اتوار , 5 فروری 2023

فٹبال ورلڈکپ کے موقع پر یہودی ریاست سے عام نفرت؛ ہاآرتص کا اعتراف

دوحہ:فلسطین کی شہاب خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی اخبار ہا آرتص کے نامہ نگار "عوزی دان” نے – جو عالمی فٹبال کپ 2022ع‍ کو کوریج دینے کے لئے قطر پہنچا ہے، – کہا: یہاں ہمیں "آزاد فلسطین” کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں، اور قطر کی شاہراہوں پر فلسطین کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

دان نے کہا: ہم فٹبال کے ان مقابلوں میں دیکھ رہے ہیں کہ قطر اور دوسرے ممالک کے شہری اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو گالیاں دیتے ہیں اور یہی [اسرائیل سے نفرت] عینی حقیقت ہے۔

اس اعتراف سے پہلے بھی ورلڈ کپ 2022ع‍ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بھی مختلف ممالک کے شہریوں نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کے نمائندے کو دیکھا تو اس کے خلاف نعرے لگائے اور مل کر کہا: "اسرائیلی یہاں نکل جاؤ” اور یوں انھوں نے جعلی ریاست اور کے حامیوں کو یاد دہانی کرائی کہ عرب ممالک اور دنیا کی حریت پسند اقوام کے درمیان اس ریاست کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے”۔

اس رپوٹ کے مطابق، فٹبال ورلڈ کپ 2022ع‍ کے موقع پر عرب ممالک کی ٹیموں کے حامیوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لئے سماجی رابطے کی ویب گاہوں میں "فلسطین ورلڈ کپ میں”، "اسرائیل کے ساتھ بحالی نامنظور” اور "فلسطین آزاد انسانوں کا مسئلہ ہے” جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرلئے ہیں۔

قطر ورلڈ کپ کے مقابلوں کے آغاز میں سماجی رابطے کی ویب گاہوں پر نشر ہونے والے ویڈیو کلپوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مقابلوں کے دوران کھلاڑی اور عام تماشائی، صہیونی ذرائع کے نامہ نگاروں سے بات چیت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جعلی یہودی ریاست کی کوشش تھی کہ ورلڈ کپ کے مقابلوں کو قابو میں لا کر اس خاص موقع سے عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات پر لانے کے دسیسے کو آگے بڑھانے کے لئے فائدہ اٹھائے اور وہاں موجود لوگ اسرائیل کی حمایت میں بیان دیں، یا کم از کم اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مہم کو مثبت نگاہ سے دیکھیں۔

اسی مقصد سے غاصب ریاست نے عربی بولنے والے اسرائیلی نامہ نگاروں کو قطر روانہ کیا ہے، تاکہ اپنی معمول دھوکہ بازی اور مکاری سے کام لیں اور مختلف ممالک کے نمائندے پہلے مرحلے میں یہی سمجھ لیں کہ کسی عرب نامہ نگار سے بات چیت کر رہے ہیں اور یوں وہ اپنے مطلب کی کوئی بات نکالنے کے لئے کوشاں تھے۔ یوں ملنے والی رپورٹوں میں ان نامہ نگاروں نے ابتداء میں سب یہی سمجھے یہ مقبوضہ فلسطین میں رہنے والے عرب ہیں، یا

فلسطین کے قریب کے کسی ملک سے آئے ہیں! لیکن جب ان لوگوں نے اسرائیلی کے طور پر اپنا تعارف کرایا تو انہیں شدید منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

بطور مثال عبرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، عالمی کپ کے لبنانی تماشائیوں کو جب معلوم ہؤا کہ ان سے انٹرویو لینے والا اسرائیلی چینل I-12 کا نامہ نگار ہے تو انھوں نے بات چیت سے انکار کر دیا۔ اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک کلپ میں ایک لبنانی کو دکھایا جاتا جو، جب سنتا ہے کہ انٹرویو لینے والا اسرائیلی ہے تو اس سے دور ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ "اسرائیل کا کوئی وجود نہیں ہے، جہاں سے تم آئے ہو وہ اسرائیل نہیں بلکہ فلسطین ہے”۔

قطر میں تعینات عبرانی نامہ نگار کے مطابق، لبنانی نوجوانوں کو جب معلوم ہؤا کہ ان کے قریب آنا والا رپورٹ اسرائیلی ہے تو وہ بپھر گئے۔اس کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت قطر میں ہیں، لیکن تقریبا فٹبال کا کوئی بھی تماشائی ہمارے سے بات چیت کے لئے تیار نہیں ہے۔ لبنانیوں کے ایک گروپ نے ہمیں پہنچان لیا تو ان کا رویہ 180 درجے تک بدل گیا۔

ایک رپورٹر نے کہا: یہ لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں، ٹیکسی والے نے ہمیں پہچان لیا تو گاڑی کو روک کر ہمیں ایک ویران علاقے میں اتار دیا۔ ہم جب کسی ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں تو مینیجر ہمیں پہچان کر نکال باہر کرتا ہے۔

بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ عالمی کپ کے مقابلوں کے دوران صہیونیوں سے عرب نوجوانوں کی اعلانیہ نفرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب حکمرانوں کے برعکس، عرب عوام کسی صورت میں صہیونی غاصبوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ورلڈ کپ پر کار فرما صورت حال سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عرب قومیں فلسطین کے مظلوم عوام کے حامی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عراق اور سعودی عرب تجارتی میدان میں نئے تعاون کے حامل ہیں:سعودی وزیر خارجہ

ریاض:سعودی عرب کے وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان” نے بغداد پہنچنے پر اپنے عراقی ہم …