بدھ , 8 فروری 2023

عمران خان کی نئی چال

(انصار عباسی)

عمران خان کا لانگ مارچ ناکام ہوا۔ نہ لاکھوں لوگ آئے، نہ وعدے کے مطابق اسلام آباد کی طرف مارچ کیا گیا کہ حکومت کو فوری الیکشن کروانے پر مجبور کیا جائے لیکن اس کے باوجود عمران خان سیاسی طور پر پی ڈی ایم اور اتحادیوں کی موجودہ حکمت عملی پر بھاری ہیں۔

اتحادی حکومت اگرنئے آرمی چیف کی تعیناتی میں عمران خان کا پریشر نہ لینے میں کامیاب ہوئی تو خان نے بھی اپنا پینترا بدلا اور لانگ مارچ کا راولپنڈی میں ہی اختتام کر کے نیا سرپرائز دے دیا کہ اب تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں کو تحلیل کرکے حکومت کو جلد الیکشن کرانے پر مجبور کرے گی۔

لانگ مارچ کا اصل مقصد دراصل اسٹیبلشمنٹ پر دبائو ڈالنا تھا لیکن نئے آرمی چیف کی تعیناتی نے اب تحریک انصاف اور عمران خان کی ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہےکہ مقتدر اداروں پر دبائو ڈال کر فوری الیکشن کی تاریخ لی جا سکتی ہے۔ جنرل باجوہ نے اگرگزشتہ چھ سات مہینوں کے دوران تمام تر دبائو کے باوجود ایسا نہیں کیا تو بھول جائیں کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایسا کچھ کریں گے کیوں کہ ایسا کرنے سے فوج مزید متنازع ہو جائے گی۔

ان حالات میں لانگ مارچ اسلام آباد آ بھی جاتا تو خان کو کچھ نہ ملتا۔ اس لئے عمران خان نے بظاہر بغیر کسی سے مشاورت کے نئی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا کہ اب تحریک انصاف تمام اسمبلیوں سے استعفے دے گی جب کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے اعلیٰ اپنی اپنی حکومتوں کو ختم اور اسمبلیوں کو تحلیل کر دیں گے جس کے لئے عمران خان نے کہا کہ وہ جلد مشاورت شروع کریں گے۔

حکومتی اتحاد نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان ناکام ہو گئے ہیں، اُن کا لانگ مارچ ناکام ہو گیا اور اس لئے اب اُنہوں نے فیس سیونگ کے لئے ایک نئی بات کر دی۔ ویسے پچھلے کئی مہینوں سے بار بار پی ڈی ایم کے رہنما اور بہت سے صحافی یہ کہتے رہےہیں کہ عمران خان کو اگر جلد الیکشن کروانے ہیں تو وہ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اپنی حکومتوں کی قربانی دے ، اسمبلیوں کو تحلیل کرے تو پھر پی ڈی ایم کے پاس بھی فوری الیکشن کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں رہے گا۔

اب عمران خان نے یہ اعلان کر دیا ہے تو پی ڈی ایم کے رہنما اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ دونوں صوبوں میں عدم اعتماد کی تحریکیں پیش کریں گے تا کہ اسمبلیوں کو تحلیل نہ کیا جا سکے۔ اگر ایسا ہو بھی گیا تو اسمبلیوں کی تحلیل کو چند ہفتوں تک ہی روکا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اگر پی ڈی ایم کے ساتھ مل جائیں تو پھر کھیل بدل سکتا ہے لیکن اس بارے میں مونس الٰہی نے گذشتہ رات کو ہی اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس بات کا اعلان کر دیا کہ پرویز الٰہی خان صاحب کے حکم پر پنجاب حکومت کوفوری طور پر ختم اور اسمبلی کو تحلیل کر دیں گے۔

سیاسی طور پر بھی پرویز الٰہی کو پی ڈی ایم کے ساتھ ملنا سوٹ نہیں کرتا۔ الیکشن آج ہوتے ہیں، چھ ماہ بعد یا اگلے سال اکتوبر میں ، عوام کی اکثریت کی حمایت فی الحال عمران خان کے ساتھ ہی نظر آتی ہے۔

پرویز الٰہی کو معلوم ہے کہ اگر عمران خان کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے تو وہ یقینی طور پر الیکشن جیت جائیں گے، دوسری صورت میں اُن کے لئے سیاسی رسک زیادہ ہے۔

حکمراں اتحاد عمران خان کی سیاست کے متعلق جو بھی تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حقیقت میں اُن کے لئے اب پہلے سے زیادہ پریشانی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔

عمران خان نے جو اعلان کیا اُس طرف جیسے جیسے وہ بڑھیں گے، پی ڈی ایم کے لئے ویسے ویسے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام بڑھے گا جس کا حکمراں اتحاد کو عمومی طور پر اور ن لیگ کو بالخصوص بہت زیادہ نقصان ہو گا۔

ویسے اگر خان صاحب غور کریں تو معاشی عدم استحکام کا اُن کو بھی نقصان ہو گا کیوں کہ اگر وہ ایک سال بعد بھی اپنی حکومت بناتے ہیں اور اُنہیں انتہائی خراب معیشت ملتی ہے تو وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں گے اور اُن کی حکومت نہیں چل سکتی چاہے وہ دوتہائی اکثریت کے ساتھ بھی آئندہ الیکشن جیت جائیں۔

پی ڈی ایم کے لئے مناسب ہو گا کہ بجائے اس کے کہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے ساتھ اپنی حکومت کی مدت پوری کرنے کی ضد کریں، عمران خان کو بات چیت کی دعوت دیں اور آئندہ سال جون میں الیکشن کروانے کے بارے میں سوچیں۔

بات چیت سے سیاسی استحکام بھی آئے گا اور معاشی صورتحال بھی مزید ابتری سے بچ جائے گی۔ سیاست دانوں میں اقتدار کے حصول کی رسہ کشی تو کبھی ختم نہیں ہونے والی، پاکستان اور عوام کے مفاد میں یہی بہتر ہےکہ دونوں فریق بات چیت کے ذریعے الیکشن کا فیصلہ کریں جو جون میں ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس دوران پاکستان کی معیشت، بہترین طرز حکمرانی،حکومتی اداروں کو عوامی مسائل کے حل کرنےکے لئے فعال بنانے، جلد انصاف کی فراہمی، پولیس و افسر شاہی کو غیر سیاسی کرنے جیسی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کریں جو پاکستان اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …