اتوار , 5 فروری 2023

تہران بغداد تعلقات میں نئے باب کا آغاز

(تحریر: ڈاکٹر حامد رحیم پور)

عراق کے نئے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے السلام محل میں قدم رکھنے کے 32 دن بعد پہلے غیر عرب ملک کے طور پر ایران کا دورہ کیا ہے۔ ان کا یہ دورہ دو روزہ ہے اور بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد سکیورٹی ایشوز حل کرنا ہے کیونکہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران عراق تعلقات سب سے زیادہ ان سکیورٹی ایشوز سے متاثر ہوتے آئے ہیں۔ عراق کے کرد نشین علاقوں میں ایران کے علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جنہیں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے ملک میں حالیہ ہنگاموں اور بدامنی کے بعد میزائلوں اور توپخانے سے نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح ایرانی حکام بارہا اپنے عراقی ہم منصبوں سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ کرد نشین علاقوں میں ان دہشت گرد عناصر کو ختم کریں۔

عراق کے کرد نشین علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں اور انہیں ختم کرنے پر مبنی ایرانی حکومت کے مطالبات نے عراقی حکام میں سکیورٹی امور کے بارے میں تشویش لاحق کر دی ہے لہذا دونوں ممالک کے حکام ان مسائل کو حل کرنے کے درپے ہیں۔ اس کا ایک مقصد ایران عراق مشترکہ سرحدوں کو بھی محفوظ بنانا ہے۔ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں رہبر معظم انقلاب نے عراقی وزیراعظم اور ان کے ہمراہ وفد سے کہا: "آپ ایسے علاقوں پر اپنی رٹ قائم کریں جہاں سے ایران کی قومی سلامتی کے خلاف اقدامات انجام پاتے ہیں۔” لہذا نئے عراقی وزیراعظم کی جانب سے کرد نشین علاقوں کے ساتھ ایران کے مسائل حل کرنے کی کوشش اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ محمد شیاع السوڈانی اور نچیروان بارزانی کے درمیان فوج، رینجرز اور قبائلی فورسز پر مشتمل مشترکہ فورس تشکیل دینے، اس فورس کو جلد از جلد سرحدی علاقوں پر تعینات کرنے اور مشترکہ سرحد پر دسیوں چیک پوسٹیں قائم کرنے کے بارے میں معاہدہ انجام پا گیا ہے۔ اسی طرح اس معاہدے میں ایران مخالف کرد گروہوں کی حکومتی یا پارٹی سطح پر حمایت ختم کر دینا اور سلیمانیہ اور اربیل وغیرہ میں ان کے سیاسی دفتر بند کر دینا بھی شامل ہے۔ مزید برآں، کرد مہاجرین کے کیمپس میں سرچ آپریشن اور ان پر اقوام متحدہ کی براہ راست نظارت قائم کرنا بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ دیکھنا باقی ہے کہ عمل کے میدان میں کس حد تک ان نکات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

بغداد کو توقع ہے کہ مندرجہ بالا اقدامات انجام پانے کی صورت میں ایران کو سرحدی علاقوں میں فوجی کاروائی انجام دینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس مسئلے کے کچھ وسیع پہلو بھی ہیں۔ عراق کا کرد نشین علاقہ گذشتہ چند سالوں سے خطے میں ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر سامنے آنے کیلئے کوشاں تھا۔ اسی سلسلے میں جب 2017ء میں عراق کے کچھ علاقوں پر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا قبضہ تھا تو کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی نے اعلان کر دیا کہ وہ کردستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست بنانے کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد کروائیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی اور عراق کی مرکزی حکومت نے اس کی شدید مخالفت کی تھی جس کے نتیجے میں مسعود بارزانی کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا۔

اس وقت کے بعد ایران اور عراقی کردستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آنا شروع ہو گئی تھی۔ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بھی موقع غنیمت جانا اور کردستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔ اسرائیل نے عراقی کردستان کو ایران کے خلاف اپنی جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔ اسی طرح اسرائیل نے ایران مخالف کرد دہشت گرد گروہوں اور علیحدگی پسند عناصر کو بھی محفوظ پناھگاہ فراہم کی۔ دراصل ایران کی جانب سے کرد علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی حقیقی وجہ یہی تھی۔ اب نئے عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی کا دورہ تہران اس بات کی علامت ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان انجام پانے والے سکیورٹی معاہدوں کی بھی پاسداری کرتے ہیں۔ السوڈانی انتہائی منظم انسان ہیں اور وہ عراق میں اہم تبدیلی لانے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں۔

محمد شیاع السوڈانی کا دامن بھی ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہے لہذا وہ ایک مقتدر وزیراعظم کی تمام شرائط رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی عراق ہمیشہ پہلی ترجیح رہا ہے اور موجودہ ایرانی حکومت خاص طور پر ہمسایہ ممالک پر توجہ دینے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔ لہذا بغداد اور تہران دونوں جانب سے دوطرفہ دوستانہ تعلقات میں فروغ کی خواہش اور ارادہ پایا جاتا ہے۔ ایران اور عراق کے درمیان 1400 کلومیٹر مشترکہ سرحد پائی جاتی ہے جبکہ دونوں ممالک مشترکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار کے بھی حامل ہیں۔ اسی طرح ایران اور عراق دونوں ممالک کی سفارتکاری اسلامی مزاحمت کے ہمسو ہے اور ان تینوں نے مل کر قومی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …