بدھ , 8 فروری 2023

اسرائیل کیسے انڈیا کو چین کے ساتھ سرحد پر نظر رکھنے میں مدد کر رہا ہے؟

اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) میں انڈیا کے لیے مارکیٹنگ کے نائب صدر اوی بلیسر نے کہا ہے کہ وہ انڈین آرمی اور فضائیہ کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ویب سائٹ ریڈ اِٹ کے مطابق اوی بلیسر نے فوجیوں کے ساتھ جا کر ان کی جنگی تیاری کی مشقیں دیکھنے کے علاوہ وزرائے دفاع کے ساتھ مذاکرات کیے اور نکسل باڑیوں کے بارے میں خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کے لیے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (یو اے وی) کے استعمال پر پانچ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کی۔

ویب سائٹ کے مطابق اوی بلیسر ایک بار مشن پر جانے والی آندھرا پردیش پولیس کے ساتھ بھی گئے جبکہ 2020 میں وادی گولان کے واقعے کے بعد سے وہ چین اور انڈیا کی سرحد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اوی بلیسر انڈین آرمی اور ایئرفورس کی جن دفاعی ضرورت کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ان میں 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز اور ایک ہزار کلو میٹر علاقے کا احاطہ کرنے والا جدید ترین یو اے وی ہیرون ایم کے ٹو شامل ہے، جو بادلوں کے آر پار دیکھنے کی صلاحیت کے علاوہ خراب موسم میں مسلسل 45 گھنٹے تک پرواز کر سکتا ہے۔

ایم کے ٹو ڈرونز کو لداخ میں بھیجا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال انڈین فوج نے ہیرون ٹی پی نظام بھی حاصل کیے تھے۔

یہ میڈیم آلٹی چیوڈ لونگ انیڈیورنس (ایم اے ایل ای) اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کا پائلٹ کے بغیر ایریئل سسٹم ہے، جو ہر قسم کے موسم میں مشن کے لیے کارآمد ہے۔

ہیرون ٹی پی ڈرونز ان دو ڈرونز میں ایک ہے جو اسرائیل میں تیار کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر انہیں ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔

بلیسر کے انڈیا کے ساتھ تعلقات 1991 سے قائم ہیں جب وہ پہلی بار سنگاپور ایئر شو میں ایک انڈین وفد سے ملے۔

بلیسر کا کہنا ہے: ’میں یورپی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔ انہوں نے مجھے ساؤتھ بلاک میں مدعو کیا۔ چار سال کے بعد انڈین وزارت دفاع نے آئی اے آئی کے ساتھ دو سرچ سسٹم فراہم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔‘

وقت کے ساتھ ساتھ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعلقات مضبوط ہوتے رہے۔اسرائیلی ٹیکنالوجی اور آلات درآمد کرتے کرتے اب انڈین کمپنیاں آئی اے آئی کے ساتھ کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔

آئی اے آئی اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ (ایچ اے ایل) نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اسرائیلی ادارہ انڈیا کو نہ صرف ڈرونز فراہم کرے گا بلکہ انڈیا میں ان کی تیاری کے لیے ایچ اے ایل کی مدد کرے گا۔

2018 میں انڈیا کے اڈانی گروپ نے حیدر آباد میں ہرمیس 900 قسم کے ڈرون بنانے کے لیے اسرائیلی کمپنی ایلبِٹ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

اس سے پہلے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا۔آئی اے آئی نے انڈیا میں ڈرون بنانے کے لیے ایلکوم سسٹم اور ڈائنامیٹک ٹیکنالوجیز کے ساتھ معاہدہ کیا۔

قبل ازیں اس سال ایچ اے ایل نے سول مسافر طیاروں کو کارگو اور نقل و حمل کی صلاحیتوں کے ساتھ فضائی ایندھن بھرنے کے لیے ملٹی مشن ٹینکر ٹرانسپورٹ (ایم ایم ٹی ٹی) میں تبدیل کرنے کے لیے آئی اے آئی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ایم او یو میں مسافر طیاروں کو مال بردار طیاروں میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …