اتوار , 5 فروری 2023

عمران خان کا ممکنہ فیصلہ ملک کو عام انتخابات کی طرف لے جا سکتا ہے؟

(احمد اعجاز)

سنیچر کی شب راولپنڈی میں عمران خان نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسمبلیوں سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے، الیکشن کے سواکوئی راستہ نہیں۔عمران خان کے اس اعلان کو سیاسی و سماجی حلقوں میں دوانداز سے زیرِ بحث لایا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت اور حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں اور عمران خان کے طرزِ سیاست کو ناپسند کرنے والا، ہر شعبہ ہائے زندگی کا ایک طبقہ، اس اعلان کو فیس سیونگ یا سُبکی سے بچنے کی کوشش سے تعبیر کررہا ہے۔

اُن کے نزدیک عمران خان اپنے لانگ مارچ کے ذریعے آرمی چیف کی تقرری پر کوئی دباؤ ڈال سکے اور نہ ہی قبل ازوقت انتخابات کے انعقاد کے لیے راہ ہموار کرسکے ہیں۔ اس حلقے کے خیال میں لانگ مارچ بری طرح فلاپ ہوا اور راولپنڈی میں کارکنوں کی کم تعداد کی وجہ سے، اسلام آباد کی جانب رخ کرنے کا جواز مہیا ہوسکا اور نہ ہی احتجاجی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے عوامی طاقت میسر آسکی۔ یوں اچانک مذکورہ اعلان داغ دیا گیا۔

دوسری طرف عمران خان کے بیانیہ کا حامی طبقہ،اس کو بہترین سیاسی چال قراردے رہا ہے۔اس طبقہ کا خیال ہے کہ عمران خان نے وفاقی حکومت اور اُس کی اتحادی جماعتوں کو پچھلے قدموں پر دھکیل دیا ہے۔آرمی چیف کی خوش اسلوبی سے طے پاجانے والی تعیناتی نے وفاقی حکومت کے اعتماد میں اضافہ کردیا تھا، لیکن اس اعتماد کو عمران خان کے اسمبلیوں سے باہر ہونے کے اعلان نے متزلزل کردیا ہے۔

عمران خان اسمبلیوں سے باہر ہوجائیں گے یا اُن کی جانب سے ایک بارپھر یوٹرن لیا جائے گا، اسمبلیاں تحلیل ہوں گی، یا عدم اعتماد کی تحریک راہ میں حائل ہوجائے گی؟ اگر عمران اسمبلیوں سے باہر ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیتے ہیں تو وفاق کے پاس کیا آپشن ہوں گے؟ ہماے ہاں اس طرز کے سوالات اُٹھائے جارہے ہیں؟ یہ سب سوالات آخر کار نئے انتخابات کی بحث پر جا کر ختم ہوتے ہیں۔

ہم یہاں مذکورہ سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

فیس سیونگ، نئی سیاسی چال یا کچھ اور؟
عمران خان کے فیصلہ کو فیس سیونگ اور سیاسی چال ہر دو حوالوں سے زیرِ بحث لایا جارہا ہے، جبکہ اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عمران خان نئی صورتحال کو جنم دے کر اپنی مزاحمت اور احتجاجی طرزِ سیاست کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین کی پہلی کوشش یہ ہے کہ الیکشن کا انعقاد فوری ہوجائے، اگر وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ اپنی مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کے اُس تسلسل کو، جو رواں برس اپریل میں وزارتِ عظمیٰ چھن جانے کے بعد شروع ہوا تھا، نئے الیکشن کے انعقاد تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

وہ ایسا کرکے اپنے ووٹرز کو متحرک اور حریف جماعتوں پر دباؤ برقرار رکھناچاہتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کا خیال بھی کچھ ایسا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ عمران خان کا مقصد کیا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ نظام اور وفاقی حکومت کے خلاف تحریک کو جاری رکھنا۔

پروفیسر رسول بخش رئیس کے مطابق ’آصف علی زرداری، میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن دباؤ میں آکر قبل ازوقت انتخابات نہیں کروائیں گے، یہ لوگ اپنے ہاتھ خود کاٹ کر کیوں دیں گے۔ لہٰذا وہ اِن کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘

عمران خان کا فوری انتخابات کا دباؤ کارگر ہوگا؟
عمران خان اسمبلیوں سے باہر ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیتے ہیں تو پی ڈی ایم کی جماعتیں اگرپرویز الٰہی کو ساتھ ملا لیں تو صورت حال بدل سکتی ہے، مگر فی الحال ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

عمران خان نے راولپنڈی کے جلسہ میں جب اسمبلیوں سے باہر ہونے کا اعلان کیا، تو ساتھ ہی ان کی حمایت میں مونس الٰہی کا ٹویٹ آگیا اور اسی طرح چودھری پرویزالٰہی کا بیان کہ عمران خان کا جب حکم آئے گا تو اسمبلی کو توڑنے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی عمران خان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔اگر چودھری پرویز الٰہی نے عمران خان کا ساتھ نہ دینا ہوتا تو اُس کا بہترین وقت وہ تھا جب چودھری خاندان تقسیم ہورہا تھا اور شجاعت اور پرویز کی راہیں جدا ہو رہی تھیں۔مزید براں چودھری پرویز الٰہی،اگلے الیکشن کا سوچ رہے ہیں۔

دوسری طرف اگر چودھری پرویز الٰہی کا جھکاؤ پی ڈی ایم کی جانب ہو بھی جاتا ہے تو اِس سے عمران خان کی تحریک میں مزید شدت آئے گی اور عوام میں اُن کا بیانیہ مزید تقویت پائے گا۔ عمران خان اس وقت احتجاجی سیاست کر رہے ہیں۔

وہ اس میں کامیابی کے لیے مزید شدت لائیں گے،جبکہ پی ڈی ایم جماعتوں کے پاس احتجاج یا مزاحمت کی جگہ سیاسی استحکام کو بروئے کارلانے کی ذمہ داری ہے تا کہ عوام کوکوئی ریلیف دے کر وہ اگلے الیکشن میں اپنے ووٹرز کی ناراضی کو کم کرسکیں۔

یوں اگر اسمبلیاں تحلیل ہوں یا اُن کے تحلیل ہونے کی کوششیں بارآور ہوں، نیز الیکشن وقت پر یا قبل ازوقت ہوں، ہر دوصورتوں میں پی ڈی ایم کے لیے مشکلات ہیں، کیونکہ ہر دو صورتوں میں عدم سیاسی استحکام بڑھے گا۔ اس کا فائدہ لامحالہ عمران خان کو ہی ہو گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان کے اس فیصلے سے حکومت اور اس میں شامل جماعتیں متاثر ہوئی ہیں اور آگے بھی ہوں گی۔

قمرزمان کائرہ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ’عمران خان نے جو فیصلہ کیا ہے، یہ کہنا کہ ہم پر فرق نہیں پڑا ٹھیک نہیں۔ اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان یقینی طورپر ملکی سیاست میں ایک بحرانی کیفیت ہے، مگر انتخابات کا فوری ہونا ممکن نہیں۔‘

اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کتنا مشکل، کتنا آسان؟
پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہر گز آسان نہیں کہ وہ دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرکے اپنی حکومتوں کا خاتمہ کرلے۔اگر ایسا فیصلہ ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات پی ٹی آئی کی سیاست پر بھی ضرور مرتب ہوں گے۔

اگرچہ دونوں صوبوں کے اربابِ اختیار کی جانب سے یہ کہا جا چکا ہے کہ عمران خان جب حکم کریں گے، ہم حکومت تحلیل کرنے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گے۔

ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہ ’وزیرِ اعلیٰ کا ایک منٹ میں اسمبلی توڑنے کا بیان محض بیان نہیں،ا ُن کی بات مستند ہے، اُنھوں نے یہ جوشِ خطابت میں نہیں کہا۔ جیسے ہی فیصلہ ہوگا، فوری عمل کیا جائے گا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ خیبر پختونخوا حکومت کے لیے عمران خان کا فیصلہ کس حیثیت کا حامل ہوگا؟ خیبر پختونخوا سمبلی کے سپیکر مشتاق غنی کا ہم سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ابھی مشاورت کا عمل جاری ہے، کچھ مشاورت ہوئی بھی ہے۔ جیسے ہی فیصلہ ہوا، اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔‘

جب یہ پوچھا گیا کہ مشاورت کب تک ہوجائے گی اور کب تک اسمبلی تحلیل ہوسکتی ہے، تو اُن کا کہنا تھا’ اس میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ ایک ہفتہ کے اندر اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔‘

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کا ہم سے بات کرتے ہوئے کچھ ایسا ہی کہنا تھا’۔ اسمبلی کب تحلیل کی جائے گی، ابھی لائحہ عمل سامنے تو نہیں آیا، مگر اس میں تامل نہیں کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب صوبائی سطح پر اسمبلیوں کو توڑنے سے بچانے کے لیے سیاسی جماعتیں متحرک ہوگئی ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اپنی حکمت عملی وضع کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ صوبائی سطح پر مسلم لیگ ن عمران خان کے اعلان کو کیسا دیکھتی ہے تو اُن کا کہنا تھا ’ہم اسمبلی کو تحلیل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔

ہمارے پاس عدم اعتماد کا آپشن ہے۔ ہم اس وقت عام انتخابات کی طرف جاتے ہیں تو ہم مشکل جگہ کھڑے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عمل کو روکیں۔‘

خیبر پختونخوا سمبلی میں پی ٹی آئی حکومت کواپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کسی طرح کے ردِعمل کا سامنا ہے، اس حوالے سے مشتاق غنی کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس اکثریت ہے، اپوزیشن کی تعداد بہت کم ہے، ہمیں اِن کی جانب سے کسی طرح کے خطرے کا احساس تک نہیں۔‘

کن صورتوں میں اسمبلی تحلیل ہوسکتی ہے اور کن صورتوں میں نہیں؟
اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائے تو اسمبلی تحلیل ہونے کا راستہ تو رُک جائے گا مگر کیا اسمبلی سیشن جاری ہے اور وزیرِ اعلیٰ نے گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش بھیج دی تو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا ارادہ کرنے والی جماعتوں کے پاس کوئی قانونی جواز ہوگا کہ وہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر معاملہ کو التوا میں ڈال سکیں؟

اگر اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو کتنے عرصہ میں نیا الیکشن ہو گا اور ہر اسمبلی کا الگ الیکشن ہوگا یا پھر تمام تحلیل شدہ اسمبلیوں کا بہ یک وقت الیکشن ہوگا؟ اس طرح کے سوالات ہم نے چند قانونی ماہرین کے سامنے رکھے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں سربراہ شعبہ قانون، ڈاکٹر عزیزالرحمن کا کہنا تھا کہ ’وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس گورنر کو بھیج دی جاتی ہے توتحریک عدم اعتماد پیش کرنے والی جماعتوں کے پاس کوئی قانونی راستہ نہیں بچتا۔

اُن کے مطابق ’کوئی بندہ بھی عدالت جاسکتا ہے، یہ اُس کا حق ہے۔اسی طرح تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والی جماعتیں عدالت جا سکتی ہیں،مگر عدالت کے پاس اُن کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہو گا۔‘

کیا اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کے بعد بیک وقت الیکشن ہو سکتے ہیں؟ اس ضمن میں اُن کا کہنا تھا کہ ’بیک وقت نہیں، ہر اسمبلی کا الیکشن علیحدہ اور الگ ہو گا۔‘

صدر اسلام آباد ہائی کورٹ شعیب شاہین نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے گورنر کو ایڈوائس بھیجی جاچکی ہوتو گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کا پابند ہوجاتا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس وزیراعلیٰ کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس کے بعد کوئی قانونی جواز نہیں رہتا۔

وفاق کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟
عمران خان اسمبلیوں سے باہر ہونے کا حتمی فیصلہ کرلیتے ہیں تو وفاق کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟ یہ سوال جب ہم نے قمر زمان کائرہ کے سامنے رکھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد وفاقی حکومت پر مختلف طرح سے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔‘

اُنھوں نے وفاقی حکومت کو ختم کرنے کے تمام حربے کیے، کبھی فوج پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی کہ وہ آئین سے تجاوز کرکے وفاقی حکومت کو ختم کرکے دوبارہ اُس کو لائے۔اب یہ تازہ حربہ ایک سیاسی بحران کو جنم دینے کا باعث بنے گا۔

ہم آئین و قانون کے تحت اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔اگر فرض کرلیتے ہیں کہ ہم ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ہم دوبارہ الیکشن کروا دیں گے۔

یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اصل میں پاکستان کی تاریخ میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات ہمیشہ ایک ہی وقت میں ہوئے ہیں۔

اگر یہ دونوں صوبوں سے استعفے دے جاتے ہیں تو ہم یہاں دوبارہ الیکشن کروائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی قوانین بھی چلتے ہیں۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …