بدھ , 8 فروری 2023

دیار حرمین میں اسلام کی تضحیک اس بار ہالووین کی شکل میں

(تحریر و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)

بہرحال آج کے زمانے میں محمد بن سلمان کے کرتوتوں کو اپنی حکمرانی کے لئے کوئی شرعی جواز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے؛ اگرچہ آج بھی ان کے قبضے میں ایسے درباری مولویوں اور مفتیوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو بظاہر مولوی اور بہ باطن مغرب اور صہیونیت کے سپاہی ہیں۔ وہ اب بطور مسلمان ظاہرداری اور مسلمانی کی نمائش کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔

ہالووین (Halloween) عالم اسلام ہی نہیں بلکہ کچھ مغربی ممالک کے سوا باقی تمام ممالک میں بھی ایک بدیسی میلہ سمجھا جاتا ہے لیکن جس طرح کہ مسلم دنیا سمیت تقریبا پوری دنیا کے عیسائی اور غیر عیسائی – حتی کہ ہندو، جاپانی، کورین اور چینی – کرسمس مناتے ہیں یا یکم جنوری کو نئے سال کے سلسلے میں خوشی مناتے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں، بدقسمتی سے ہالووین تک کو بھی مناتے ہيں۔ صورت حال یہ ہے کہ اس سال جنوبی کوریا میں ہالووین کے میلے کے موقع پر کسی اداکارہ کا دیدار! کے شوق میں، بھگدڑ مچنے کی وجہ سے 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مبذول کی ہوئی تھی کہ امت مسلمہ کو اس سے بھی بڑھ کر، ایک خوفناک اور ناقابل یقین خبر ملی اور وہ تھی کہ یہ میلہ دیار حرمین میں سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی ہالووین منایا گیا ہے جس میں افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔ ارض مقدس، دیار حرمین میں حجاز شریف میں مسلمانوں کے عقائد کی تضحیک ہوئی اور وہ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں جو خدام الحرمین کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں؛ وہی جو کسی وقت انتہاپسند وہابیت کے ذریعے عالم اسلام کا گلا دبائے ہوئے تھے، اور اب انھوں نے بالکل برعکس عمل کرکے اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے لادینیت کا سہارا لیا ہؤا ہے۔

بن سلمان کا نیا حجاز

اس میں شک نہیں ہے کہ سعودی خاندان – جس نے ہالووین منانے سمیت ارض مقدس پر بے دینی کے مختلف مظاہر دکھائے ہیں اور دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے – کبھی بھی معتقد مسلمان نہیں رہا، کبھی بھی کسی دینی حکم یا اخلاقیات وغیرہ کے کے تابع نہیں رہا اور خادم الحرمین کی اداکاری کے باوجود کبھی بھی کسی ملک میں جا کر انھوں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس سے اسلام کی سربلندی کا کوئی اشارہ ملتا ہو، جبکہ انھوں شراب نوشی، اداکاراؤں پر مسلمانوں کا سرمایہ لٹانے، بدعنوانیوں، صلیب کا ہار پہننے اور ہر قسم کی بدکرداریوں پر مبنی بےشمار کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ وہ خدام الحرمین کی اداکاری بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور اپنی حکومت کے لئے قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے کرتے رہے ہیں، اور پھر کچھ عرصہ قبل محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ "وہابیت سرد جنگ کے زمانے کی ضرورت تھی اور جسے مغرب سے ہم آہنگ ہوکر رواج دیا گیا تھا اور مزید اس کی کوئی ضرورت نہيں رہی”، اور پھر ایک مرتبہ اس نے یہ بھی کہا کہ "ہمارے ملک میں وہابیب نام کی کوئی چیز نہیں ہے”، چنانچہ اس کی بیان کردہ سرد جنگ والی وہابیت کا مطلب "سختگیری کے ساتھ، درباری مولویوں کے تشریح کردہ اسلامی احکامات، کا نفاذ تھا جس کی اب "مغرب کو” ضرورت نہیں ہے۔ گویا وہ اعتراف کر رہے ہیں کہ "سعودی سلطنت کی بنیاد ہی مغربی مفادات کے لئے رکھی گئی ہے اور اس کے عقائد اور قوانین بھی مغربی ممالک کی ضرورت کے مطابق بدلے جا سکتے ہیں”۔

بہرحال آج کے زمانے میں محمد بن سلمان کے کرتوتوں کو اپنی حکمرانی کے لئے کوئی شرعی جواز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے؛ اگرچہ آج بھی ان کے قبضے میں ایسے درباری مولویوں اور مفتیوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو بظاہر مولوی اور بہ باطن مغرب اور صہیونیت کے سپاہی ہیں۔ وہ اب بطور مسلمان ظاہرداری اور مسلمانی کی نمائش کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔

سعودی خاندان عالم اسلام میں بھی حکمرانی اور خدمت حرمین کی اداکاری کر رہا ہے اس لئے کہ کوئی مسلم ملک حج اور عمرہ کے دوران کی بدنظمیوں پر تنقید نہ کرے اور حرمین کے عالمی انتظام کا مطالبہ نہ کرے؛ اور اس مسئلے کے لئے وہ اربوں ڈالر بطور رشوت خرچ کرکے کئی ممالک کو خاموش کراتے ہیں، اگر نا اہل سعودی حکمرانوں کی وجہ سے مسجد الحرام میں کرین گرنے اور منیٰ میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے ہزاروں حجاج کرام کی شہادت کے اسباب فراہم کریں تو سعودی حکمران امدادی پیکجز کا اعلان کرکے مقتول حاجیوں کے وارث ممالک کو خاموش کراتے ہیں جس سے یا شائبہ بھی بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر – اور غاصب صہیونی ریاست کے فرمان پر – ہؤا تاکہ مسلمان خوفزدہ ہو کر حج بیت اللہ کو ترک کر دیں۔

آج کی سعودی صورت حال یہ ہے کہ جنوری 2015ع‍ میں 31 دسمبر کو پیدا ہونے والے 79 سالہ بیمار شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد برسراقتدار آئے، تو ان کے بالکل لوفر قسم کے بیٹے نے صرف دو سال کے عرصے میں سابق ولیعہد چچا زاد بھائی محمد بن نائف کی ولیعہدی کا دھڑن تختہ کرکے خود اس منصب پر قبضہ کیا جبکہ اس سے پہلے ہی اس نے مظلوم پڑوسی ملک کے خلاف جنگ کا آغاز کر لیا تھا؛ البتہ یہ درست ہے جنگ یمن میں ان کے کردار کے لئے الگ تحقیق و تحریر کی ضرورت ہوگی۔ محمد بن سلمان نے ولیعہد بن کر بیمار باپ کو گھر بٹھا لیا اور ان کے ستخط اور مہر کو اب تک استعمال کیا ہے اور استعمال کررہا ہے۔ اس عرصے میں ان کی دوسری تباہ کاریاں اپنی جگہ، لیکن مغرب کو خوش کرنے کے لئے انھوں نے مقدس سرزمین کو مغربی ثقافت کے کلب میں بدلنے کا کام بڑی تیزرفتاری سے آگے بڑھایا ہے۔

محمد بن سلمان نے ایک مرتبہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "وہابیب نام کی کوئی چیز سعودی عملداری میں وجود ہی نہیں رکھتی” اور دوسرے انٹرویو میں کہا تھا کہ "وہابیت سرد جنگ میں مغرب کو درکار تھی، اور اب وہ دور نہیں رہا چنانچہ اب تبدیلی لائی جائے گی”، یا یوں کہئے کہ پہلے وہابیت کو مغربی مفادات کی خاطر، اسلام کی سختگیر تشریح کے طور پر، مسلمانوں کی بربادی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تو اب اسی مغرب کے مفادات کے لئے اسلام کی کوئی نئی تشریح نہیں لائی جا رہی ہے بلکہ لا دینیت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ مغرب کو یقین ہے کہ بلادالحرمین لادینیت کا مرکز بنے گا تو مسلم ممالک بھی اسلام کو چھوڑ کر سعودی لادینیت کو اپنائیں گے، اور دوسری طرف سے جس طرح کہ قبلہ اول پر یہودیت کا قبضہ ہے، – آل سعود اور یہودی ریاست کے باہمی تعلقات کو دیکھتے ہوئے – قبلۂ موجود پر یہودی قابض ہوجائیں گے جس کے لئے اس سرزمین کے مسلمانوں کو دین سے دور کرنا بہت ضروری ہے۔

تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید ہے طولانی؛ بات سرزمین مقدس میں ایک غیر اخلاقی اور غیر اسلامی اور غیر توحیدی میلے کی ہو رہی تھی جس کو ہالووین کہا جاتا ہے۔

امر واقع یہ ہے کہ کوریا کے افسوسناک واقعے کے بعد العربیہ سمیت کچھ سعودی ذرائع ابلاغ نے ایسی تصاویر شائع کیں جن سے اس سرزمین پر ہالووین منانے کا پتہ ملتا تھا۔ یہ میلہ محمد بن سلمان کے بنائے ہوئے ادارے "جنرل اتھارٹی برائے تفریح” (الہیئۃ العامۃ للترفیہ General Authority for Entertainment [GAE]) کے زیر اہتمام منایا گیا۔ اس ادارے کے سربراہ کام ترکی بن عبدالمحسن آل الشیخ ہے، اور جیسا کہ سب جانتے ہیں آل الشیخ سعودی خاندان کے حلیف اور وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب کی نسل سے آنے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے، گویا جو خاندان اسلام کو سختگیر بنا کر مسلمانوں کا خون شیشی میں کرتا رہا ہے اب وہی خاندان نئے سعودی نظام میں لادینیت کی بنیادیں استوار کرکے مسلمانوں کے عقیدے پر وار کرنے میں سعودیوں کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔

آل سعود نے دیار حرمین میں ہالووین کا اہتمام کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر مسلم نوجوانوں نے مغرب کی اس اندھادھند پیروکاری کی مذمت کی ہے۔

ہالووین کا میلہ زیادہ تر امریکہ، آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ، کینیڈا وغیرہ میں مرسوم ہے کرسمس کے بعد دوسرا مغرب کا دوسرا بڑا میلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس جیسا جشن تو کیا، معمولی خوشی اور سرور کا کوئی پروگرام آج سے پانچ سال قبل تک سعودیوں کی قلمرو میں ممنوع تھا اور اس کے شرکاء کو گرفتار کرکے سزا دی جاتی تھی مگر اچ اگر ہالووین یا آل الشیخ کی سرکردگی میں تفریحی ادارے کے کسی بھی لا دینیت پر مبنی پروگرام پو کوئی تنقید کرے تو اسے جیل میں بھیج دیا جاتا ہے اور نہ ہونے کے برابر سماجی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔

دارالحکومت ریاض میں ہالووین 2022ع‍ کے میلے کے شرکاء نے شیطان پرستوں اور خون آشاموں (Vampires) اور خوفناک فلموں کے اداکاروں جیسا نہایت خوفناک لباس پہنا ہؤا تھا اور سڑکوں پر دکھا رہے تھے۔

"فلسطین الیوم” نامی ویب گاہ نے اس سلسلے میں اپنی رپورٹ کے ضمن میں بتایا ہے کہ سعودی دارالحکومت میں مغربی میلے "ہالووین” کے انعقاد پر ہزاروں مسلمانوں کا انتہائی تند و تیز رد عمل سامنے آ رہا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس قسم کے میلوں کا دین سے اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ محض مغرب کی اندھادھند تقلید ہے حالانکہ سعودی عرب عالم اسلام کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے اور قبلۂ مسلمین اور حرمین شریفین کا گھر ہے۔

فلسطین الیوم کی اس تنقیدی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مغرب کے لوگ اس طرح کے میلے منعقد کرکے اپنے آپ کو مصروف کیا کرتے ہیں لیکن ایک مسلم ملک میں اس طرح کے مقصد کے لئے ایسا کوئی میلہ منعقد کرنا بہت خطرناک ہے۔ کیونکہ مغرب میں لوگ کسی چیز کو مقدس نہیں سمجھتے، وہاں کوئی بھی تفریحی پروگرام مقدس نہیں ہے؛ وہ کسی بھی ادب و روایت کے تابع نہیں ہیں چنانچہ وہ اس طرح کے پروگراموں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کے اپنی روایات و آداب ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، اس طرح کا میلہ سعودی قلمرو میں منعقد کرنا، اور پھر اس کی ویڈیو فلمیں اور تصویریں بھی بغیر کسی تحفظ کر، شائع کرنے کی وجہ سے عرب اور مسلمان حیرت زدہ اور پریشان ہو چگے ہیں اور بہت سے مسلمانوں نے اس کی زبردست مذمت کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب گاہوں کے مسلم صارفین نے بھی بلاد الحرمین میں ہالووین منانے پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور سعودی دارالحکومت ریاض میں اس ضلالت خیز میلے کے انعقاد کو بدترین فعل، بدترین گناہ اور حرمت شکنی قرار دیا ہے جو سعودی جنرل اتھارٹی برائے تفریح کے ہاتھوں انجام کو پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ ہیئتۃ الترفیہ یا جنرل اتھارٹی برائے تفریح پہلے سے موجود نہیں تھی بلکہ اس کے بانی ولیعہد محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے 7 مئی 2016ع‍ میں رکھی ہے۔ یہ ادارہ محمد بن سلمان کے تباہ کن وژن 2030ع‍ کے بنیادی اجزاء میں سے ایک ہے۔ اسی سال موجودہ ولیعہد نے ہیئۃ امر بالمعروف نامی انتہا پسند وہابی ادارے کے وسیع اختیارات چھین لئے اور اس ادارے کے افسران کو – جو درحقیقت وہابی مولوی تھے – کو لوگوں کی گرفتاری سے منع کیا۔

اس ادارے نے اب تک نجد و حجاز کے بہت سارے مذہبی مبلغین کی نکتہ چینیوں کے اسباب فراہم کئے ہیں، یہاں تک کہ بہت سوں نے مذکورہ ادارے کے اقدامات کو شیطانی قرار دیا، کیونکہ یہ اقدامات جزیرہ نمائے عرب کی روایات کے منافی ہیں۔ "حلال ڈسکو” کا اعلان اور مغربی گویوں کو موسیقی کی محافل میں بلانا، اور "موسم ریاض” جیسے میلے منانا، اس ادارے کے حالیہ برسوں کے کرتوتوں میں شامل ہیں۔

سوشل میڈیا کی ایک خاتون صارف نے لکھا: "سعودی دارالحکومت ریاض میں مُردوں کا میلہ منانا اور ہالووین کا شیطانی لباس پہننا، — گمراہی، بدچلنی اور بہکاوے کی محافل جمانا، خوفناک اور بھیانک نقاب چہرے پر چڑھانا اور اونچے آواز سے موسیقی نشر کرنا – وہ بھی بلاد الحرمین میں — گویا سعودیوں کا تفریحی ادارہ امریکی ہالووین کے احیاء کا کام کر رہا ہے۔ بہت افسوس کا مقام ہے”۔

ایک سعودی خاتون صارف نے لکھا: "میں ایک سعودی شہری کی حیثیت سے کہتی ہوں کہ معافی چاہتے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)، ہم [سعودی] ہم ذرہ بہ ذرہ، بالشت بہ بالشت ان مغربیوں کی روایتوں کو کی تقلید کر رہے ہیں اور ہم ان کے نہایت گندی روایتوں کو نکال کر لائے، یہاں تک کہ قریب ہے کہ ہمارا عربی-اسلامی تشخص نیست و نابود ہو جائے۔ اے اللہ! میں اس برائی کو انجام نہیں دیتی اور اس پر راضی نہیں ہوں”۔

ایک صارف نے لکھا: "یہ شرمناک مناظر، جو تفریحی ادارے کی سرگرمیوں کے دائرے میں، دیکھنے میں آئے ہیں اور یہ شرمناک واقعات جو اس ادارے کے زیر اہتمام انجام پا رہے ہیں، نہ صرف مسلمانوں کے لئے دردناک ہیں بلکہ ان عیسائیوں کے لئے بھی دکھ اور صدمے کا باعث ہیں جنہیں خدائے متعال نے اسلام کے ذریعے ہدایت دی ہے۔ تفریحی ادارہ اور اس کی پشت پر جو لوگ بھی ہیں، اس مسئلے کے حوالے سے اللہ کے حضور جواب دہ ہیں”۔

ایک صارف نے سیاہ کاری کے اس میلے کی تصویر ری ٹویٹ کرکے لکھا: "یہ وہ واقعہ ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ملک میں رونما ہؤا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ واقعہ سعودی حکومت کی سرپرستی میں رونما ہؤا ہے؛ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کا کوئی بھی عالم دین یا کوئی بھی عام آدمی اس کی مذمت تک نہیں کر سکتا، کیونکہ اگر وہ تنقید یا مذمت کریں تو ان کا انجام نامعلوم ہوگا”۔

گوکہ مسلمانون نے اس کی زبردست مذمت کی ہے اور کچھ لوگ – جو خوف کے مارے لکھنے اور بولنے سے عاجز ہیں – یقینا معصیت و نافرمانی کے اس واقعے پر روئے ہونگے، لیکن اس کو مغرب کی حمایت بھی حاصل ہوئی اور مغربی دنیا نے اس کے سراہا۔

نیویارک ٹائمز

امریکی یہودیوں کے اخبار نیویارک ٹائمز نے اسلامی سرزمین پر کفر کے اس میلے کو خراج تحسین پیش کیا اور لکھا: "سعودی دارالحکومت ریاص نے اس سال پہلی بار، وسیع پیمانے پر، اور دوسرے ممالک سے انتہائی مختلف انداز میں، ہالووین کا میلہ منایا اور یہ سعودی معاشرے میں بڑی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔۔۔۔ سعودی عرب میں ہالووین میلے کا منایا جانا، اس ملک میں بنیادی تبدیلیوں کی تصدیق ہے؛ کیونکہ سعودی حکمران، اس سے قبل، ان لوگوں کو گرفتار کرتی تھی جو اس میلے کو اس سرزمین میں زندہ کرنا چاہتے تھے”۔

نیویارک نے تصدیق کی کہ تفریحی ادارے کے تمام سرگرمیوں اور منصوبوں اور جزیرہ نمائے عرب میں "کھلا ماحول” فراہم کرنے کے لئے ہونے والے تمام اقدامات کے پیچھے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔ لیکن نجی حلقوں میں کچھ لوگ ان کے ان اقدامات سے شکوہ کر رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تفریحی ادارے کے اقدامات کہیں بڑے معاشی چیلنجوں، نوجوانوں کی بے روزگاری کی بڑھتی ہی شرح اور بیان کی آزادی جیسے سیاسی چیلنجوں سے رو گردانی کا سبب نہ بن جائیں۔

اس امریکی اخبار نے آخر میں اس بات کی بھی تصدیق کر دی کہ ؟یہ تبدیلیاں بعض سعودیوں کی حیرت اور پریشان اور کچھ سعودیوں کے غیظ و غضب کا سبب بنی ہوئی ہیں؛ یہاں تک نہ صرف غیر ملکی، بلکہ سعودی باشندے بھی مزید اس ملک کو نہیں پہچان سکتے!؟”۔

تو رہی اس قبائلی حکومت کی صورت حال جس نے تقریبا ڈیڑھ صدی سے مسلمانوں کو ورغلایا تھا اور اسلام اور خدمت حرمین کے نام پر ان کے دلوں پر حکمرانی کی تھی۔

امر واقع یہ ہے

کوریا کی حکومت نے ہلاک شدگان کے لئے عام سوگ کا اعلان کیا اور دنیا کے کئی ممالک نے کورین حکومت کو تعزیتی پیغام بھجوائے حالانکہ عالم اسلام میں رونما ہوئے والا یہ واقعہ کوریائی باشندوں کی موت سے بہت بڑا تھا جہاں لوگ جسمانی طور پر مرے، اور یہاں مقدس سرزمین اور حرمین شریفین کی تضحیک ہوئی ہے اور سعودی پرچم پر لگی تلوار دو ارب مسلمانوں کے عقائد اور روح و جان پر گری ہے۔ تو کیا دنیا کے مسلمان بھی مقدس سرزمین کی بےحرمتی پر سوگ کا اعلان کرے گی، کیا مسلم ممالک کے حکمران ایک دوسرے کو تعزیتی پیغام بھیجیں گے؟

انا للہ و انا الیہ راجعون

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

لکی مروت؛ مشترکہ آپریشن میں 12 دہشت گرد ہلاک، پولیس

لکی مروت: سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو …