اتوار , 5 فروری 2023

نرالا فٹ بال ورلڈکپ

(تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ)

چشم فلک نے فٹ بال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا کہ قطر کے عظیم الشان البیت سٹیڈیم میں ہزاروں خواتین و حضرات نے بیک آواز فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی اورصہیونیوں کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف نہایت پُرجوش انداز میں عربی نغمہ گایا۔ اس نغمے سے قطر کے ہی نہیں دنیا بھر کے در و بام گونج اٹھے۔ میں نے نغمے کا اردو میں ادبی ترجمہ تو کر لیا تھا مگر دل یہ چاہتا تھا کہ شاعرانہ ترجمانی ہو۔ ملک کے نامور شاعر برادرِ عزیز خالد اقبال یاسر سے اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے ترجمے کو باوزن آزاد شاعری کا پیرہن عطا کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
تمہاری محبت میں آنکھیں ہماری
بہاتی ہیں آنسو مسلسل
پیارے فلسطین خوش رو فلسطین
مظالم جو ڈھائے گئے ہیں ترے باسیوں پر
دل افگار ہے رنج سے پھٹ رہا ہے
عرب ہیں کہاں جو ہیں بھائی ہمارے
مزے لے رہے ہیں وہ بس خواب خرگوش کے
مرے غزہ و رفحہ، مرے رام اللہ
خود کو تنہا سمجھنا نہیں
جہاں بھی کوئی ایک مسلم ہے‘
القدس کے واسطے دل شکستہ ہے
وہی ایک مالک الملک و مختار ہے
ساکشی ہے مرا ذہن و دل
نصرت ایزدی ایک دن آئے گی
اور مرے فلسطین کو سفاک صہیونیوں کی تعدی سے،
استبداد سے آپ چھڑائے گی
دل فلسطینیوں کے باگھ جیسے نظر باز جیسی
وہ اپنے سر ظالم اسرائیلیوں کے رو برو خم نہیں کرنے والے
22 ویں فٹ بال ورلڈ کپ کی انفرادیت یہ ہے کہ کسی عرب ملک کو پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ 2010ء میں قطر نے جب فیفا بیلٹنگ جیت کر 2022ء کے 22ویں ورلڈ کپ کی میزبانی اپنے نام کی تب سے اب تک قطر نے شاندار منصوبہ بندی‘ تعمیراتی مہارت اور برق رفتاری کے شاندار ریکارڈ قائم کیے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے آٹھ نئے سٹیڈیمز اور کئی اعلیٰ ہوٹل تعمیر کیے گئے۔ اس تعمیراتی کام میں تقریباً 12 لاکھ پاکستانی مزدوروں اور سینکڑوں انجینئرز نے شب و روز کام کیا۔ ورلڈ کپ میں نہ صرف فٹ بال کی عالمی ٹیموں کے مابین مقابلے ہوتے ہیں بلکہ ساری دنیا سے فٹ بال کے شائقین و تماشائیوں کی کثیر تعداد وہاں شریک ہوتی ہے۔ دنیا بھر سے مغّنی اور مغنیات اور ڈانسرز آتے ہیں۔

قطر کے ورلڈ کپ کے میزبانوں نے مہمانوں کی عزّت افزائی اور قدردانی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی؛ تاہم جب کچھ تماشائیوں اور گروپوں نے ہم جنس پرستی کے جھنڈے لہرانے اور قطر کے اسلامی تشخص کے خلاف ”آزادہ روی‘‘ کے مناظر کی مادر پدر آزادی چاہی تو قطری سکیورٹی کے سربراہ عبداللہ نصری نے واضح کیا کہ 28 دن کے کھیل کے لیے ہم اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتے۔ قطر تمام اقوام عالم کو اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہتا ہے مگر سب پر لازم ہے کہ وہ ہمارے مذہب اسلام اور ملکی و شرعی قوانین کا احترام کریں۔ قطر ہم جنس پرستوں کی پرچم لہرائی کی اجازت دے سکتا ہے اور نہ ہی نامناسب لباس پہننے اور سرعام شراب نوشی کی چھوٹ دے سکتا ہے۔ قطر نے 28 روزہ ورلڈ کپ کے میگاایونٹ کو اسلام کے پیغام امن و سلامتی کو دنیا تک پہنچانے اور اسلام کے بارے میں ارادتاً پھیلائے گئے یا لاعلمی کی بنا پر پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کرنے کا بھی نہایت دلکش اور دانشمندانہ پروگرام ترتیب دیا ہے۔

اس موقع پر قطر نے دنیا بھر سے سینکڑوں علمائے کرام اور سکالرز کو مدعو کیا ہے جو مختلف زبانوں میں نہایت دانش و حکمت کے ساتھ اسلام کی حقیقی تصویر غیرمسلموں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ممتاز اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مدعو کیا گیا ہے جو ہزاروں کے مجمع کو اسلام کی حقانیت کے بارے میں انگریزی زبان میں آگاہ کر رہے اور اُن کے سوالوں کے تسلی بخش جو ابات دے رہے ہیں۔ تمام مساجد کو اسلامی مراکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں سے کوئی بھی وزیٹر اسلام کے بارے میں معلومات اور کتابچے وغیرہ حاصل کر سکتا ہے۔ ملک بھر میں خوبصورت خطاطی میں قرآنی آیات‘ احادیث اور نامور اسلامی شخصیات کے اقوالِ زریں نمایاں مقامات پر آویزاں کیے گئے ہیں۔ مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم اور اسلامی تاریخ و سیرت کی کتب مہمانوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ہر سٹیڈیم میں نمازیوں کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے جہاں وہ باجماعت نمازیں ادا کرتے ہیں۔ قطر کی اس مہذب میزبانی پر دنیا کے بعض حد سے بڑھ کر آزاد حلقوں کی طرف سے تنقید بھی ہوئی مگر انہوں نے نہایت شائستگی اور جرأت مندی سے مدلل جواب دیا اور کہا کہ قطر ایک خود مختار ملک ہے۔ قطر کے پروگریسو حکمرانوں نے الجزیرہ جیسا آزاد ٹی وی چینل قائم کر رکھا ہے۔ تیل و گیس کی دولت کو یہاں کے حکمران اسلامی تشخص والی ویلفیئر سٹیٹ کے لیے نہایت دانشمندی سے خرچ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ فٹ بال کا زیادہ رواج نہیں؛ تاہم بہت سے لوگ فیفا ورلڈ کپ کے میچوں کو نہایت دلچسپی سے مختلف چینلوں پر دیکھ رہے ہیں۔ ملیر کراچی کے علاقے سدید گوٹھ کو ہر ورلڈ کپ کے موقع پر سجایا جاتا ہے۔ بطورِ خاص ان دنوں یہاں کے گھر‘ در و دیوار‘ سڑکیں‘ عمارتیں اور گل محمد سٹیڈیم منی قطر کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔ نوجوان‘ بوڑھے‘ خواتین اور بچے نہایت جوش و جذبے کے ساتھ ورلڈ کپ کے میچوں کو بڑی سکرینوں پر دیکھ رہے ہیں۔ 20 نومبر کو قطری ورلڈ کپ کے آغاز پر یہاں بھی باقاعدہ جشن منایا گیا۔

سعودی عرب میں طویل قیام کے دوران ہمیں بھی فٹ بال کے ساتھ بہت دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس ورلڈ کپ میں ہمارا دل سعودی عرب کی ٹیم کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ سعودی عرب کا پہلا میچ سابق فٹ بال چیمپئن ارجنٹائن کے ساتھ 22نومبر کو ہوا۔ اس فتح کے بعد تو قطری سٹیڈیم میں نہیں سعودی عرب کے ہر شہر کی شاہراہوں پر نوجوان خواتین و حضرات نے گاڑیوں میں نکل کر زبردست جشن منایا۔ اس موقع پر سارے عالمِ عرب میں جشن کا سماں تھا۔ خوشی کے اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 23 نومبر کو سارے ملک میں تعطیل کا اعلان کر دیا۔ ہفتے کے روز پولینڈ سے غیرمتوقع شکست کے بعد اگرچہ سعودی شہری دل شکستہ ہیں مگر وہ اگلا میچ میکسیکو سے جیتنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

ہم دعاگو ہیں کہ کھیل کے اس موقع کو اسلامی نقطۂ نظر سے بامعنی بنانے کے لیے قطری پروگرام کو شاندار کامیابی نصیب ہو۔ آمین!بشکریہ دنیا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …