بدھ , 8 فروری 2023

لانگ مارچ کا اختتام

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)

پرسوں رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پاکستانی قوم کو وہ سرپرائز مل گیا جس کی نوید عمران خان ایک عرصے سے دیتے چلے آئے تھے۔خان صاحب نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں سارا زور اپنے اُسی آموختہ کو دہرانے پر لگایا جو پبلک کئی ماہ سے سنتی چلی آئی ہے لیکن یا تو یہ بیانیہ اتنا ادق ہوتا ہے کہ لوگوں کے دائرہئ تفہیم میں نہیں آتا یا کپتان کی شخصیت کا وہ کرشمہ ہے جس کو غیر ملکی مبصرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔اگر کسی کو کوئی شک ہو تو وہ یہ ایکسر سائز خود کر کے دیکھ لے۔تیسری بار سامعین تنگ آ جائیں گے اور پنڈال خالی کرنے پر اتر آئیں گے لیکن عمران خان کی آواز اور ادائے بیان میں کچھ ایسا ضرور ہے کہ ”پاکستان زندہ باد“ تک حاضرین ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

26نومبر کی شب عمران خان نے یہ اعلان کر کے سب کو چونکا دیا کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی کال دینے والے ہیں۔اِس ناگہانی کال کی کسی کو بھی امید نہ تھی۔لوگوں کی اکثریت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ یہ کال اسلام آباد پر چڑھ دوڑنے کی کال ہو گی تبھی تو خیمہ بستی کے قیام کا ڈول ڈالا گیا تھا اور کم از کم تین دن کے راشن پانی کا انتظام و انصرام کیا جا رہا تھا۔پنجاب اور کے پی کی صوبائی اسمبلیوں سے پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفوں کی بات اِس سوال کی شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اراکین کی اکثریت اس کال پر لبیک کہے گی یا موجودہ سیاسی صورتِ حال کا تسلسل چاہے گی۔

میرے خیال میں خان صاحب کی اِس سرپرائز کال (یا فیصلہ) کے پیچھے ایک سوچی سمجھی پراسس ہے جو درجِ ذیل پانچ سات وجوہات کی بنا پر بروئے اعلان لائی گئی:

اولاً: ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ابھی عمران کی دائیں ٹانگ کا زخم بھرنے میں تین ماہ کا عرصہ درکار ہو گا…… یہ تین ماہ ایک ابتدائی اندازہ ہے جو زیادہ طول بھی کھینچ سکتا ہے۔26 نومبر والے جلسے میں خان صاحب کا واکر پر چل کر آنا جہاں ان کی جسمانی بے بسی کا مظہر تھا وہاں حاضرین کے جذبہ ئ ترحم ّ کو بھی آواز دے رہا تھا۔یہ آواز مرورِ ایام کے ساتھ فکر و خیال سے نکل کر کسی منفی عمل و تعامل تک بھی جا سکتی تھی جسے عمران خان نے محسوس کر لیا تھا۔اگلے جلسوں کے لئے ہر بار لاہور سے باہر نکلنا، پرائیویٹ جیٹ اور ہیلی کاپٹر کی فراہمی کا بکھیڑا، بُلٹ پروف کنٹینر کا اہتمام اور پھر جلسہ گاہ سے واپس زمان پارک لاہور تک کا سفر جن مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے،ان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ثانیاً: موسم کی شدت…… اگر لانگ مارچ یا آئندہ کے جلسے جلوسوں کی ڈرل جاری رکھی جاتی تو دسمبر سے فروری تک کے سرد موسم میں خواتین اور بزرگوں کی شرکت ایک سوالیہ نشان بن سکتی تھی۔یہ کم ہوتی تعداد حکومت ِ وقت کو یہ بہانہ فراہم کر سکتی تھی کہ لوگ پی ٹی آئی کے جلسوں سے اب آخر کار تنگ آ چکے ہیں اور گھروں سے باہر نکلنا نہیں چاہتے…… موسم سرما کی آنے والی شدت نے عمران خان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہو گا کہ وہ اس سلسلے کو فی الحال روک دیں۔

ثالثاً: جان کا خطرہ…… حکومت کی طرف سے بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ عمران خان راولپنڈی کا رخ نہ کریں۔فلاں فلاں تنظیم کی طرف سے ان پر خود کش حملے کا اندیشہ ہے۔اِس وارننگ میں حقیقت تھی یا نہیں اس پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن وزیر آباد کا سانحہ تو عمران خان کے سامنے تھا۔اس کا اعادہ ناممکن نہیں تھا۔اس وارننگ سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو خان صاحب کی ذاتی سیکیورٹی کے ضمن میں جو اقدامات کرنا پڑے ان کی تفصیل میڈیا پر تو نہیں لائی گئی لیکن واقفانِ حال جانتے ہوں گے کہ ان میں سرمایہ و محنت کا ایک کثیر حصہ شامل تھا۔آئندہ کے جلسوں میں یہ حصہ کم نہیں، زیادہ ہونے کی توقعات بے محل نہیں تھیں۔

