلے تو قابض فوج نے بزرگ فلسطینی کی شہادت سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا لیکن امریکی اصرار کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ حادثے کی وجہ ’فوجی قوت کی اخلاقی ناکامی‘ ہے۔

– 24 اگست کو TikTok پلیٹ فارم پر ایک مختصر ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا کہ بٹالین کے 3 سپاہیوں نے رام اللہ کے مغرب میں (تلمونیم) بستی کے قریب ایک فلسطینی شہری کو بری طرح مارا پیٹا اور بدسلوکی کی۔

عبرانی اخبار (ہارٹز) کے مطابق اپریل 2021 میں بٹالین کے سپاہیوں نے رام اللہ کے قریب عفرا بستی کے داخلی دروازے پر ایک فلسطینی کار کو روکا اور ڈرائیور کو جو ایک فلسطینی خاندان کو لے کر جا رہا تھا کو حکم دیا کہ وہ گاڑی روکے۔ اس نے گاڑی سڑک پر کھڑی کی اور گاڑی سے باہر نکالا۔پھراسے پاگلوں کی طرح مارنا شروع کر دیا۔

کسی بھی سزا سے محفوظ ہیں۔

عبرانی اخبار (ہارٹز) نے وضاحت کی ہے کہ "نیتزا یہودا” بٹالین ایک باغی بٹالین ہے اور اسے آبادکار رہ نماؤں اور مذہبی صہیونی ربیوں سے اس کے احکامات موصول ہوتے ہیں جو فوج کی کمان سے وابستہ ہونے کے بجائے مسلسل اس کے اڈے کا دورہ کرتے ہیں۔ حد سے زیادہ اور بلا جواز تشدد کے استعمال، اور فلسطینیوں پر حملے سے ثابت شدہ مقدمات کے باوجود یہ گروپ اور اس کے عناصر سزا سے محفوظ ہیں۔

بلاجواز تشدد کے استعمال کے مقدمات کے ثبوت کے باوجود ، فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی ،غیر ملکی صحافیوں کے سازوسامان کی چوری اور فلسطینی گھروں اور سہولیات پر قبضہ جیسے سنگین نوعیت کے جرائم پر اس گروپ کو کھلی چھوٹ حاصل ہوتی ہے۔

متعدد صحافی اور مقبوضہ ریاست میں فوج کے امور میں دلچسپی رکھنے والے افراد نے بٹالین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس میں متعدد غیر معمولی خصوصیات ہیں۔ لہذا یہ ربیوں کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔بشکریہ مرکزاطلاعات فلسطین

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …