بدھ , 8 فروری 2023

فلسطینی مزاحمت کے سامنے اسرائیل بے بس!

(تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم)

عالمی سامراجی طاقتوں نے غاصب صہیونیوں کے لئے فلسطین میں ناجائز ریاست قائم کر کے جہاں ایک طرف مغربی ایشیائی ممالک کے وسائل کو ہڑپنے کا منصوبہ بنایا تھا وہاں ساتھ ساتھ مغربی استعماری قوتیں یہ چاہتی تھیں کہ گریٹر اسرائیل کے ذریعہ مغربی ایشیاء کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی ممالک تک بھی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی جڑیں پہنچا دی جائیں۔ اسرائیل کا وجود ایسے زمانہ میں قائم کیا گیا کہ جب برطانوی استعمار بر صغیر سے اپنے اقتدار کے خاتمہ کے دن گن رہا تھا اور ساتھ ساتھ پہلی جنگ عظیم کے بعد غرب ایشیائی ممالک سے اقتدار کی رسہ کشی میں مشکلات کا شکار تھا۔ ایسے حالات میں عالمی استعماری قوتوں امریکہ اور برطانیہ نے خطے میں مکمل کنٹرول قائم کرنے کے لئے سرزمین فلسطین پر غاصب صہیونی ریاست کے جرثومہ کو جنم دیا۔

اسرائیل کی بقاء و دوام کے لئے امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی قوتوں نے ہر ممکنہ مدد اور کوششیں جاری رکھی ہیں۔ سنہ1967ء کی جنگ سے لے کر سنہ1973ء کی جنگ اور اسی طرح بعد میں کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدوں کے بعد غزہ پر جنگوں کا مسلط کیا جانا اور اسی طرح لبنان و شام کے علاقوں پر صہیونی قبضہ قائم کرنے کے لئے لبنان پر قبضہ اور پھر لبنان میں ۳۳روزہ جنگ کے ساتھ ساتھ خطے میں داعش کے وجود کو جنم دے کر ہر وہ کوشش کی جس سے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کو تقویت پہنچ سکے ل۔ 75سالہ اس تاریخ میں عالمی سامراج نے ہر سازشی اقدام کرکے دیکھ لیا لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا۔

دوسری جانب فلسطینی مزاحمت کہ جس نے سنہ1948 قبل ہی یعنی سنہ1917ء میں بالفور اعلامیہ کے بعد آغاز کیا تھا بتدریج عمل کے ساتھ ساتھ طاقتور ہو رہی ہے اور غاصب اسرائیل کی مسلسل بے بسی کا موجب بنتی چلی جا رہی ہے۔ فلسطینی مزاحمت کہ جس نے امریکی عوام کے ٹیکس سے بنائے گئے کروڑوں کی مالیت کے بھاری بھرکم ٹینکوں کے مقابلہ میں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے آغاز کیا تھا آج وہ فلسطینی مزاحمت اتنی قدرت مند ہو چکی ہے کہ نہ صرف غاصب صہیونیوں کے مقابلہ میں دفاع کرتی ہے بلکہ غاصب صہیونیوں کے ہر جارحانہ عمل اور دہشت گردانہ کاروائیوں کا منہ توڑ جواب بھی دے رہی ہے۔یہ صرف مسلح مزاحمت ہے کہ جو اسرائیل سے نبردا ٓزما ہے۔

فلسطینی مزاحمت کا ایک باب جو کہ عوامی مزاحمت سے منسلک ہے۔عوامی مزاحمت ایک ایسی مزاحمت ہے جو فلسطین کی سرحدوں کو چیرتی ہوئی دنیا کے تمام حریت پسندوں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے۔جدید دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق آج فلسطینی مزاحمت ایک عالمگیر اور انسانی و عوامی مزاحمت کا روپ دھار چکی ہے۔ آ ج دنیا میں کسی بھی مقام پر حریت پسندوں کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ان کی آواز کو مدھم کیا جا سکتا ہے۔ دشمن کے بنائے گئے نرم ہتھیار یعنی سوشل میڈیا نے ہی خود دشمن کے لئے میدان کو سخت کر دیا ہے۔آج کی دنیا میں جنم لینے والی نئی نسل مسلسل فلسطین و کشمیر اور یمن جیسے مسائل کے لئے بیکراں ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے اقدامات کو عوامی مزاحمت کا سامنا ہے۔

حال ہی میں جہاں ایک طرف فلسطین کے مغربی کنارے میں کہ جہاں غاصب اسرائیل کا تسلط ہے فلسطین کی عوامی مزاحمت نے غاصب اسرائیل کے لئے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ غزہ کے بعد مغربی کنارے میں اٹھنے والی عوامی مزاحمت نے فلسطین کے تمام دھڑوں کو ایک نئی امید بخشی ہے۔

حال ہی میں جب امریکہ اور مغربی قوتیں غاصب اسرائیل کے لئے نارملائزیشن کے لئے کام کر رہی ہیں وہاں ساتھ ساتھ اسرائیل کو عوامی مزاحمت کا شدت سے سامنا ہے۔ حالانکہ امریکی سرپرستی میں عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقا ت قائم کروائے گئے ہیں لیکن حالیہ دنوں قطر میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ نے فلسطین کی عوامی مزاحمت کی ایک نئی شکل کو جنم دیا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔

عالمی برادری نے مسئلہ فلسطین پر جس قدر بے حسی اور مجرمانہ غفلت دکھائی ہے اسی قدر دنیا بھر میں عوامی مزاحمت فلسطین کے حق میں بیدار ہو رہی ہے۔آج دنیا کی تمام شیطانی قوتیں مل کر مسئلہ فلسطین و نابود اور ناپید کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں ساتھ ساتھ فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آوازوں نے دشمن کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ عوام میں اپنی مقبولیت پیدا کر رہا ہے اور یہ مقبولیت جہاں فلسطینی کاز کو تقویت پہنچانے میں کارگر ہے وہاں ساتھ ساتھ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل اور اس کے مغربی آقاؤں کے منصوبوں کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے۔حالیہ دنوں میں مقبوضہ فلسطین میں رونما ہونے والے واقعا ت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غاصب اسرائیل فلسطینی مزاحمت کے سامنے فلسطین کے اندر بھی بے بس ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے لئے عوامی مزاحمت دنیا بھر میں غاصب اسرائیل کی رسوائی کے لئے صہیونی تابوت میں کیل ٹھونکنے کا کام کر رہی ہے۔بشکریہ مہر نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …