بدھ , 8 فروری 2023

اسمبلیوں سے نکل جائیں گے یعنی؟؟

(تحریر: سید اسد عباس)

ایک طویل سیاسی اور احتجاجی ڈرل کے بعد عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی کے جلسے میں ایک اچھوتا بیان جاری کیا کہ وہ اب اس نظام کا حصہ نہیں رہیں گے اور اسمبلیوں سے نکل جائیں گے۔ اس بیان کے حوالےسے پی ڈی ایم کے مختلف لیڈر بیانات جاری کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ عمران خان نے یہ بیان فیس سیونگ کے لیے دیا ہے، کسی کا کہنا ہے کہ اگر یہی اعلان کرنا تھا تو لاہور سے ہی کر دیتے، لوگوں کو راولپنڈی بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر عمران خان قومی اسمبلی کی مانند صوبائی اسمبلیوں سے نکل جاتے ہیں تو کچھ نہیں بدلے گا بلکہ قومی اسمبلی کی مانند صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف حکومت تشکیل دے دے گی۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ حکومت نہیں چھوڑیں گے بلکہ پی ٹی آئی کے اراکین بھی عمران خان کے اس حکم پر عمل نہیں کریں گے۔

یہ تمام ردعمل ہیجانی ہیں، میرے خیال میں عمران خان نے تمام آئینی جہتوں کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ لیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم چاہیں تو اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ اس لاکھوں کے مجمع کو کوئی طاقت روک نہیں سکے گی۔ عمران خان نے اپنے گذشتہ لانگ مارچ کا بھی حوالہ دیا کہ جب ہم اسلام آباد پہنچے تو دھرنا دے سکتے تھے، تاہم جب میں نے سکیورٹی فورسز کا ارادہ دیکھا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ عوام اور سکیورٹی ادارے آمنے سامنے آئیں گے اور اس سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یہی اندیشہ اب بھی ہے۔ روایتی سیاست کرنے والوں کے لیے یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ ایک جانب قربانی دے کر آزادی لینے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب تصادم سے خوفزدہ ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو عمران خان اور ان کی جماعت کے قائدین آزادی کے اس بیانیہ کے لیے لازمی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ خود عمران خان گولیاں کھا چکے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو جاننے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے، درحقیقت اس کے پیچھے ایک بہت گہرا تانا بانا ہوتا ہے، جس کو سمجھے بغیر پاکستانی سیاست میں فیصلے کرنا کسی طور بھی دانشمندی نہیں ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ موجودہ حاکم کسی سیاسی یا آئینی عمل سے برسراقتدار نہیں آئے ہیں۔ ان حاکموں کو برسر اقتدار لایا گیا ہے۔ عمران خان یہ بھی جانتے ہیں کہ کنگ میکرز اس حکومت کے پیچھے کھڑے ہیں اور وہ آئینی طریقوں کے ساتھ ساتھ دباؤ بڑھانے کے تمام تر حربوں کو بروئے کار لانے کے ماہر ہیں۔ عمران خان کو اندازہ ہے کہ اگر ان کی تحریک متشدد ہو جاتی ہے تو ان کنگ میکرز کو اس تحریک کو کچلنے کا بہانہ مل جائے گا۔ جیسا کہ تحریک لبیک کو بنایا اور پھر کچلا گیا۔

یقیناً عمران خان کے پاس کنگ میکرز کے اندرونی حلقوں سے بھی اطلاعات پہنچ رہی ہیں اور جو وہ جانتے ہیں، بہت سے دیگر لوگوں کو ان کی خبر نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ عمران خان نے عوام اور ملک کو تصادم اور افراتفری سے بچاتے ہوئے جس آئینی راہ کا انتخاب کیا ہے، اس کے کیا اثرات اور نتائج ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک یوٹرن یا اتحادیوں کی جانب سے عمران خان کے اس فیصلے کے خلاف جانے کی بات ہے تو اس کے امکانات بہت کم ہیں۔ عمران خان کے گذشتہ سات ماہ میں لیے گئے دانشمندانہ فیصلے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ عمران خان معلومات اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے لے رہے ہیں اور اب تک ان کو اپنے کسی بھی اقدام میں ناکامی نہیں ہوئی ہے۔ اسمبلی سے استعفوں کا فیصلہ اور پھر ضمنی نشستوں پر عمران خان کی جیت نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔

سیاسی میدان میں اس وقت عمران خان کا طوطی بولتا ہے، کوئی ایک بھی شخص عمران خان کے مقابل کھڑا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہم نے دیکھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی جو تحریک انصاف کے ایک اہم راہنماء تھے، عین دھرنے کے دوران عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے، تاہم ان کا ساتھ چھوڑنا ان کے لیے سیاسی خود کشی ثابت ہوا۔ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والے تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز اس وقت منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ فیصل ووڈا نے عمران خان پر خودکش حملے کی کوشش کی، جو ناکامی سے دوچار ہوئی۔ یہ آئندہ بھی ہوگا۔ عمران خان کا کوئی بھی اتحادی یا پارٹی رکن جو عمران کے بیانیہ یا عمل کے خلاف جائے گا، اس کی سیاست ایک طرح سے ختم ہو جائے گی۔ لہذا اس وقت کوئی بھی ایم پی اے یا ایم این اے حتی کہ اتحادی عمران خان کے اس اعلان کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سپریم کورٹ کے نااہلی کے حالیہ فیصلے کے بعد تو یہ اور بھی مشکل ہوچکا ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کے حکم کے خلاف عمل کرے گا، اسے اپنی اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونا پڑے گا۔

اب رہا سوال اسمبلیوں سے نکلنے کا۔ لوگ اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیں کہ عمران خان اسمبلیوں کو تحلیل کریں گے یا فقط ان اسمبلیوں سے استعفے دیں گے۔گذشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے اس مسئلے کے حوالے وضاحت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرتے ہیں تو وفاقی حکومت کے پاس جواز ہے کہ وہ ان صوبوں میں گورنر راج نافذ کر دے۔ ہم اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں گے، تاکہ حکومت کے پاس ضمنی انتخابات کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے۔ آئین کے مطابق کسی بھی مستعفی ہونے والے رکن کی سیٹ پر ساٹھ روز کے اندر اندر انتخاب کروانا لازم ہے۔ اگر پورے پاکستان میں تحریک انصاف کی خالی ہونے والی نشستوں کا اندازہ لگایا جائے تو یہ تقریباً سات سو کے قریب نشستیں بنتی ہیں۔

معاشی طور پر مشکلات کا شکار ملک، جو اپنی بیرونی ادائیگیوں کے لیے منتیں ترلے کر رہا ہے، اس کے لیے ان سات سو نشستوں پر انتخابات کروانا ایک مشکل امر ہے۔ زیادہ سے زیادہ حکومت قومی اسمبلی کی مانند استعفوں کو التوا میں ڈال سکتی ہے، تاہم عملاً ملک میں جمہوریت کا بستر گول ہو جائے گا۔ ایسے میں کوئی چارہ نہیں ہے کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں۔ عمران خان نے حکومت کو نہیں بلکہ کنگ میکرز کو اس وقت مشکل میں ڈال دیا ہے۔ وہ ان سے آئینی اور سیاسی میدان میں لڑ رہا ہے، جس میں یقیناً آخری جیت عوام کی ہی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …