ہفتہ , 4 فروری 2023

ورلڈ کپ مسلمان تماشائیوں کا اسرائیل کے لیے اہم پیغام

دوحہ:گزشتہ روز رائی الیووم اخبار نے ایک اداریہ میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں مسلمان تماشائیوں کے صیہونی صحافیوں کے ساتھ سلوک پر بحث کی اور اسے صیہونی حکومت کے لیے ایک اہم پیغام سمجھا۔

رائی الیوم اخبار نے اس مضمون میں عالمی شہرت یافتہ مصنف اور تجزیہ نگار "عبدالباری عطوان” کی طرف سے لکھے گئے ایک احتجاجی خط میں صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ کی طرف سے قطر کی حکومت اور فیفا کے نام مسلمانوں اور معزز تماشائیوں کے رویے کے حوالے سے احتجاجی خط لکھا ہے۔ صیہونی حکومت کے صحافیوں اور تماشائیوں کے ساتھ دنیا کا معاملہ اس نے دوحہ، قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کو "بے شرمی اور جہالت کی انتہا” قرار دیا۔

یہ احتجاج صیہونی حکومت کے سفارتی وفد نے کیا جو عارضی طور پر دوحہ میں موجود ہے؛ اس احتجاجی مظاہرے میں صیہونیوں کا کہنا تھا کہ عالمی کپ میں موجود صہیونی صحافیوں اور رپورٹرز کا عربوں، مسلمانوں اور دنیا کے معززین کی تضحیک، تذلیل اور توہین کی جاتی ہے۔

اس اداریہ کے مصنف نے تاکید کی: یہ احتجاج صیہونیوں کے غرور اور غنڈہ گردی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ انہیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ ایک عرب ملک میں موجود ہونے کے قابل ہوئے کیونکہ حکومت قطر ان کی میزبانی پر مجبور ہے۔ ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ان کے ساتھ منفی سلوک شائستگی اور جائز طریقے سے کیا گیا اور ان کے ساتھ تشدد نہیں کیا گیا۔

عرب دنیا کے اس معروف تجزیہ نگار نے مزید کہا: صیہونی حکومت نے آزادی اظہار کے احترام کی ضرورت پر بات کی ہے۔ دوحہ کے صیہونی اس سے بڑھ کر کیا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے کیمرے لے کر محفوظ رہ سکیں۔ کیا انہوں نے آزادی کا گلا گھونٹ کر صحافیوں اور نامہ نگاروں کو قتل نہیں کیا جن میں الجزیرہ کی رپورٹر شیریں ابو عقیلہ ان میں سے آخری ہیں؟

عطوان نے کہا: اسرائیلی ٹی وی چینلز کے صحافیوں سے کیا امید تھی؟ کیا وہ عرب سامعین سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ اپنے کیمروں کے سامنے قطار میں کھڑے ہو کر خونخوار، نسل پرست حکومت کا شکریہ ادا کریں گے جس کے ہاتھ فلسطینی بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؟

انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا: درحقیقت ورلڈ کپ میں موجود عرب صیہونیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تم مجرموں واوردشمن ہو اور بین الاقوامی سطح پر دستاویزی جنگی جرائم کے ارتکاب کا سیاہ اور بھاری ریکارڈ رکھتے ہیں۔ آپ سے نفرت کرتے ہیں اور آپ کو دشمن سمجھتے ہیں اور ہم کسی عرب ملک میں آپ کی موجودگی کو برداشت نہیں کرتے۔

عطوان نے صہیونیوں سے وعدہ کیا کہ آئندہ چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں فلسطینی مزاحمت کو اس کے اصلی ذرائع کی طرف لوٹائیں گے اور غاصبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کے ساتھ مغربی کنارے کے مزید نوجوانوں کو ابھریں گے۔ ان سے عرب اقوام اور مسلمان بڑھیں گے۔ آج مغربی کنارے کی مزاحمت کو ” عرین الاسود ” (بشیح شیران) کے نام سے جوڑ دیا گیا ہے اور مستقبل قریب میں مزاحمتی جنگجو دوسرے ناموں کے ساتھ نمودار ہوں گے جیسے "آزادمردان جلیل” اور "خلیل ٹائیگرز” اور وہ ( صیہونیوں) کو اس سے اچھی طرح آگاہ ہونا چاہیے۔

اپنے اداریے کے آخر میں عطوان نے صیہونی کو لکھا: تم "ابراہیم معاہدے” کے سمجھوتے کے بارے میں جس طرح چاہو بات کر سکتے ہو، لیکن یقین رکھو کہ عرب اور مسلم ممالک آپ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر نہیں کریں گے اور آپ کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عراق اور سعودی عرب تجارتی میدان میں نئے تعاون کے حامل ہیں:سعودی وزیر خارجہ

ریاض:سعودی عرب کے وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان” نے بغداد پہنچنے پر اپنے عراقی ہم …