رابعاً: نئی عسکری قیادت کے ردعمل کا انتظار…… جنرل عاصم منیر کل آرمی کی کمان سنبھالیں گے۔ہر آنے والا چیف اپنی نئی ”کمانڈ اینڈ سٹاف ٹیم“ بھی لاتا ہے۔گزشتہ آٹھ ماہ میں جانے والی عسکری قیادت کے بارے میں خان صاحب جن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں،ان سے ملک کا بچہ بچہ واقف ہے۔ خود آرمی کے رینک اینڈ فائل تک پر ان خیالات کا اثر انداز ہونا ناممکنات میں نہیں۔ دوسرے آنے والے جنرل صاحب کی آنے والے چند روز اور چند ہفتوں کی پیشہ ورانہ مووز (Moves) اُس وقت تک گو مگو کے پردے میں رہیں گی جب تک وہ آشکارا ہو کر سامنے نہیں آ جاتیں۔ان(Moves) پر ہمارا میڈیا حسب ِ سابق اپنے اپنے انداز اور اپنے مفادات کے لئے طوفان اٹھانے یا طو مار باندھنے میں پیش پیش ہو گا۔میرے خیال میں اِس پر ابھی سے پابندی لگا دینی چاہئے اور پیمرا کو اس امر کا پابند بنا دینا چاہئے کہ وہ اس پابندی کا اطلاق کرنے اور اسے روبہ عمل لانے میں کسی تساہل سے کام نہ لے۔

خامساً: اسلام آباد میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ…… عمران خان نے لانگ مارچ کا اختتام کر کے سب سے احسن اقدام یہ کیاکہ شرکائے مارچ کو اسلام آباد میں جانے سے روک دیا ہے، عوام کالانعام ہوتے ہیں۔اگر سارے نہیں تو ان کی اکثریت جذبات کی رو میں بہہ جانے کا میلان رکھتی ہے۔ عمران خان نے اسے بروقت روک کر آرمی کی نئی قیادت کو جو پیغام دیا ہے اس کے جواب کی توقع بھی رکھی ہو گی۔علاوہ ازیں عدالت عالیہ اور عظمیٰ دونوں اسلام آباد میں ہیں اگر شرکائے لانگ مارچ کا جم ِ غفیر اسلام آباد میں داخل ہو جاتا تو ساتھ ہی لوگوں کے جذبات کا امتحان بھی ہوتا اور یہ امتحان سخت بھی ہو سکتا تھا۔سیکیورٹی فورسز، حرکت میں آتیں تو جگ ہنسائی الگ ہوتی اور عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو سکتی تھی۔ہمارے ہمسائے (خصوصاً مشرقی ہمسایہ) یہی چاہتے ہیں اور گزشتہ آٹھ ماہ میں انڈین میڈیا نے پاک آرمی کے خلاف جو طوفانِ بدتمیزی اٹھا رکھا ہے اور جس میں فارن میڈیا بھی ”صدقِ دِل“ سے اپنا رول ادا کر رہا ہے،اس کو سنبھالنا ایک الگ مصیبت ہوتی۔

سا دساً: پاکستان کا معاشی اور سیاسی عدم استحکام…… اِس وقت پاکستان کو جس معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اس پر ہمارے میڈیا پر آئے روز بحث و مباحثہ کی کھلبلی مچی ہوتی ہے لیکن جن اداروں اور اشخاص نے یہ رول ادا کرنا ہے وہ خاموش ہیں۔یہ خاموشی مصلحت آمیز ہے یا مصلحت کش ہے، اس کا اندازہ آنے والے چند روز میں ہونے والا ہے۔عمران خان نہیں چاہتے ہوں گے کہ اس انحطاطی کھیل میں باؤلنگ کریں یا کروائیں۔وہ بار بار یہی دلیل لاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ترقی اور استحکام کی پچ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔اگر وہ اِس لانگ مارچ کو یہاں بریک نہ لگاتے تو اندیشہ تھا کہ حالات مزید بگڑ جاتے۔ہمارے خیال میں خان صاحب نے اِس مارچ کو ختم کر کے بہت اچھا کیا ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے استعفوں تک نوبت آتی ہے یا نہیں، یہ بات بحث طلب ہے اور اس پر لے دے ابھی سے ہو رہی ہے۔ میری Gut Feeling یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔اگر عمران خان کا زخم آئندہ تین چار ماہ میں بھر جاتا ہے اور وقت سے پہلے الیکشن ہونے کے آثار منظر عام پر آ جاتے ہیں تو خان صاحب کو اپنی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینے کی جسمانی فراغت میسر آ جائے گی۔ چنانچہ 26نومبر کے اعلان کو اگر سرپرائز کہا جائے تو اس کی پشت پر مثبت اور سٹرٹیجک مضمرات کی پشتیبانی بھی موجود ہے!بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …