جمعہ , 3 فروری 2023

پی ٹی آئی:سیاسی جماعت یا پروجیکٹ

(تحریر : خورشید ندیم)

سیاسی جماعت کیاہوتی ہے؟ اس کی تعریف سیاسیات کی کتابوں میں لکھی ہے۔ہمارے ہاں اس عنوان سے جو سیاسی گروہ پائے جاتے ہیں‘ان میں سے شاید ہی کوئی اس تعریف پر پورااترتا ہو۔تاہم وہ ان معنوں میں سیاسی جماعتیں شمار کیے جا سکتے ہیں کہ وہ سماج کی سیاسی صورت گری کے لیے‘ایک فطری ضرورت کے تحت وجود میں آئے ہیں۔ سیاسی وسماجی عوامل اُن پر کس طرح اثرانداز ہوئے اورانہوں نے کیسے ان کی ہیئت کو تبدیل کیا‘یہ ایک الگ بحث ہے۔ان کی حکمتِ عملی جوہری طور پر سیاسی ہے اور وہ سیاست کے بنیادی مطالبات کو پورا کرتے ہیں۔اس میں سب سے بڑا مطالبہ‘سیاسی مخالف کے وجود کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنا ہے۔

‘پروجیکٹ‘ ایک ذہن میں تشکیل پانے والا منصوبہ ہے جو کسی مطلوبہ نتیجے یا نتائج کے لیے بنایا جاتا ہے۔پروجیکٹ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کی مدت اور ہدف متعین ہوتے ہیں۔کارکردگی کی بنیاد پر مدت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے لیکن ایک معین وقت تک۔جیسے ہی ہدف حاصل ہوتا ہے یا وسائل ختم ہو جاتے ہیں‘منصوبہ ختم کردیا جاتا ہے۔اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ہدف کے حصول کے لیے بنیادیں اٹھا دی جا ئیں تاکہ ایک ایسا نظم وجود میں آجائے جو خود کار طریقے سے چلنے لگے اور منصوبہ ساز کی کسی اعانت و مدد سے بے نیاز ہو جائے۔غیر سرکاری رضاکارتنظیمیں(NGOs) عام طور پر اسی اصول پر بنتی ہیں۔

تحریک انصاف قائم تو ایک سیاسی جماعت کے طور پرہوئی تھی لیکن کم وبیش پندرہ سال کی جدوجہد کے بعد بھی‘وہ اقتدار کی طرف کوئی پیش قدمی نہ کر سکی تھی۔اس کی صفوں میں مایوسی تھی۔اس مایوسی کوایک موقع سمجھتے ہوئے‘ بعض منصوبہ سازوں نے‘ اپنے مقاصد کی خاطر اسے ایک ‘پروجیکٹ‘ میں بدلنے کا فیصلہ کرلیا۔امید کے بجھتے چراغوں کی لو کوتیز کرنے کے لیے روغن فراہم کیا گیا۔عمران خان صاحب کو امید دلائی گئی اور یوں منصوبہ سازوں نے تحریکِ انصاف کی باگ اپنے ہاتھ میں لے لی۔اس طرح ایک سیاسی جماعت ایک ‘پروجیکٹ‘ میں تبدیل ہو گئی۔

اس ‘پروجیکٹ‘ کے تحت عمران خان صاحب کو ایک ‘پراڈکٹ‘میں بدل دیاگیا۔اس کے خدوخال سنوارے گئے۔اسے سیاست دان کے بجائے ایک مسیحا کا روپ دیا گیا۔جدیدترین ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے‘ایک شاندارابلاغی مہم ترتیب دی گئی۔سیاسی جلسوں کے تصور ہی کو بدل دیا گیا۔اسے ایک ‘کنسرٹ‘ کی صورت دے دی گئی۔یوں جلسہ ‘فیملی گالا‘ بن گیا۔بایں ہمہ‘ذہانت کے ساتھ ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ ایک جنت نظیر پاکستان کے واقعہ بننے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ روایتی سیاست دان ہیں۔دوسری طرف عمران خان ہیں جو کسی سیاست دان کانہیں‘ایک نجات دہندہ کا نام ہے۔سیاست سے ان کی بے خبری کو ان کے اثاثے کے طور پر پیش کیا گیا کیونکہ اس بیانیے میں ‘سیاست‘ چال بازی‘ جھوٹ‘فریب اور کرپشن کے ایک مجموعے کے سوا کچھ نہ تھی۔
ابلاغ کی اس مہم کے خصوصی مخاطب نوجوان اور خواتین تھے۔یہ دونوں طبقات‘اس سے پہلے عملی سیاست میں برائے نام ہی شریک تھے۔اس ابلاغی مہم کے تحت ان طبقات کی خوابیدہ خواہشوں(Fantasies) کو مخاطب بنایا گیا اور خان صاحب کا ایک ایساپیکر تراشا گیا جو ان خواہشوں کو واقعہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ مہم اتنی کامیاب رہی کہ اس نے عمران خان صاحب کوایک Cult میں بدل دیا۔صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا‘روایتی سیاست کے تمام حربے بھی پوری چابک دستی کے ساتھ آزمائے گئے۔ اس کی ایک بڑی مثال 2014 ء کا دھرنا تھا‘جس میں خفیہ ہاتھ اپنا کمال دکھا رہے تھے اور دوسری مثال2018 ء کے انتخابات ہیں‘ جن میں ایک طرف الیکٹ ایبلز کو تحریکِ انصاف کی سمت ہانکا گیا اوردوسری طرف انتخابی نتائج مرتب کرنے والی مشینوں کو کنٹرول میں لے لیا گیا۔

اس ‘پروجیکٹ‘ کا ہدف پارلیمانی سیاست اور روایتی سیاسی جماعتوں کا خاتمہ اورصدارتی نظام کے عنوان سے یک جماعتی اقتدارکا قیام تھا۔دو کمزوریاں مگر اس ہدف کے راستے میں حائل ہو گئیں۔ایک یہ کہ منصوبہ سازوں نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ جب مذہبی یاسیاسی کلٹ وجود میں آجاتے ہیں تو پھر اُن پرطاقت یا دلیل کارگر نہیں ہوتے۔کلٹ کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے جو وہ پوری کرتا ہے۔دوسری طرف عمران خان صاحب نے یہ گمان کیا کہ کلٹ بن جانے کے بعد‘وہ منصوبہ سازوں کے محتاج نہیں رہے۔اب موجد‘ایجاد کے تابع ہو چکا ہے۔ان دونوں عوامل نے تضادات کو جنم دیا جنہوں نے تصادم کی صورت اختیار کر لی۔تصادم نے اس ‘پروجیکٹ‘ کو‘ چند ابتدائی کامیابیوں کے باجود‘حتمی کامیابی تک نہ پہنچنے دیا۔

وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتارہا۔کوئی کاروانِ حیات کے راستے کی دھول بن گیا۔کسی نے گمنامی کی خواہش کی مگر اس کے اپنے ہی ہاتھوں کے تراشے ہوئے اصنام نے سوشل میڈیا کے مندروں میں‘اس کی ہجو گانا شروع کر دی۔ نکلی ہونٹوں چڑھی کوٹھوں۔اب وہ گمنام رہنے کا اختیاربھی کھو چکے۔اس طرح اس پروجیکٹ کی مدت مکمل ہوگئی۔
تحریکِ انصاف کیا اب دوبارہ ‘پروجیکٹ‘ سے سیاسی جماعت بن پائے گی؟اس بات کا تمام تر انحصار عمران خان صاحب پر ہے۔اس دوران میں انہوں نے بہت کچھ پایاجو سیاسی سفر میںان کے لیے زادِ راہ بن سکتا ہے۔وہ چاہیں تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتے ہیں۔ایک تو ان کی عصبیت وجود میں آچکی۔کلٹ اور عصبیت میں فرق ہے۔اس وقت دونوں باقی ہیں۔اس کے ساتھ انہوں نے طاقت کے مختلف مراکز میں بھی اپنے حامی پیدا کر لیے ہیں۔اگر وہ خود کو اس نظام کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ بنالیں تو اقتدار کی دیوی ان پرپھر مہربان ہو سکتی ہے۔

عمران خان صاحب کو ایک حد تک اس کا احساس ہے۔ وہ اپنے بیانیے کے اُن تمام نکات سے نجات حاصل کر رہے ہیں جن کی ماضی میں ایک افادیت تھی مگر اب باقی نہیں ہے۔ وہ نئی عسکری قیادت کی طرف بھی تعاون کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔گویا وہ زمینی حقائق سے تعلق پیدا کرر ہے ہیں۔اگر وہ انا اور خود پسندی کے حصار سے نکل کرسیاسی مخالفین کے وجود کو قبول کر لیں تونظام سے مطابقت کے راستے کی آخری رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی۔

انہیں انتخابات میں کامیابی چاہیے تو اس کے لیے خوئے دل نوازی لازم ہے۔ہیجان سے تحریکیں چل سکتی ہیں‘ووٹ نہیں لیے جا سکتے۔2018ء میں ان کے لیے یہ خدمت کسی اور نے انجام دی۔اب یہ کام انہیں خود کر نا ہو گا۔چوہدری پرویز الٰہی اس حوالے سے ان کے مدد گار ہوسکتے ہیں‘اگر وہ انہیں ساتھ لے کر چل سکیں۔مونس الٰہی کا انٹرویو مگرکچھ اور خبر دے رہا ہے۔ان حالات میں خان صاحب کو ایک سیاسی جماعت بننے کی شعوری کوشش کرنا ہوگی۔یہی بات اپنے حامیوں کو بھی سمجھانا ہوگی۔گالم گلوچ کا کلچر کسی سیاسی جماعت کو ساز گار نہیں۔

چونکہ خان صاحب کا کلٹ موجود ہے‘اس لیے انہیں اپنے کسی اقدام کی کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔دلیل‘استدلال کی وہاں حاجت ہوتی ہے جہاں لوگ کسی عقلی بنیاد پر آپ سے وابستہ ہوں۔وہ اگر ایک اور یو ٹرن لے لیں گے توان کے پیروکار اسے ان کا کشف سمجھتے ہوئے قبول کر لیں گے۔اس سے پہلے کہ ان کے کلٹ کی مدت بھی ‘پروجیکٹ‘ کی طرح ختم ہوجائے‘انہیں تحریکِ انصاف کو ایک سیاسی جماعت بنا لینا چاہیے۔بشکریہ دنیا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …