اتوار , 5 فروری 2023

فرانسیسی صدر کیجانب سے ایران کے حوالے سے غلطی کی تکرار

(تحریر: حنیف غفاری)

غاصب صیہونی حکومت کے زیر اہتمام فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے غیر قانونی انتخابات میں یائر لاپڈ اور ان کے ساتھیوں کی شکست نے نیتن یاہو اور دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے تل ابیب میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس دوران، جن عالمی سیاست دانوں نے نیتن یاہو کی کابینہ کی تشکیل سے قبل صیہونیوں کے ساتھ مشاورت اور تعاون کے لیے ہری جھنڈی دکھائی تھی، ان میں سے ایک فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ہیں۔ حال ہی میں صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے لیکوڈ پارٹی کے سربراہ "بنیامین نیتن یاہو” اور فرانس کے صدر "ایمانوئل میکرون” کی فون کال اور علاقائی مسائل ("ایران کی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز”) کے بارے میں تبادلہ خیال کی اطلاع دی ہے۔ میکرون نے اس فون کال میں نیتن یاہو کو پیرس آنے کی دعوت بھی دی۔ ایسا لگتا ہے کہ میکرون اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تصادم میں اپنی سابقہ ​​غلطی کو دہرا رہے ہیں۔

تاریح بتاتی ہے کہ جب واشنگٹن اور تل ابیب میں "ڈیموکریٹک پارٹی اور لیکوڈ پارٹی” اقتدار میں آتی ہے تو فرانسیسی کوشش کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان بعض اختلافات کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کریں اور بین الاقوامی نظام میں خود کو صیہونیوں کے اصل مالک اور آجر کے طور پر پیش کریں۔ اس وقت میکرون، بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اور ریپبلکنز ڈیموکریٹس روایتی طور پر صیہونی حکومت کے زیادہ حامی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کی مکمل حمایت کرتے تھے۔ دوسری جانب میکرون کے الفاظ میں وہ بین الاقوامی نظام میں تل ابیب کا ایگزیکٹو ونگ بننے کے خواہشمند ہیں۔

2017ء میں جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوئے تو میکرون نے امریکی صدر سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عالمی ایٹمی معاہدہ (JCPOA) کو تبدیل کرنے اور اسے ایران کے خلاف پابندیوں کے معاہدے میں تبدیل کرنے کے معاملے میں امریکہ کی پیروی کریں گے۔ اس وقت فرانسیسی صدر نے اپنی متنازعہ تقریر میں 2015ء کے جوہری معاہدے میں میزائل اور علاقائی مسائل نیز ایران کی جوہری پابندیوں کو مستقل کرنے کی بات کی تھی۔ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے باضابطہ دستبرداری کے بعد بھی، فرانس نے امریکی صدر کے ساتھ اس اسٹریٹجک اتحاد کو جاری رکھا اور واشنگٹن کے ساتھ ملکر ایران کے خلاف کردار ادا کرنے والے اہم کھلاڑی بن گئے۔

ایران کے حوالے سے INSTEX کے نام سے معروف مالیاتی میکانزم کے آغاز میں تاخیر یا بہتر الفاظ میں اس خصوصی یورپی مالیاتی میکانزم کو فعال بنانے میں تاخیر وائٹ ہاؤس اور فرانس کے درمیان مشترکہ مشاورت کا نتیجہ تھی۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی ایٹمی معاہدہ میں موجود یورپی ٹرائیکا نے ایران کو یقین دہائی کرائی تھی کہ امریکہ کے معاہدہ سے نکل جانے کے باوجود وہ انٹیکس مالیاتی نظام کے تحت ایران کے تیل کی درآمدات اور بینکنگ سہولیات کے لئے ایران کا بھرپور ساتھ دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانسیسیوں نے ٹرمپ کے اشارے پر ایران کے خلاف ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو آگئے بڑھایا، حالانکہ وہ خود کو بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں ایک آزاد اور بااثر کھلاڑی سمجھتے ہیں۔

ایران کے ساتھ تصادم میں نیتن یاہو کو میکرون کی حالیہ سبز جھنڈی کا یقینی طور پر فرانسیسیوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور انہیں اس کے لیے بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ دوسرے الفاظ میں، میکرون کے پاس ایران مخالف اس پرکشیدہ طرز عمل کی تلافی کا بہت کم موقع ہے۔ اس دوران میکرون اور ان کے ساتھی دنیا کو ایک غلط پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، حالانکہ صورت حال اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک فریق کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ثالثی اور ثالث جیسے الفاظ کی بین الاقوامی تعلقات میں اپنی مخصوص تعریفیں ہیں۔ فرانس یہاں ثالث نہیں بلکہ ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے کھیل کا حصہ ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ فرانس کے نااہل صدر میکرون، نیتن یاہو کی مقبوضہ علاقوں میں موجودگی کے دوران اس کھیل کو مزید کھل کر اور جارحانہ انداز میں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ البتہ یہاں اس خطرناک کھیل کے اثرات اور نتائج کے حوالے سے پیرس کو مضبوط اشاروں اور پیغامات بھیجنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایران کے سفارتی اور خارجہ پالیسی کے حکام کو فرانسیسیوں کو یہ فیصلہ کن پیغام دینا چاہیئے کہ فرانس کا واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ ملکر ایران مخالف گیم کا حصہ بننا ایرانی قوم اور نظام سے ان کی سرکاری و ریاستی دشمنی تصور ہوگی اور اس دشمنی کی انہیں جو قیمت چکانی پڑے گی، وہ فرانس کے حکام کے تصور سے کہیں زیادہ اور بہت سنگین ہوگی۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …