اتوار , 5 فروری 2023

عراق کے وزیراعظم کا اہم دورہ ایران

(تحریر: احمد کاظم زادہ)

عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی دو روزہ دورے پر منگل کی صبح ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران پہنچے اور منگل کی شام انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اس اجلاس میں رہبر معظم انقلاب کے بیانات کے چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ عراق کے استحکام، ترقی اور سلامتی کے لیے رہبر انقلاب کی فیصلہ کن حمایت ہے۔ عراق کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ 1500 کلومیٹر سے زیادہ مشترکہ سرحد ہے۔ بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی مستقل پالیسی استحکام، سلامتی اور پیشرفت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے السوڈانی سے ملاقات میں عراق کی پیشرفت اور اسلامی جمہوریہ کے حق میں اس کے اعلیٰ اور حقیقی مقام تک پہنچنے کا ذکر کیا اور فرمایا: عراق کی سلامتی کے بارے میں ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اگر کوئی فریق عراق کی سلامتی میں خلل ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم اس کے سامنے اپنے سینوں کو سپر بنا دیں گے اور عراق کی حفاظت کریں گے۔”

رہبر معظم انقلاب کے بیانات کا ایک اور اہم نکتہ عراق کے اندر گروہوں کے اتحاد اور اتحاد کی ضرورت پر زور دینا تھا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نقطہ نظر سے عراق قدرتی اور انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے بہترین عرب ملک ہے، لیکن اتنے اچھے پس منظر کے باوجود عراق ابھی تک اس قابل نہیں ہوسکا کہ وہ عرب ممالک میں سب سے بہتر مقام حاصل کرسکے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں عراق کے جمود اور عدم ترقی کا ایک اہم عنصر اندرونی اختلافات تھے۔ اس بنیاد پر رہبر معظم انقلاب نے عراق کے حقیقی مقام تک پہنچنے کے لیے بنیادی ضرورتوں میں سے ایک کو عراق کے اندر موجود گروہوں کی ہم آہنگی اور اتحاد قرار دیا۔

رہبر معظم انقلاب کے بیانات کا تیسرا نکتہ یہ تھا، جس میں رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بے شک عراق کی ترقی کے ایسے دشمن بھی ہیں، جو ظاہری طور پر دشمنی کا مظاہرہ نہیں کرتے، لیکن وہ آپ جیسی حکومت کو قبول نہیں کرتے۔ لہذا آپ کو عوام اور حوصلہ مند اور جوان قوتوں پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے عراقی وزیراعظم کے ان الفاظ کا ذکر کرتے ہوئے کہ آئین کے مطابق ہم کسی بھی فریق کو ایران کی سلامتی کو درہم برہم کرنے کے لیے عراقی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کہا کہ بدقسمتی سے عراق کے بعض علاقوں میں ایسا ہو رہا ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ عراق کی مرکزی حکومت کو ان علاقوں تک بھی اپنا اثر و رسوخ نیز اختیار بڑھانا چاہیئے۔”

رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات کا چوتھا محور دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص اقتصادی شعبوں میں معاہدوں پر عمل درآمد کی ضرورت تھا۔ دونوں ممالک کی تجارت کا حجم اس وقت 12 ارب ڈالر ہے۔ فریقین نے اسے 20 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس پر اب تک سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ بلاشبہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اس سلسلے میں رکاوٹ کا کام کرتی ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے محمد شیاع السوڈانی کے ساتھ ملاقات میں ایران کے صدر اور عراق کے وزیراعظم کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ ادوار میں اچھے مذاکرات اور مفاہمتیں انجام پاتی تھیں، لیکن عمل کے مرحلے تک نہیں پہنچ پائیں۔

ایران نئے عراق کا پہلا فطری اتحادی تھا اور ہے اور ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب اپنی پوری طاقت کے ساتھ نئے عراق میں دہشت گردوں کو برآمد کر رہا تھا اور عراق کے نئے سیاسی نظام کے قیام کو ہر ممکن طریقے سے روکنا چاہتا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور نظام نے عراق کے نئے سیاسی نظام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس ملک کی حکومت اور نئے سیاسی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی، جس کے نتیجے میں نئے سیاسی نظام کی بقاء ممکن ہوئی۔ بلاشبہ اگر یہ امداد اور مدد نہ ہوتی تو امریکہ جیسی قابض حکومتیں صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کی وجہ سے عراق کو کئی حصوں میں تقسیم کرچکی ہوتیں۔

مثال کے طور پر جب عراق میں 2005ء میں سعودی عرب سے تکفیریوں کی برآمدگی شروع ہوئی، جس کی وجہ سے 2006ء میں عراق میں فرقہ وارانہ جنگ نئی شکل اختیار کرگئی۔ اس وقت موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن جو اس وقت سینیٹ کے ممبر تھے، انہوں نے ان فرقہ پرستوں کو عراق سے نکالنے کے لیے عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی۔ 2014ء میں داعش کی تشکیل کے بعد عراق کے نئے سیاسی نظام کو ایک بار پھر سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت ایران کی مدد اور شہید حاج قاسم کی تدبیر نیز آیت اللہ سیستانی کے جہاد کے فتوے نے عراق کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچا لیا۔ اس مرحلے کے بعد وہی فسادی عناصر جنہوں نے کل تک عراق کے نئے سیاسی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، اس کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ عادل عبدالمہدی کی حکومت اور مصطفی کاظمی کے دور میں اس گروپ نے عملی شکل اختیار کر لی اور ایران اور نئے عراق کے تعلقات میں صدام دور کی طرح اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

محمد شیاع سوڈانی کی موجودہ حکومت پر اندرونی اور بیرونی اتفاق رائے ہے۔ ان کے دور حکومت میں سیاسی تعلقات اور تعاون کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے نئے مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ نیا عراق ہمیشہ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیح رہا ہے اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دور میں علاقائی نقطہ نظر کی وجہ سے یہ ترجیح اور بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ صدر رئیسی نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو اپنی پہلی ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ تاہم اس حقیقت کے باوجود کہ سیاسی تعلقات اور تعاون کی توسیع کے لئے دونوں فریقوں کی طرف سے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور وسعت دینے کی ہمیشہ کوشش ہوتی رہی ہے، لیکن اب بھی بدقسمتی سے اس میں ایک بڑا خلا موجود ہے اور ایران اور عراق کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تبادلے کی طے شدہ مقدار 20 ارب ڈالر کے ہدف سے بہت دور ہے۔

بہرحال محمد شیاع سوڈانی کا حالیہ دورہ اس میدان میں موجود رکاوٹوں کی تشخیص اور ان کو دور کرنے کا ایک بہترین موقع ہے، ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ عراق کے کرد علاقے کو امریکہ، صیہونی حکومت اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہوں کے ہیڈ کوارٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ گروہ ایران میں انتشار اور خلفشار پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، حالیہ دورے میں دونوں ملکوں کے پاس موقع ہے کہ تعاون اور مشترکہ سوچ سے اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …