جمعہ , 3 فروری 2023

لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید: ایک ’متحرک جنرل‘ جن کا کیریئر تنازعات میں گھرا رہا

پریشان نہ ہوں، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔۔۔‘
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسکراتے ہوئے یہ فقرہ ادا کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد گذشتہ دنوں مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ، جنھیں بعدازاں بہاولپور کور کی کمان سونپ دی گئی تھی، نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست کی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے اب تک اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔ تاہم جنرل فیض حمید کا نام، جو گذشتہ چند سال تنازعات اور الزامات کی زد میں گھرا رہا، اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر دوبارہ زیر بحث ہے۔
اس رپورٹ میں لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کے کیریئر اور ان سے جڑے ان تنازعات پر نظر ڈالی گئی ہے۔

بریگیڈیئر فیض حمید نے چیف آف سٹاف کی حیثیت سے راولپنڈی کور میں کام کیا۔ بطور میجر جنرل انھوں نے جنرل کمانڈنگ افسر پنوں عاقل ڈویژن کے طور پر کام کیا اور اس کے بعد تقریباً ڈھائی سال آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ کے سربراہ رہے، اس عہدے کو ڈی جی سی کے مخفف سے جانا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد دو مہینوں کے لیے انھوں نے بطور ایڈجوٹنٹ جنرل کام کیا۔ اس کے بعد دو سال سے زائد عرصہ کے لیے جنرل فیض حمید آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ اس کے بعد وہ آٹھ مہینے کور کمانڈر پشاور کے طور پر کام کرتے رہے اور بعد ازاں کور کمانڈر بہاولپور تعینات ہوئے۔

پاکستان آرمی کی تاریخ میں وہ افسران انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو دو مختلف کورکے کمانڈر رہے۔ گذشتہ 75 سالوں میں صرف 11 لیفٹیننٹ جنرلز نے ایک سے زائد کورز کو کمانڈ کیا اور لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید اُن میں سے ایک ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کے مطابق ’قابل اور اہل افسر ہونے کی وجہ سے فیض حمید میں وہ تمام خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔‘

ان کی رائے میں ’جنرل فیض حمید پروفیشنل اور کوالیفائیڈ افسر ہیں۔ اپنی قابلیت کی وجہ سے وہ پاکستان سٹاف کالج کے ہی نہیں بلکہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ڈائریکٹنگ سٹاف میں شامل رہے۔ اس کے علاوہ ان کو میرٹ پر رائل کالج آف ڈیفینس سٹڈیز لندن بھی بھیجا گیا۔‘

جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید
ان کے کیریئر کے حوالے سے جاننے کی غرض سے بی بی سی متعدد فوجی افسران اور سویلینز سے بات کی ہے۔
بطور بریگیڈیئر فیض حمید نے سنہ 2015 میں اس وقت کے کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت کام کیا۔ بریگیڈیئر فیض حمید راولپنڈی کور کے چیف آف سٹاف تھے اور یہیں سے ان کا جنرل قمر باجوہ سے ایک مضبوط اور ذاتی تعلق بنا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جولائی 2016 میں جب وہ جی او سی پنوں عاقل تعینات تھے، میجر جنرل فیض حمید کے بھائی سکندر حیات چکوال میں اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ٹریکٹر حادثے میں فوت ہو گئے۔اس وقت کے آئی جی ٹریننگ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ دوسرے ہی دن چکوال کے قصبے لطیفال میں تعزیت کے لیے آئے۔

اُسی سال کے آخر میں آرمی چیف بننے کے فوراً بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے میجر جنرل فیض حمید کا پنوں عاقل سے تبادلہ کرتے ہوئے انھیں آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس تعینات کیا۔ آنے والے برسوں میں فیض حمید ایک طاقتور، بااثر اور متحرک جنرل کے طور پر سامنے آئے۔

تحریک لبیک سے معاہدہ
27 نومبر 2017 کو حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے آخر میں بوساطت میجر جنرل فیض حمید لکھا ہوا تھا۔یہی وہ معاہدہ تھا جس کی بدولت جنرل فیض حمید کا نام عوامی حلقوں میں معروف ہوا اور اس کے بعد یہ سلسلہ رک نہیں پایا۔

بعد ازاں تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جنھوں نے سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے حلف کی پاسداری نہیں کی۔

سیاست میں مداخلت کے الزامات
آج کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان آئی ایس آئی کے موجودہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر پر سیاسی مداخلت اور تحریک انصاف کے خلاف کارروائیوں اور تشدد جیسے الزامات عائد کرتے ہیں۔
اسی طرح سنہ 2017 سے 2019 تک آئی ایس آئی کے ڈی جی سی رہنے والے میجر جنرل فیض حمید سے بھی مسلم لیگ ن کو لگ بھگ اسی نوعیت کی شکایات تھیں۔ اس دور میں سیاسی انتقام، گرفتاریوں، وفاداریوں کی تبدیلی کے الزامات سامنے آئے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا ہماری پارٹی کے رہنمائوں کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کی کوششیں کر رہے تھے اور ہم نے اس کا تذکرہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی سے بھی کیا۔‘

سابق گورنر اور رہنما مسلم لیگ ن محمد زبیر اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’تحریک انصاف کے حق میں پہلے جنرل پاشا اور پھر جنرل ظہیر السلام نے کام کیا اور پھر آخر کار میجر جنرل فیض حمید کے دور میں عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان بنایا گیا۔ ‘

تحریک انصاف کی مرکزی کمیٹی کے ممبر، سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کی رائے میں ’ماضی میں آرمی کی مداخلت کسی نہ کسی طریقے سے ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ معاملہ کچھ مختلف رہا۔ جنرل فیض حمید کے دور میں سیاسی مداخلت خاصی سرعام اور کسی حد تک بے ڈھنگی بھی ہونا شروع ہو گئی۔ گلی محلوں اور عوامی حلقوں میں آئی ایس آئی کا کردار زیر بحث آنے لگا۔ پہلے یہ سب کچھ ڈھکے چھپے انداز میں ہوتا تھا لیکن اب سب کچھ سامنے ہو رہا تھا۔‘

افغان امن عمل
بطور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا اور افغان طالبان سے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد کابل کے ایک ہوٹل کی لابی میں جنرل فیض حمید نظر آئے اور غیر ملکی صحافیوں سے مختصر گفتگو بھی کی۔

ان کی ایک تصویر بھی سامنے آئی جس میں جنرل فیض حمید کے عقب میں آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل بھی موجود تھے لیکن انھوں نے ماسک لگا کر رازداری کے اصول کی پاسداری کی کوشش کی۔میڈیا سے گفتگو اور اس تصویر کے سامنے آنے پر ملک میں اس معاملے پر دبی دبی تنقید بھی ہوئی کہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس طرح منظر عام پر آنا چاہیے یا نہیں۔

جنرل عبدالقیوم کی رائے میں ’جنرل فیض حمید ایک متحرک فوجی کمانڈر ہیں جنھوں نے افغانستان سے غیر ملکی انخلا میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ‘

بڑا تنازع
گذشتہ سال جب نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا معاملہ سامنے آیا تو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ جنرل فیض حمید کو اس عہدے پر مزید کچھ عرصہ کام کرنے دیا جائے۔اس بات کا خود عمران خان برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

تاہم لیفٹینینٹ جنرل ندیم انجم کو نیا آئی ایس آئی چیف تعینات کر دیا گیا لیکن وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے تعیناتی کی سمری کی منظوری میں تاخیر ہوئی جسے فوج اور تحریک انصاف حکومت کے درمیان تناؤ کا باعث سمجھا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات
کہا جاتا ہے کہ کور کمانڈر پشاور کے عہدے پر کام کے دوران جنرل فیض حمید نے کالعدم تحریک طالبان سے امن مذکرات اور جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں اور اس معاملے میں افغان طالبان بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر عسکری اداروں نے اس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین جنگ بندی بھی ہوئی۔

جنرل فیض حمید کے پشاور سے جانے کے بعد یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا اور رواں ہفتے میں کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حد سے زیادہ شہرت کا نقصان؟

کئی حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کیریئر سے جڑے تنازعات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

چند ماہرین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے جنرل فیض حمید کے کردار کی غیر معمولی حد تک تشہیر کی جس کے باعث اُن کا نام ایک جماعت سے منسلک ہو کر رہ گیا۔’خصوصاً سوشل میڈیا پر ان کا تاثر پاکستان آرمی کے پسندیدہ جنرل کی بجائے ایک جماعت کے محبوب جنرل کا بن کر رہ گیا۔ جنرل حمید گل کی طرح جنرل فیض حمید کو بھی حد سے زیادہ شہرت کا نقصان ہوا۔‘

دماغ یا دل: افسر کی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟
عسکری روایات میں ایک غیر تحریر شدہ روایت یہ بھی ہے کہ اگر کسی افسر کو کوئی ہدف یا اسائنمنٹ دی جائے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف اور صرف پیشہ ورانہ طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔

ملکی تاریخ کے اہم واقعات اور ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ فوجی افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے کرتے بنیادی اصولوں سے آگے نکل گئے۔

روس کے خلاف افغان جنگ میں اور اس کے بعد کئی افسران عسکریت پسندوں میں مقبول ہوئے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی ایک مختلف شخصیت بن کر سامنے آئے۔ انھیں بھی وقت سے پہلے فوج سے رخصت ہونا پڑا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ناصر کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوا اور وہ بھی مدت ملازمت مکمل نہ کر سکے۔نائن الیون کے بعد جنرل مشرف کی ٹیم کے اہم ممبر اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور اپنے خیالات میں توازن نہ رکھ سکے اور انھیں فوج سے علیحدہ ہونا پڑا۔
اور اب جنرل فیض حمید کا نام بھی اسی ضمن میں لیا جا رہا ہے۔

سابق گورنر محمد زبیر کے مطابق ’اسی کی دہائی میں افغان جنگ اور نائن الیون کے بعد بھی پاک فوج کے کئی افسران اسے اسلام کی جنگ سمجھ کر حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے تھے۔ اسی طرح پراجیکٹ عمران میں بھی کچھ افسران ادارے سے آگے بڑھ کر اس کا حصہ بن گئے۔‘

سیکریٹری دفاع رہنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی بھی کم و بیش اسی رائے کے حامل ہیں۔
ان کے مطابق ’ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں میں سے ہے۔ اختیارات، طاقت، اہمیت، وسائل سب اس تقرری کا بنیادی اور لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈی جی کی اپنی سوچ اور ادارے کے نقطہ نظر میں مطابقت نہیں رہتی۔ اختیارات کی وجہ سے ادارے سے ہم آہنگی کے بغیر بھی افسر اپنے مرضی کر لیتے ہیں۔‘

چکوال میں ترقیاتی کام
ماضی میں بھی فوج میں اعلی عہدوں تک پہنچنے والے کئی جنرل اپنے آبائی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں عمومی رائے یہ رہی کہ وہ اپنے آبائی ضلع چکوال کی ترقی میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔

چکوال میں ایک سڑک کی بحالی و کشادگی کے سرکاری منصوبے کی افتتاحی تختی پر ’زیر سرپرستی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید‘ بھی درج کیا گیا۔ان کے بھائی نجف حمید طویل عرصہ تک پٹواری کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے اور سرکاری ملازمت سے الگ ہونے کے بعد علاقے کے سماجی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا شمار تحریک انصاف کےمقامی رہنمائوں میں بھی ہوتا ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹر رہنے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کا تعلق بھی جنرل فیض حمید کے آبائی ضلع چکوال سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ چکوال میں جنرل فیض حمید نے عوامی نوعیت کے بہت سارے ترقیاتی کام کروائے۔ علاقے کی فلاح و بہبود، سڑکوں کی تعمیر وغیرہ میں انھوں نے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔‘

لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم کے مطابق جنرل فیض حمید ’ایک متحرک انسان ہیں، اگر وہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ لیتے ہیں تو وہ اپنی لائن آف ایکشن ضرور بنائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سیاست میں قدم رکھ کر ملک کی خدمت کریں۔‘
دو مرتبہ کور کمانڈ کرنے والے جنرل عتیق الرحمان، جنرل ٹکا خان، جنرل سوار خان اور جنرل عبدالقادر بلوچ ریٹائرمنٹ کے بعد گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل حمید گل نے ایک متحرک سیاسی و سماجی زندگی گزاری۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہنے والے جنرل اسد درانی بعد ازاں سفیر رہے۔ جبکہ جنرل محمود احمد اور جنرل جاوید ناصر نے گمنامی کو ترجیح دی۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …