بدھ , 8 فروری 2023

آرمی چیف کا بھارت کو واضح پیغام اور عمران خان کا بے مقصد انتظار!!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ہم گھر میں گھس کر ماریں گے، کسی غلط خیال کی بنیاد پر کسی بھی مِس ایڈونچر کا سامنا مسلح افواج کی مکمل قوت کے ساتھ کیا جائے گا جسے حوصلہ مند قوم کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر کا دورہ کیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو لائن آف کنٹرول کی تازہ صورتحال اور فارمیشن کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف سید عاصم منیر نے افسروں اور جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی پیشہ وارانہ قابلیت اور بلند حوصلے کو سراہا انہوں نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نوٹس لیا ہے، پاکستان کی مسلح افواج وطن عزیز کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا بھر پور جواب دیں گے، بھارت کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو گا۔ دنیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔

دل خوش کر دیا نئے آرمی چیف نے ایک ایسے وقت میں افغانستان میں کچھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو براہ راست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہیں، اس طرح ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان میں کہیں کہیں کچھ ایسے واقعات ہیں جن کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ واضح طور پر بھارت ہی ہے، پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور ہمارے امن و امان کو تباہ کرنے کے لیے بھارت ہر وقت مصروف ہے ان حالات میں پاکستان کے آرمی چیف نے اپنے سب سے بڑے اور ازلی دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دشمن باز رہے ورنہ گھر میں گھس کر مارا جائے گا اور ابھینندن کے وقت یہ تجربہ دشمن کر چکا ہے جب انہیں کچھ کرنے کا شوق ہوا تو پھر پاکستان کی بہادر اور باصلاحیت افواج نے بھارت کا خواب چکنا چور اور غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ ابھینندن کا گرا ہوا طیارہ اور بہتا لہو آج بھی دشمن کو یاد ہو گا اس پھینٹی کے باوجود بھارت ابھی تک باز نہیں آیا اور وہ مسلسل پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں میں مصروف ہے ان حالات میں نئے آرمی چیف نے ازلی دشمن بھارت کو واضح پیغام دیا ہے۔ ناصرف بھارت کو خبردار کیا ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی دنیا کو یاددہانی کروا دی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ جنرل شہید سرفراز علی کے وہ الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں کہ آزادی کشمیری عوام کا حق ہے اور ہم اس کے لیے محنت کریں گے ہمیں ہزار سال بھی محنت کرنا پڑی ہم کریں گے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور سید عاصم منیر کو اپنے شہید ساتھی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی توفیق عطاءفرمائے۔ ہزار سال تو محاورتاً استعمال ہوا یقیناً جلد کشمیر آزاد ہو گا اور کشمیری عوام پر ظلم کرنے والے ظالم بھارتی حکمرانوں اور ان کا ساتھ دینے والوں کو حساب تو دینا ہو گا۔

آرمی چیف سید عاصم منیر کا جوانوں کے ساتھ پہلی باضابطہ گفتگو تھی۔ انہوں نے اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بھارت کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے۔ کاش کہ ان مشکل حالات میں ہماری سیاسی قیادت کو بھی ادراک ہو کہ ملک کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور دشمن ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے کس حد تک کام کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی قیادت اپنی لڑائیوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف انتخابات کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف انتخابات کو اپنے وقت پر کروانے کا پیغام ہے۔ اس لڑائی میں کسی کو یہ فکر نہیں کہ کیا یہ وقت اس طرح وقت ضائع کرنے کا ہے۔ جنہیں سب وقتاً فوقتاً تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ازلی دشمن اور دنیا کو پیغام وہی دے رہے ہوتے ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت الیکشن پر نہیں آتی تو اسی ماہ اسمبلیاں توڑ دیں گے، اگر حکومت عام انتخابات کی تاریخ دینا چاہتی ہے تو بات چت کیلئے تیار ہیں ، میرے کے کل کے بیان سے ان لوگوں کو غلط پیغام چلا گیا،ان سے بات چیت کس چیز پر ہوگی؟ ہوہی نہیں سکتی۔ ان کو لانے والے سہولت کاروں کو نہیں پتا کہ ملک کہاں جارہا ہے، الیکشن پی ٹی آئی کی نہیں ملک کی ضرورت ہیں۔

جناب خان صاحب آپ کے پاس پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کے مکمل اختیارات ہیں ایک ماہ انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ موجودہ حکومت آپ کے کہنے پر قبل از وقت انتخابات کی طرف نہیں جائے گی۔ آپ نے جلسوں کی نصف سینچری کر لی، روزانہ گھنٹوں برا بھلا کہہ کر دیکھ لیا، آپ نے لانگ مارچ بھی کر لیا لیکن انتخابات کی تاریخ نہیں مل سکی تو اب کس بنیاد پر آپکا مطالبہ مان لیا جائے گا۔ کیا آپ موجودہ حکومت سے یا ان حکمرانوں کے ماضی سے واقف نہیں ہیں کیا آپکو اب بھی امید ہے کہ وہ آپ کے بیانات سے ڈرتے ہوئے انتخابات کی طرف بڑھ جائیں گے۔ آپ اس وقت بزور طاقت مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں بہت پہلے لکھا تھا کہ مذاکرات مشروط نہیں غیر مشروط ہوتے ہیں جتنا وقت ضائع کریں گے آپ کا ہی نقصان ہے پہلے بھی آپ نے اپنا نقصان کیا ہے جہاں تک ملک کا تعلق ہے اس کی آپ سمیت کسی کو کیا فکر ہے۔ کیا سیاسی استحکام کا مطلب صرف پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔ موجودہ حکومت بھی سیاسی ہے وہ بھی لوگوں کے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں انہوں نے ووٹوں کے ذریعے ہی آپکو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا ہے آپ دوبارہ وہاں جانا چاہتے ہیں تو اپنے وقت اور باری کا انتظار کریں جب بھی عام انتخابات ہوں گے جیتیں اور واپس آئیں لیکن لوگوں کو ملک کے نام جذباتی تو نہ کریں کیونکہ یہ لڑائی تو اقتدار کی ہے اس کا ملک سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جو کچھ اعظم سواتی کے ساتھ ہوا ہے وہ اگر میرے ساتھ ہو تو میں خود کش حملے کیلئے تیار ہو جاو¿ں۔ اس کے بعد ان کے ذہن میں صرف یہ بات ہی رہ جائے گی کہ بدلہ کیسے لینا ہے۔ اعظم سواتی کیلئے احتجاج کرنا ضروری ہے، اس کے ساتھ جو ہوا وہ ظلم کی انتہا ہے۔

جناب خان صاحب کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے کہ آپ کے سامنے کوئی شخص ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگائے، نامناسب گفتگو کرے، اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرے، لوگوں کے جذبات بھڑکائے، غلط بیانی سے کام لے اس ظلم کا حساب کون لے گا اور اس کا جواب کون دے گا۔ اگر اعظم سواتی کے خلاف کچھ قانون سے ہٹ کر ہو رہا ہے تو آپ قانونی راستہ اختیار کریں، اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو پھر آپ تو قانون کی حکمرانی کے بڑے علمبردار ہیں پھر چیخ و پکار کیوں۔ کوئی بھی آئین و قانون سے بڑا یا بالاتر تو نہیں ہے۔ اس لیے قانونی راستہ اختیار کریں۔ شہباز گل نے جو کچھ کہا کیا وہ غیر اخلاقی نہیں کیا ایسی گفتگو یا ایسی زبان عوامی اجتماعات میں استعمال کی جا سکتی ہے کیا آپ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کی حدود کیا ہیں، ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ کچھ کہنے سے پہلے ذرا سوچیں آپ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں آپ لوگوں کو خودکش حملوں کا پیغام دے کر انہیں قانون توڑنے کا پیغام دے رہے ہیں کیا سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو یہ رویہ یا انداز گفتگو زیب دیتا ہے۔

آرمی چیف ج رل عاصم م یر ے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ج گ مسلط کی گئی تو ہم گھر میں گھس کر ماریں گے، کسی غلط خیال کی ب یاد پر کسی بھی مِس ایڈو چر کا سام ا مسلح افواج کی مکمل قوت کے ساتھ کیا جائے گا جسے حوصلہ م د قوم کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔آرمی چیف ج رل عاصم م یر ے لاء آف ک ٹرول کے رکھ چکری سیکٹر کا دورہ کیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو لاء آف ک ٹرول کی تازہ صورتحال اور فارمیش کی آپریش ل تیاریوں پر بریف گ دی گئی۔ آرمی چیف سید عاصم م یر ے افسروں اور جوا وں سے بات چیت کرتے ہوئے ا کی پیشہ وارا ہ قابلیت اور بل د حوصلے کو سراہا ا ہوں ے کہا کہ ہم ے گلگت بلتستا اور آزاد کشمیر سے متعلق بھارتی قیادت کے حالیہ غیر ذمہ دارا ہ بیا ات کا وٹس لیا ہے، پاکستا کی مسلح افواج وط عزیز کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ دشم کی کسی بھی مہم جوئی کا بھر پور جواب دیں گے، بھارت کبھی اپ ے مذموم مقاصد میں کامیاب ہیں ہو گا۔ د یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرے۔ن

دل خوش کر دیا ئے آرمی چیف ے ایک ایسے وقت میں افغا ستا میں کچھ ایسے واقعات ہو رہے ہیں جو براہ راست پاکستا کو قصا پہ چا ے کے لیے ہیں، اس طرح ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستا میں کہیں کہیں کچھ ایسے واقعات ہیں ج کے پیچھے کوئی اور ہیں بلکہ واضح طور پر بھارت ہی ہے، پاکستا میں عدم استحکام پیدا کر ے اور ہمارے ام و اما کو تباہ کر ے کے لیے بھارت ہر وقت مصروف ہے ا حالات میں پاکستا کے آرمی چیف ے اپ ے سب سے بڑے اور ازلی دشم کو اس کی زبا میں جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دشم باز رہے ور ہ گھر میں گھس کر مارا جائے گا اور ابھی د کے وقت یہ تجربہ دشم کر چکا ہے جب ا ہیں کچھ کر ے کا شوق ہوا تو پھر پاکستا کی بہادر اور باصلاحیت افواج ے بھارت کا خواب چک ا چور اور غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ ابھی د کا گرا ہوا طیارہ اور بہتا لہو آج بھی دشم کو یاد ہو گا اس پھی ٹی کے باوجود بھارت ابھی تک باز ہیں آیا اور وہ مسلسل پاکستا کو قصا پہ چا ے کی کارروائیوں میں مصروف ہے ا حالات میں ئے آرمی چیف ے ازلی دشم بھارت کو واضح پیغام دیا ہے۔ اصرف بھارت کو خبردار کیا ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی د یا کو یاددہا ی کروا دی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے۔ اس موقع پر لیفٹی ٹ ج رل شہید سرفراز علی کے وہ الفاظ کا وں میں گو جتے ہیں کہ آزادی کشمیری عوام کا حق ہے اور ہم اس کے لیے مح ت کریں گے ہمیں ہزار سال بھی مح ت کر ا پڑی ہم کریں گے اللہ ا کے درجات بل د فرمائے اور سید عاصم م یر کو اپ ے شہید ساتھی کے خواب کو حقیقت میں بدل ے کی توفیق عطاءفرمائے۔ ہزار سال تو محاورتاً استعمال ہوا یقی اً جلد کشمیر آزاد ہو گا اور کشمیری عوام پر ظلم کر ے والے ظالم بھارتی حکمرا وں اور ا کا ساتھ دی ے والوں کو حساب تو دی ا ہو گا۔

آرمی چیف سید عاصم م یر کا جوا وں کے ساتھ پہلی باضابطہ گفتگو تھی۔ ا ہوں ے اپ ے جوا وں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بھارت کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے۔ کاش کہ ا مشکل حالات میں ہماری سیاسی قیادت کو بھی ادراک ہو کہ ملک کو ک مشکلات کا سام ا ہے اور دشم ہمیں قصا پہ چا ے کے لیے کس حد تک کام کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی قیادت اپ ی لڑائیوں میں مصروف ہے۔ ایک طرف ا تخابات کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف ا تخابات کو اپ ے وقت پر کروا ے کا پیغام ہے۔ اس لڑائی میں کسی کو یہ فکر ہیں کہ کیا یہ وقت اس طرح وقت ضائع کر ے کا ہے۔ ج ہیں سب وقتاً فوقتاً ت قید کا شا ہ ب اتے ہیں ازلی دشم اور د یا کو پیغام وہی دے رہے ہوتے ہیں۔ن

چیئرمی تحریک ا صاف عمرا خا ے کہا ہے کہ حکومت الیکش پر ہیں آتی تو اسی ماہ اسمبلیاں توڑ دیں گے، اگر حکومت عام ا تخابات کی تاریخ دی ا چاہتی ہے تو بات چت کیلئے تیار ہیں ، میرے کے کل کے بیا سے ا لوگوں کو غلط پیغام چلا گیا،ا سے بات چیت کس چیز پر ہوگی؟ ہوہی ہیں سکتی۔ ا کو لا ے والے سہولت کاروں کو ہیں پتا کہ ملک کہاں جارہا ہے، الیکش پی ٹی آئی کی ہیں ملک کی ضرورت ہیں۔

ج اب خا صاحب آپ کے پاس پ جاب اور خیبر پختو خوا کی اسمبلیوں کے مکمل اختیارات ہیں ایک ماہ ا تظار کر ے کی کیا ضرورت ہے۔ کیو کہ یہ بات تو طے ہے کہ موجودہ حکومت آپ کے کہ ے پر قبل از وقت ا تخابات کی طرف ہیں جائے گی۔ آپ ے جلسوں کی صف سی چری کر لی، روزا ہ گھ ٹوں برا بھلا کہہ کر دیکھ لیا، آپ ے لا گ مارچ بھی کر لیا لیک ا تخابات کی تاریخ ہیں مل سکی تو اب کس ب یاد پر آپکا مطالبہ ما لیا جائے گا۔ کیا آپ موجودہ حکومت سے یا ا حکمرا وں کے ماضی سے واقف ہیں ہیں کیا آپکو اب بھی امید ہے کہ وہ آپ کے بیا ات سے ڈرتے ہوئے ا تخابات کی طرف بڑھ جائیں گے۔ آپ اس وقت بزور طاقت مطالبہ کر ے کی پوزیش میں بھی ہیں ہیں بہت پہلے لکھا تھا کہ مذاکرات مشروط ہیں غیر مشروط ہوتے ہیں جت ا وقت ضائع کریں گے آپ کا ہی قصا ہے پہلے بھی آپ ے اپ ا قصا کیا ہے جہاں تک ملک کا تعلق ہے اس کی آپ سمیت کسی کو کیا فکر ہے۔ کیا سیاسی استحکام کا مطلب صرف پاکستا تحریکِ ا صاف کی حکومت ہے۔ موجودہ حکومت بھی سیاسی ہے وہ بھی لوگوں کے ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہ چے ہیں ا ہوں ے ووٹوں کے ذریعے ہی آپکو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا ہے آپ دوبارہ وہاں جا ا چاہتے ہیں تو اپ ے وقت اور باری کا ا تظار کریں جب بھی عام ا تخابات ہوں گے جیتیں اور واپس آئیں لیک لوگوں کو ملک کے ام جذباتی تو ہ کریں کیو کہ یہ لڑائی تو اقتدار کی ہے اس کا ملک سے کچھ لی ا دی ا ہیں ہے۔

پاکستا تحریک ا صاف کے سربراہ عمرا خا کا کہ ا ہے کہ جو کچھ اعظم سواتی کے ساتھ ہوا ہے وہ اگر میرے ساتھ ہو تو میں خود کش حملے کیلئے تیار ہو جاو¿ں۔ اس کے بعد ا کے ذہ میں صرف یہ بات ہی رہ جائے گی کہ بدلہ کیسے لی ا ہے۔ اعظم سواتی کیلئے احتجاج کر ا ضروری ہے، اس کے ساتھ جو ہوا وہ ظلم کی ا تہا ہے۔

ج اب خا صاحب کیا یہ ظلم کی ا تہا ہیں ہے کہ آپ کے سام ے کوئی شخص ریاستی اداروں پر بے ب یاد الزامات لگائے، ام اسب گفتگو کرے، اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرے، لوگوں کے جذبات بھڑکائے، غلط بیا ی سے کام لے اس ظلم کا حساب کو لے گا اور اس کا جواب کو دے گا۔ اگر اعظم سواتی کے خلاف کچھ قا و سے ہٹ کر ہو رہا ہے تو آپ قا و ی راستہ اختیار کریں، اگر سب کچھ قا و کے مطابق ہے تو پھر آپ تو قا و کی حکمرا ی کے بڑے علمبردار ہیں پھر چیخ و پکار کیوں۔ کوئی بھی آئی و قا و سے بڑا یا بالاتر تو ہیں ہے۔ اس لیے قا و ی راستہ اختیار کریں۔ شہباز گل ے جو کچھ کہا کیا وہ غیر اخلاقی ہیں کیا ایسی گفتگو یا ایسی زبا عوامی اجتماعات میں استعمال کی جا سکتی ہے کیا آپ اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کر ا ہے کہ آزادی اظہارِ رائے کی حدود کیا ہیں، ہماری ذمہ داری کیا ہے۔ کچھ کہ ے سے پہلے ذرا سوچیں آپ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں آپ لوگوں کو خودکش حملوں کا پیغام دے کر ا ہیں قا و توڑ ے کا پیغام دے رہے ہیں کیا سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو یہ رویہ یا ا داز گفتگو زیب دیتا ہے۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …