اتوار , 5 فروری 2023

ایران میں سافٹ وار کے پیادے

(تحریر: سید اسد عباس)

یہ چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ یورپ، امریکہ اور ایران کے مابین برجام معاہدے کے لیے کوشش کر رہا تھا۔ کبھی یورپی یونین کے خارجہ امور کا ڈائریکٹر ایران آتا تھا اور کبھی یورپی یونین کا کوئی اور نمائندہ۔ کبھی ویانا میں مذاکرات کی سہولت کاری کی جاتی تھی اور کبھی دوحہ جاتے تھے، تاکہ کسی نہ کسی طرح ایران اور امریکہ ایک معاہدے تک پہنچ جائیں اور یورپی ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکیں۔ امریکہ کبھی بھی ایران کی شرائط کا مثبت جواب نہ دے پایا۔ یورپی یونین کی برجام معاہدے کے لیے بے چینی روس یوکرائن جنگ کے بعد مزید بڑھ گئی۔ یورپ کی شدید خواہش تھی کہ ایران معاہدہ ہو اور روس کی جانب سے گیس اور تیل کی بندش کی کمی کو ایران کے ذریعے پورا کیا جاسکے۔ مغرب یہ بھی چاہتا تھا کہ روسی تیل اور گیس پر لگنے والی پابندیوں کے سبب قیمتوں میں اضافے کو ایرانی تیل اور گیس کے ذریعے کم کیا جائے، تاہم مغرب کی یہ خواہشیں پوری نہ سکیں۔ ایران نے اپنے تجربات کی روشنی میں قومی مفادات اور ملک کی عزت پر کوئی سودے بازی نہ کی۔ برجام کے حوالے سے ایران کا یہی مطالبہ رہا کہ امریکہ ایسی ضمانتیں مہیا کرے کہ وہ اگر اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلتا ہے تو اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

ایران نے سفارتی میدان میں ہار نہ مانی۔ اس کے بعد اچانک ایران میں مظاہروں اور پرتشدد واقعات کا آغاز ہوگیا۔ مھسا امینی نامی ایک کرد لڑکی ایران کی پولیس کی حراست میں مرتی ہے اور اس کی موت کو حکومتی تشدد کا نتیجہ قرار دیا جانے لگا۔ مھسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں متشدد مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔ بالخصوص کرد نشین علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں بھی ہونے لگیں۔ ایران کے مختلف شہروں میں ایرانی سپاہ اور پولیس کے افسران پر پیڑول بمبوں اور اسلحہ کے ذریعے حملوں کا آغاز ہوا۔ حکومت نے ان پرتشدد مظاہروں کو اگرچہ قابو تو کر لیا، تاہم اس وقت بھی میڈیا کمپین جاری ہے۔ یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ ایران میں مختلف مذاہب کی اقلیتیں آباد ہیں۔ ان میں عیسائی، بہائی اور اہل سنت قابل ذکر ہیں۔ ہر مذہبی گروہ نیز کردوں کے اپنے سیٹلائیٹ ٹی وی چینل ہیں۔ ان تمام ٹی وی چینلوں پر آج تک (زن، زندگی و آزادی جو اس تحریک کا نعرہ ہے) کا لوگوموجود ہے اور یہ چینل مختلف طرح سے ایران میں رہنے والی قومیتوں اور عوام کو اکسانے میں سرگرم عمل ہیں۔

کلمہ ٹی وی، کوملا ٹی وی، کوملا میوزک، پی ایم سی ٹی وی، آئی ٹی این ٹی وی، شبکہ 7 اور اسی طرح کے کئی ایک ٹی وی چینل مظاہروں کی ویڈیوز، وٹس ایپ پیغامات نشر کر رہے ہیں۔ ان ٹی وی چینلز کے علاوہ بی بی سی فارسی، سی این این، ایم بی سی فارسی، وائس آف امریکہ فارسی بھی پراپیگنڈہ مہم میں پیش پیش ہیں۔ ان ٹی وی چینلز میں سے نسبتاً ایک نیا ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل تو تقریباً (زن زندگی آزادی) کا آفیشل چینل بنا ہوا ہے۔ ایران انٹرنیشنل جس کا ایک اور ٹی وی چینل افغانستان انٹرنیشنل بھی ہے، بنیادی طور پر سعودی چینلز ہیں، جو ایران میں بغاوت، فسادات کو بڑھاوا دینے میں پیش پیش ہیں۔ ایران کے ہمسایہ ملک آذربائیجان کا ڈش ٹی وی ’’گناز‘‘ بھی مذکورہ بالا چینلز سے کسی طور پیچھے نہیں ہے۔ یہ تمام چینل ڈش پر چلتے ہیں اور ڈش استعمال کرنے والا ان کو بآسانی دیکھ سکتا ہے۔ یہی چینل ایران میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ جن میں کئی ایک عیسائیوں اور بہائیوں کے چینلز ہیں۔

مذکورہ بالا چینلز بالخصوص خبری چینلز میں سے آپ کوئی بھی چینل لگا لیں، آپ کو محسوس ہوگا کہ ایران کے ہر شہر میں ایک انقلابی تحریک جاری ہے۔ اس تحریک کو بڑھاوا دینے کے لیے موسیقی تیار کی جا رہی ہے، انٹرویوز، بیانات نشر کیے جا رہے ہیں۔ یہ خبریں دی جا رہی ہیں کہ کون کون سی اہم ایرانی شخصیات نے انقلاب مخالف بیان دیا ہے۔ انہی ٹی وی چینلز پر خبر نشر کی گئی کہ ایرانی ٹیم نے اپنے میچ میں احتجاجاً ایرانی ترانہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ ایران سے باہر بسنے والے ایران مخالف گروہوں کی ویڈیوز، مظاہرے اور بیانات نشر ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک الگ دنیا آباد ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ٹوئیٹر، انسٹاگرام اکاونٹس انقلاب مخالف بیانات جاری کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی اس یلغار کو روکنے کے لیے حکومت ایران نے چند ہفتے نیٹ پر پابندی لگائی، تاہم اس وقت ایران میں نیٹ بحال ہے۔ ایسی تصاویر اور فلمیں نشر ہو رہی ہیں، جن کے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب کی ہیں اور کہاں فلمائی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر انقلاب و نظام مخالف پراپیگنڈہ، سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور مقامات پر حملے، شاہ ایران کے بیٹے کے بیانات، بیرون ملک زن، زندگی، آزادی کے حامی ایرانیوں کے مظاہرے، ایرانی سفارت خانوں پر حملے، یورپی یونین کے قائدین کی فسادیوں کے قائدین سے ملاقاتیں، ایران کے خلاف بیانات، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں ایران مخالف قرارداد، برجام کے خاتمے کے اعلانات، یہ سب کچھ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے، جسے نظام مخالف حلقوں کو ایک پیج پر لا کر شروع کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف اقلیتوں اور قومیتوں کے گروہ شامل ہیں۔ شاہ ایران کے فرزند کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یورپی اور مغربی ممالک کی جانب سے حالیہ تحریک کو کچلنے کے الزام میں اب تک ایران میں مختلف شخصیات، اداروں پر پابندیاں لگائی جاچکی ہیں۔ اس سلسلے میں جرمن، فرانسیسی، برطانوی اور آذربائیجان کے سفیروں کو ڈیمارش کیا جاچکا ہے۔

جرمن سفارت کار کو فقط ایک ماہ میں تین مرتبہ وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔ آج ہی ترجمان وزارت خارجہ ناصر کنعانی نے ماسک کے ہمراہ پریس کانفرنس کی کہ جرمنی جو آج انسانی حقوق کے چیمپئن کے طور پر سامنے آرہا ہے، یہ وہ ملک ہے جس نے دیگر مغربی ممالک کے ساتھ مل کر صدام حکومت کو کیمیائی ہتھیار مہیا کیے تھے۔ سعودی حکومت کو بھی ایران انٹرنیشل کی فارسی نشریات کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہے۔ اس وقت حکومت ایران انتظامی، سیاسی، سفارتی اور سوشل میڈیا کی سطح پر ایک سافٹ وار سے دوچار ہے، جس کو کافی حد تک کنڑول کر لیا گیا ہے۔ میری نظر میں ایرانی اقتصادی اور دفاعی پیشرفت کے ساتھ ساتھ حالیہ سافٹ وار کی ایک وجہ ایران کا وہ موقف ہے، جو ایران نے برجام معاہدے کے حوالے سے اپنایا۔ امریکہ اور یورپ کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے کے جرم میں ایران کے اندر سیاسی و انتظامی خلفشار کو جنم دیا گیا ہے۔ یہ خلفشار بنیادی طور پر مغرب کی بے چینی اور ہیجان کا اظہار ہے، جس کا سبب یورپی ممالک میں تیل و گیس کی کمی اور دستیاب اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ سردیاں آچکی ہیں، اگر یورپ کو روس سے ملنے والی گیس نہیں ملتی تو ایندھن کی دستیابی یورپی یونین کے ممالک بالخصوص جرمنی اور فرانس کے زرمبادلہ پر ایک قہر کی صورت میں نازل ہوگی۔

پورے مغرب میں خوراک کی کمی اور اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ بھی کرونا سے متاثر معیشتوں کے لیے ایک مشکل پیدا کرے گا۔ لہذا کوشش کی جا رہی ہے کہ گاجر کے بعد چھڑی کا استعمال کرکے ایران کو تسلیم کیا جائے۔ تاہم شاید وہ نظام کی جڑوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ ایران میں فٹبال کو پاکستان میں کرکٹ کی مانند پسند کیا جاتا ہے۔ ایرانی فٹبال ٹیم کی ویلز کے مقابلے میں فتح نے مغربی چینلز نیز ان کے مزدور علاقائی ڈش چینلز کا ایک ماہ سے پیدا کردہ ماحول "ہوا میں اڑا دیا۔” ملک کے تقریباً ہر شہر میں لوگ جشن منانے سڑکوں پر آگئے۔ باحجاب، نیم حجاب خواتین، مرد، بچے، بوڑھے اور جوان ایران کی سڑکوں پر خوشی مناتے اور ایرانی پرچم لہراتے دکھائی دیئے۔ بعض نیم حجاب خواتین تو یہ بھی کہتی دکھائی دیں کہ ہم ہیں ملت ایران، یہ فسادی کون تھے۔ ہماری جانیں رہبر انقلاب پر قربان ہیں۔ ایران کے تمام تر شہروں میں اس وقت مکمل طور پر امن و امان ہے، چند شہروں میں ہونے والے نظام مخالف مظاہرے بھی اس وقت تھم چکے ہیں۔ فقط بعض مقامات پر اکا دکا دہشت گردانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں، جس سے ایرانی فورسز نمٹ رہی ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …