اتوار , 5 فروری 2023

حافظ قرآن آرمی چیف

(محمد علی یزدانی)

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حافظ قرآن جنرل کو پاک فوج کا سپہ سالار بنایا گیا ہے جس پر پوری قوم کا خوش ہونا اور خوشی منانا ایک فطری امر ہے کیوں کہ قرآن اللہ پاک کا ایسا معجزہ ہے اور جو لوگ اس کو اپنے سینوں میں یاد رکھتے ہیں ان کیلئے اللہ تعالی نے بشارتیں رکھی ہیں، کیوں کہ قرآن پاک ایسا اللہ تعالی کا معجزہ ہے کہ جو کوئی قرآن سے جڑ گیا وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوا بلکہ آخرت میں بھی اس کیلئے کامیابی کے درجے دیگر جنتیوں سے بلند ہیں۔ توایسے میں پاکستان کی فوج کے سپہ سالار کا قرآن کا حافظ ہونا نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کیلئے خوشی کی بات ہے بلکہ پورے عالم اسلام کیلئے یہ ایک مسرور کن لمحہ ہے کیوں کہ اس سے قبل کسی حافظ قرآن کا اتنے بلند منصب پر پہنچنا ممکن نہ ہوا تھا جسے جنرل عاصم منیر نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ممکن کر دکھایا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ قرآن کا علم ہونا یا دین کا قرب ہونا کسی بھی طرح سے کسی دنیاوی منصب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا بلکہ قرآن سے جڑا ہونا اور دین سے لگاؤ ہونے سے دنیاوی منصب کی شان بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پاک فوج کی کمان سنبھالنے والے حافظ جنرل عاصم منیر کے پیشہ وارانہ کیریئر پر نظر دوڑائیں تو وہاں بھی وہ کامیابی کے جھنڈے گاڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پاک فوج کے نئے آرمی چیف حافظ جنرل عاصم منیر پاکستان کی فوج کے وہ واحد سپہ سالار ہیں جنوں نے ایم آئی اور آئی ایس آئی کی سربراہی بھی کر رکھی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالنے والے جنرل عاصم منیر ایک بہترین افسر ہیں،پاکستان اخبار میں ہی شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو پاکستان ملٹری اکیڈمی لانگ کورس سے نہیں بلکہ او ٹی ایس کمیشنڈ آفیسر ہیں۔جنرل عاصم منیر منگلا میں ٹریننگ سکول سے پاس آؤٹ ہوئے اور فوج میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔

آرمی میں او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونئیر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دیا گیا۔جنرل عاصم منیر نے جنرل باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوج کی کمان سنبھالی جب جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر ٹین کور (راولپنڈی) تھے اور اس دوران انہوں نے کئی مشکل آپریشن کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔جنرل عاصم منیر کو 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔ تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا اور آٹھ ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر عمل میں آیا۔اس کے بعد جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا، جہاں وہ دو سال گزارنے کے بعد جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے۔موجودہ تعیناتی سے قبل کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر جی ایچ کیو میں تعینات تھے۔انہیں ستمبر 2018 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اس کے علاوہ وہ لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر سعودی عرب میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ آفیسرز ٹریننگ سکول سے پاک فوج میں کمیشن حاصل کرنے والے جنرل عاصم منیر نے بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر حاصل کی تھی اور وہ اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے پاک فوج کے واحد سپہ سالار ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ پیشہ وارانہ امور پر انہیں مکمل گرفت حاصل ہے، اپنی یونٹ اور سپاہیوں میں وہ ہر دلعزیز تصور کئے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کیلئے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو یہ عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔

ان کا تعلق سندھ رجمنٹ کی آٹھویں بٹالین سے ہے اور وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 76ویں لانگ کورس کا حصہ رہے ہیں۔انھوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس بھی فرائض انجام دیے ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انھوں نے انفنٹری ڈویڑن بھی کمانڈ کی ہے۔خارجہ امور پر انہیں مکمل گرفت ہے اور افغان عمل، ایف اے ٹی ایف کی لسٹ سے نکلنے کا معاملہ ہو یا پھر دیگر امور جن پر سول حکومت کو ان کی ضرورت پڑی انہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا اور پاکستان کو مشکل حالا ت سے نکالا اور اپنے تجربات کی مدد سے پاکستان کی کما حقہ مدد کی۔خیر جس طرح سے اس تقرری کو لے کر ایک ہیجان برپا تھا وہ تو اب ختم ہو چکا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاست دان ہوں یا ہمارے صحافی بھائی ہوں یا ا س کے علاوہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے عام صارفین ہوں ان سب کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اغیار کی باتوں میں آ کر اپنی فوج کو برا بھلا کہنا کسی دشمن کا فعل تو ہو سکتا ہے کسی محب وطن شخص کاایسے امر میں مشغول ہونا ناممکن ہے۔ اس لئے جو لوگ اپنے آپ کو دانشور کہلانے کیلئے یا سستی شہرت کیلئے فوج پر تنقید کرتے ہیں انہیں یہ بات پلے باندھنی چاہئے کہ فوج ہے تو پاکستان ہے پاکستان ہے تو یہ فوج ہے یعنی پاکستان اور فوج ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں اور یہی پاکستان کا مستقبل ہے۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …