بدھ , 8 فروری 2023

مقبوضہ غربِ اردن میں نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج نے اسرائیل کے طاقت کے استعمال کو ظاہر کر دیا

(ٹام بیٹمین)

اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں جھڑپوں کے دوران فلسطینی نوجوان کی ہلاکت کی فوٹیج نے اسرائیل کی فلسطین کے خلاف طاقت کے استعمال کو ظاہر کر دیا ہے۔

منگل کے روز اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ایک فلسطینی گھر کو مسمار کرنے کی کوشش میں فلسطینی مردوں اور خواتین کے ایک گروہ کی جانب سے مزاحمت کے دوران ایک فلسطینی نوجوان رعدالنصان فائرنگ کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔حالیہ برسوں کے دوران اس قسم کے تشدد کی مثال نہیں ملتی۔

اس واقعے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی ایک گھر کو مسمار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک گاؤں میں داخل ہوئے تھے۔ اس واقعے کی فوٹیج میں مردوں اور نوجوانوں پر مشتمل ایک گروہ کو پتھر مارتے اور دو گولیاں چلنے کے بعد پیچھے ہٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔

منظر عام پر آنے والی فوٹیج میں فلسطینی نوجوان رعد النصان بھاگتے ہوئے ایک موڑ مڑتے ہوئے گر جاتے ہیں۔ ان کی قمیض خون آلود تھی اور وہ بری طرح زخمی تھے۔

اس روز مقبوضہ غربِ اردن کے مختلف دیہاتوں میں جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے چار فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان کی موت کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ فوجیوں نے ایک مشتبہ شخص کو ان پر پٹرول بم پھینکتے ہوئے دیکھا تو اس پر فائرنگ کی۔ لیکن ویڈیو شواہد اور عینی شاہدین کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ جب انھیں گولی ماری گئی تو وہ ایسا کوئی عمل نہیں کر رہے تھے۔

اس سال غرب اردن میں 140 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً تمام اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری اور مسلح عسکریت پسند شامل ہیں۔

ادھر فلسطینیوں پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے چھاپوں کے دوران فوجیوں پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں عام شہریوں اور فوجیوں سمیت 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خطے کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ٹور وینس لینڈ نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ تنازع اور فوجی قبضے ’ایک بار پھر خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔‘ اسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ وہ النصان کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہا ہے اور یہ کہ اس سال مظاہرین پر گولیاں چلانے کے واقعات میں سے اکثر’طاقت کے حد سے زیادہ استعمال‘ کے مترادف ہیں۔ اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس نے ‘پرتشدد فسادیوں’ کو روکنے کے لیے کارروائی کی ہے اور اس واقعے کا ‘جائزہ’ لیا جا رہا ہے۔ فوجی ’غیر قانونی تعمیرات‘ کے کو منہدم کرنے کے احکامات کے ساتھ منگل کے روز المغیر گاؤں میں داخل ہوئے تھے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب اسرائیلی حکام بلا اجازت تعمیر کردہ فلسطینی گھروں کو بلڈوز کرنے جاتے ہیں۔

ویسے ایسے احکامات کا حصول تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ اکیس برس کے رعد النصان کو اس وقت گولی لگی جب 20 کے قریب نوجوانوں اور لڑکوں نے فوجیوں اور ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کیا تھا۔رعد النصان ان چار فلسطینیوں میں سے ایک تھے جنھیں منگل کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا

بین الاقوامی قانون کے مطابق سکیورٹی فورسز شہریوں کے خلاف آتشیں اسلحہ صرف آخری حربے کے طور پر اس وقت استعمال کر سکتی ہیں جب انھیں جان یا شدید زخمی ہونے کا خطرہ ہو۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ سے تقریباً ایک منٹ قبل رعد سمیت یہ گروپ سڑک سے پتھر اٹھا کر ان فوجیوں کی طرف پھینک رہا تھا جو فوٹیج میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ کسی کو پٹرول بم پھینکتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے بعد رعد اپنے گھر کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں جن کے ہاتھ میں بظاہر پتھر ہوتے ہیں، اس وقت دو گولیاں چلنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دوسری گولی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

مجاہد ابوعالیہ جو پیشے کے اعتبار سے ایک پیرمیڈک ہیں اور فوراً موقع پر انھیں طبی امداد دینے پہنچے تھے کا کہنا تھا کہ ’کسی نے پیٹرول بم نہیں پھینکا تھا، میں وہاں تھا۔۔۔ جب میں نے اسے (رعدالنصان کو) اٹھایا تو وہ چلا رہے تھے، ’میں مرجاؤں گا، میں مرجاؤں گا۔‘

رعد النصان کی والدہ فاطمہ نے بتایا کہ کس طرح وہ چند لمحوں کے بعد ان کی مدد کرنے کی کوشش میں ان کے پیچھے بھاگیں۔

اپنے جوان بیٹے کی تدفین کے بعد انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ (فوجی) ہمارے گھر کی طرف آئے تھے جب ان میں اور نوجوانوں میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔‘

ایک اورعینی شاہد رغد جہاد نے کہا کہ ’جب انھوں نے براہ راست فائرنگ شروع کی تو ان کے علاوہ تمام افراد منتشر ہو گئے، رعد النصان وہاں کھڑے رہے۔ اسرائیلی فوجی پچھلے ایک ہفتے سے گاؤں پر چھاپہ مار رہے ہیں۔ یہ قبضہ ہے اور وہ جب چاہتے ہیں آ جاتے ہیں۔‘ رعد النصان نے حال ہی میں اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور وہ فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی سروسز میں ایک افسر کی حیثیت سے تربیت حاصل کر رہے تھے۔ اس تنظیم کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے اور یہ مقبوضہ غرب اردن کے بعض حصوں میں پولیس کے فرائض انجام دیتی ہے۔ اسرائیلی فورس آئی ڈی ایف نے ایک بیان میں کہاہے کہ ’ویڈیو میں واقعے کا صرف ایک حصہ دکھایا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف کے فوجیوں کو پرتشدد فسادیوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ ان میں مرنے والا نوجوان بھی شامل ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس شخص نے فورسز پر پیٹرول بم پھینکا تھا، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ شروع کردی. واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘ المغیر گاؤں میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ کئی سالوں سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ غرب اردن کی سب سے زیادہ نظریاتی طور پر اسرائیلی بستیوں کے قریب ہے جہاں فلسطینی گروہوں نے گاؤں کے قریب تعمیرات کی کوشش کی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، اور زیادہ تر چوکیاں اسرائیلی قوانین کے تحت بھی ممنوع ہیں۔

المغیر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھیں صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے نئے وزیر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور یہودی نو آبادیوں کے کٹر حامی ہیں۔ وہ پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں پر گولی چلانے کے حق میں ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں کو ان مقدمات میں استغاثہ سے استثنیٰ حاصل ہو جہاں فلسطینیوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے درور سادوت نے 2022 کو فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے اعتبار سے ’انتہائی سخت سال‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مظاہروں کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جہاں فلسطینی پتھروں اور بعض اوقات دوسری چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں اور اسرائیلی فوج تقریباً ہمیشہ غیر متناسب طاقت کا استعمال کرتی ہے۔‘ آئی ڈی ایف ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا بار بار کہنا ہے کہ وہ ایسے واقعات کی محکمانہ تحقیقات کرتی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے گروپ اس طرح کی تحقیقات کو ’آنکھ میں دھول جھونکنے‘ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ رواں ہفتے بڑھتے ہوئے تشدد کے دوران ایک اسرائیلی فوجی اس وقت شدید زخمی ہو گیا تھا جب مقبوضہ غرب اردن کی ایک بستی کے قریب ایک فلسطینی شخص نے اپنی کار اس پر چڑھا دی تھی۔

گذشتہ ہفتے بیت المقدس میں ہونے والے دو بم حملوں میں دو اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فورسز اب بھی مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔ موسم بہار کے بعد سے اسرائیل نے غرب اردن میں رات کے وقت تلاشی اور گرفتاریوں کے لیے مسلسل چھاپے مارے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وہ مزید حملوں کے خطرے کو روکنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔بشکریہ دی انڈپینڈںٹ

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …