اتوار , 5 فروری 2023

نئے آرمی چیف کے لئے بعض نئے پرانے چیلنج

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)

گزشتہ سات آٹھ ماہ سے پاکستانی فضاؤں پر ایک ہیجانی کیفیت طاری تھی جو شاید اب آرمی چیف کی تبدیلی کے بعد تبدیل ہونا شروع ہو جائے اور کسی اطمینانی کیفیت میں ڈھل جائے۔ لیکن پاکستان کا ہیجان، صرف ٹاپ آرمی لیڈرشپ کی وجہ سے نہ تھا، اس کی بہت سی وجوہات اور بھی تھیں لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ”چشمہ“ 9اور 10اپریل کی درمیانی شب کو پھوٹا تھا اور جس کا مسلسل بہاؤ آج تک جاری ہے۔ یہ بہاؤ اگر رکے گا بھی تو جس طرح اس کے آغاز کو سات آٹھ ماہ لگے اُسی طرح اس کے رکنے کو بھی کم از کم سات آٹھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ جب یہ بہاؤ رکے گا تو اس بہاؤ کا راستہ (Flowing Course) پہلے کیچڑ میں تبدیل ہوگا، پھر اس کے سوکھنے کا عمل شروع ہوگا اور پھر جب یہ راستہ سوکھ جائے گا تو تب ہی اس پر کوئی حسبِ منشاء تعمیرات کی جا سکیں گی۔ لہٰذا اہلِ وطن کو انتظار کرنا ہوگا۔

جب یہ چشمہ پھوٹا تھا تو اس کو بھرنے کے لئے بہت تھوڑی کوشش درکار تھی۔ لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہ دی اور اب جبکہ یہ چشمہ سے سیلابی صورت اختیار کر گیا ہے اور گویا سارا شہر ڈوبنے والا ہے تو اہلیانِ شہر کو صبر اور برداشت سے کام لینا ہوگا۔ کسی شاعر نے موجودہ صورتِ حال کو درجِ ذیل آسان ترین لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ میں نے استعاراتی زبان کا استعمال کرکے احوالِ دل سنانے کی کاوش کی ہے۔ سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ استعارہ، اشارہ اور کنایہ، قریب ترین بھی نظر آئے تو حقیقت و اصلیت و صداقت سے کوسوں دور ہوتا ہے:

پھوٹتا چشمہ سلائی سے بھرو

بڑھ گیا تو شہر دیتا ہے ڈبو

جنرل عاصم منیر کے سامنے جو چیلنج ہیں ان میں سب سے پیش پیش پروفیشنل نوعیت کے چیلنج ہیں جن کو ہمارے میڈیا نے نان پروفیشنل چیلنجوں کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ فوج کا اصل کام تو سرحدوں کی حفاظت ہے اس کے لئے دوسرے کام ثانوی نوعیت و اہمیت کے حامل ہیں۔ نان پروفیشنل چیلنجوں سے نمٹنا آرمی چیف کا کام نہیں، وزیراعظم کا فریضہ ہے۔ پاکستان کے اندرونی خطرات سے عہدہ برآ ہونا اور نمٹنا کسی بھی آرمی چیف کی ترجیحات میں سب سے آخر میں آتا ہے۔

جنرل عاصم منیر کو کچھ روز پہلے بتا دیا گیا تھا کہ وہ اگلے آرمی چیف ہوں گے لیکن ان کے دماغ میں کرنے کے کاموں کی جو فہرست ہو گی ان میں اندرونی (یا سیاسی)چیلنج ان کا دردِ سر نہیں ہوں گے۔ وہ جس فوج کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں اس کی تعداد تقریباً چھ لاکھ سے زیادہ ہے لیکن بیرونی چیلنج اگر چھ بھی ہوں تو ان کا سامنا کرنا، جنرل صاحب کی چھٹی نہیں، اولین ذمہ داری ہوگی۔ ہر آفیسر اپنی میز پر روزانہ ایک نوٹ بک میں ”کرنے کے کام“ ترتیب وار لکھتا ہے اور جو کام سرانجام پا جاتا ہے، اسے قلمزن کرتا جاتا ہے۔ جنرل صاحب کی نوٹ بک میں سرفہرست ملک کی سرحدوں کی رکھوالی ہے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان کی بیرونی سرحدوں پر بھی ایسے خطرات منڈلا رہے ہیں جن کا مقابلہ کرنا یا ایسے اقدامات کرنا جو دشمن کے عزائم کا خاطر خواہ جواب بن سکیں، جنرل صاحب کے لئے اولین ترجیح ہوں گے۔

پیوٹن یوکرین میں کون سا "ہتھیار” استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ نیٹو کے سیکریٹری کا تہلکہ خیز دعویٰ
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک انڈین آرمی جنرل نے ایک ایسا بیان دیا ہے جو اس کے پیشہ ورانہ اقدامات کا ہرگز حصہ نہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ یہ دشمن جو ہماری مشرقی سرحدوں پر بیٹھا ہے، اس کا دیرینہ وتیرہ ہے کہ وہ گاہے بگاہے اس طرح کے ناقابلِ عمل بیانات جاری کرتا رہتا ہے۔ اگر یہ بیان نریندر مودی کی طرف سے آتا تو ایک بات بھی تھی۔ لیکن شری مودی اپنے آپ کو نجانے کس اونچے سنگھاسن پر براجمان دیکھتے ہیں کہ اپنی بجائے اپنے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو اس قسم کی ”بے ہودگی“ منہ سے نکالنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کی یاوہ گوئی یہ ہے کہ ”ہم پاکستانی آزاد کشمیر کے وہ حصے واپس لینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جن میں پاکستان وہاں کے شہریوں کے بنیادی حقوق غصب کئے بیٹھا ہے اور ان کی خلاف ورزی کر رہا ہے“۔

”ہندوستان ٹائمز“ نے اگلے روز یہ خبر شائع کی ہے کہ جو انڈین آرمی کی ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف، لیفٹیننٹ جنرل اُپندر ڈیویڈی (Upendra Dwivedi) کی ہرزہ سرائی سے زیادہ کچھ اور نہیں۔ اس نے مزید یہ بھی فرمایا ہے: ”جہاں تک انڈین آرمی کا تعلق ہے تو وہ ہر وہ حکم بجا لائے گی جو اسے ہندوستان کی حکومت کی طرف سے دیا جائے گا۔ ہم اس کے لئے ہر دم تیار بیٹھے ہیں!“…… اس کے جواب میں ہمارے ISPR کے ڈائریکٹر جنرل نے جو ٹویٹ کیا ہے، وہ یہ ہے: ”وہ غیر ضروری بیان جو انڈین آرمی کے اعلیٰ منصب پر فائز ایک آفیسر نے ہمارے آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں دیا ہے وہ انڈیا کی مسلح افواج کے برخود غلط زعم کا مائنڈ سیٹ ہے اور انڈیا کے اس عسکری فکر کا آئینہ دار ہے جو وہ اپنی داخلی سیاسیات کو آشکار کرنے کے لئے کرتا رہتا ہے“۔

انڈین جنرل نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ اس وقت جموں اور کشمیر میں 300 کے قریب پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں اور مزید 160، لائن آف کنٹرول عبور کرکے ہمارے کشمیر میں داخل ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس کا جواب ہمارے ISPR نے یہ دیا ہے کہ: ”اس طرح کے بے بنیاد اور غلط سلط الزامات، انڈیا ہمارے خلاف لگاتا رہتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں وہ خود جو کچھ کر رہا ہے اور ماضی میں کرتا رہا ہے اس کا کوئی جواز کسی بھارتی لیڈر کے پاس نہیں“۔

ہماری مشرقی سرحد پر یہ صورتِ حال کوئی نئی نہیں۔ اس پر سالہا سال سے وہی کچھ ہوتا رہا ہے جو ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ ناردرن کمانڈ میں کئی بھارتی جرنیل آئے اور اس طرح کے جارحانہ بیانات دے کر رخصت ہو گئے۔ بالا کوٹ پر بھارتی فضائیہ کا حملہ، پاکستان کا جواب اور ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی ابھی کل کی بات ہے اور کسی بھارتی جرنیل سے پوشیدہ نہیں ہو گی۔

نئے آرمی چیف کا میرے خیال کے مطابق، اصل اور فوری مسئلہ اپنے مغربی بارڈر سے ہوگا۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں جو ایک طویل عرصے سے جاری ہیں اور ان کے حملوں میں ہمارے جو جوان، عہدیدار اور آفیسرز شہید ہوتے رہے ہیں، وہ جنرل عاصم منیر کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس سے نمٹنے میں وقت لگے گا۔ اگر حالات موجودہ رفتار سے آگے بڑھتے رہے اور اٹریشن میں کمی نہ آئی تو مجھے ڈر ہے کہ پاکستان کو بہت جلد آپریشن ”ردالفساد دوم“ لانچ کرنا پڑے گا۔ ہمارے GHQکے اربابِ اختیار کو یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی پڑے گی کہ ردالفساد اول میں ہماری فورسز کو اگر کامیابی ہوئی تھی تو موجودہ حملے (بالخصوص وزیرستان اور دیر باجوڑ کے علاقوں میں) جس تواتر سے ہو رہے ہیں وہ وہی علاقے تو ہیں جن میں دہشت گردوں کا زور اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہم نے گزشتہ ردالفساد میں فتنے کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا تھا۔ اسی لئے یہ پودا دوبارہ نشوونما پا رہا ہے اور ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ اس کی باز آفرینی (Regrowth)کی وجوہات کیا ہیں اور ہمارا مغربی ہمسایہ اس صورتِ حال میں کس کا طرفدار ہے اور یہ طرفداری کیوں کر رہا ہے۔

آمدم برسر مطلب، نئے آرمی چیف کو اپنے اولین فریضے سے عہدہ برآ ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ شاید ہمیں ردالفساد اول کے ایام میں پاک فضائیہ کی طرف سے لانچ کئے گئے آپریشنوں کی طرف بھی لوٹنا پڑے گا۔ اس کشمکش میں دنیا کی کئی بڑی طاقتیں بھی ملوث ہوں گی۔ ان کا سراغ لگانا اور ان سے افہام و تفہیم کا معاملہ کرنا نئے آرمی چیف کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ جنرل صاحب کا 8ماہ کا بطور ڈی جی ISI تجربہ شاید اس سلسلے میں ان کی رہنمائی کر سکے۔ ہمارا پاکستانی میڈیا اس طرف قطعاً کوئی دھیان نہیں دے رہا۔ اس کا بیشتر فوکس اندرونی سیاسی معاملات کے گردا گرد گھوم رہا ہے اور جیسا کہ میں نے سطور بالا میں عرض کیا یہ معاملات کسی بھی آرمی چیف کا ڈائرکٹ دردِ سر نہیں ہوتے۔ اگر فوج نے اپنے آپ کو سیاسی معاملات سے لاتعلق کر ہی لیا ہے تو مستقبل دیدہ (Near Future) میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ہمارے بہت سے اندرونی سیاسی معاملات ایسے ہیں کہ ان کی ”کاشت“ میں پاک آرمی عشروں سے ملوث رہی ہے۔ اب یک لخت قطع تعلقی سے کھیتوں کا وہ جھاڑ جھنکار صاف نہیں کیا جا سکے گا جو پاکستانی فصلوں میں اُگ آیا ہے۔ اس کو اکھاڑ کر اور کھیتوں کو ہموار کرکے واپس کسانوں کے حوالے کرنا ایک ایسا چیلنج ہے جو فوج کے اساسی فرائض میں تو شمار نہیں ہوتا لیکن پاکستانی کاشتکاروں کو اس سلسلے میں جب تک فوج کی معاونت حاصل نہیں ہو گی، نئی فصل کی بوائی ممکن نہیں ہوگی!بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …