جمعہ , 3 فروری 2023

خلوص، سادگی اور عمل کا نمونہ: مولانا سید صفدر حسین نجفی

(تحریر: سید ثاقب اکبر)

پارٹ 2:

قرآن کی مہجوریت کا غم اور تفسیر نمونہ کا ترجمہ
مولانا سید صفدر حسین نجفی کو اس کا بات کا بہت قلق تھا کہ امت اسلامیہ نے قرآن سے دوری اختیار کر رکھی ہے۔ شیعوں سے انھیں خاص شکوہ تھا، کیونکہ شیعہ تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہؐ دو چیزیں ایسی چھوڑ گئے تھے، جن سے وابستہ رہ کر امت ضلالت و گمراہی سے بچی رہ سکتی تھی، ایک قرآن اور دوسری اہل بیتؑ۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے فیصلہ کیا کہ قرآنی معارف و علوم کی اشاعت کے لیے ایک ادارہ قائم کریں گے۔ اس کے لیے انھوں نے راقم سے ضروری اقدامات کے لیے کہا، چنانچہ بعض دیگر اہم شخصیات سے مل کر قرآنیات کی اشاعت کے لیے ایک ادارہ ’’مصباح القرآن ٹرسٹ‘‘ کے نام سے قائم کیا گیا۔ راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے کا نام میں نے تجویز کیا، جسے مولوی صاحب مرحوم نے قبول کر لیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ راقم نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے تعلیم مکمل کرکے اسلام آباد کیپٹل اتھارٹی میں ٹائون پلانر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی تھی۔ ابھی تقریباً دس ماہ ہی ہوئے تھے کہ مولانا صاحب نے حکم کیا کہ اس ملازمت کو چھوڑ کر میں لاہور ان کے پاس چلا جائوں۔ چنانچہ میں نے ان کے حکم کے بعد اگلے دن اپنا استعفیٰ جمع کروا دیا اور بوریا بستر باندھ کر لاہور روانہ ہوگیا۔

ایک ٹائون پلانر دوست نے جب دیکھا کہ میں مستعفی ہو رہا ہوں تو وہ بہت حیران ہوا۔ کہنے لگا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں، اتنی اہم جاب چھوڑ رہے ہیں، میں نے کہا کہ انبیاء کی آمد کا سلسلہ تو ختم ہوچکا ہے، آخری امام کا دور ہے، جو پردۂ غیبت میں ہیں، اب علماء ہی ہیں، جو دین کے ترجمان ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں مولانا صفدر حسین سے زیادہ مخلص عالم دین نہیں دیکھا۔ اگر ان کی بات کا بھی انکار کر دوں تو پھر کیا توقع ہے کہ میں کسی نبی کے دور میں ہوتا تو ان کی ہر بات مانتا یا امام ظہور فرمائیں تو میں ان کی آواز پر لبیک کہوں۔ مولانا صاحب نے ان دنوں تفسیر نمونہ کا ترجمہ شروع کیا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ اس کی زبان و بیان کی نوک پلک درست کرنے کا کام میرے سپرد کریں۔ وہ ادبیات سے میرے تعلق اور ذوق کو جانتے تھے، کیونکہ میں نے کئی برس ان کے ساتھ مختلف حوالوں سے کام کیا تھا۔ چنانچہ میں لاہور چلا گیا اور تفسیر نمونہ کے پراجیکٹ کے ساتھ مولانا صاحب کی سرپرستی میں منسلک ہوگیا۔

تفسیر نمونہ کی 19 جلدوں پر نظرثانی کا کام میں نے پاکستان میں رہ کر کیا۔ جو کام دوسروں کے سپرد کیا جاتا، اس پر نظرثانی بھی میں ہی کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد میں حوزہ علمیہ قم میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے چلا گیا۔ تفسیر نمونہ پر ہی کام اگلے مرحلے میں مصباح القرآن کے قیام کی شکل اختیار کر گیا۔ چنانچہ اس کی پہلی جلد کے بعد باقی جلدیں مصباح القرآن نے ہی شائع کیں۔ ایک مرتبہ قم میں مولانا مرحوم آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی سے ملنے کے لیے چلے، میں ان کے ساتھ تھا، میں جانتا تھا کہ کس طرح سے وسائل جمع کرکے ہم تفسیر نمونہ چھاپ رہے ہیں، جو آیت اللہ مکارم شیرازی اور ان کے رفقاء نے لکھی ہے۔ میں نے مولانا سے عرض کی کہ اس کی اشاعت کے لیے آیت اللہ مکارم شیرازی سے تعاون کے لیے کہیے گا۔ مولانا نے میری طرف دیکھا اور کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتا، کیونکہ دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور لینے والا نیچے، ہم یہ کام خود ہی مکمل کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی کَہہ دوں کہ پاکستان میں آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کو تفسیر نمونہ ہی کے ذریعے سے پہچانا گیا تھا۔

قرآنی علوم و معارف کی اشاعت کیلئے مصباح القرآن کی خدمات
یہ بات قابل ذکر ہے کہ برصغیر میں شیعہ تاریخ میں قرآن حکیم کے علوم و معارف کی اشاعت کے لیے جس قدر کام مصباح القرآن نے کیا ہے، دسیوں ادارے مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ مولانا سید صفدر حسین نجفی نے تفسیر نمونہ کی 27 جلدوں کا ترجمہ مکمل کرنے کے بعد دو بڑی موضوعی تفاسیر قرآن کے ترجمے کا کام بھی شروع کیا۔ البتہ چھٹی جلد کا ترجمہ آغا طیب جزائری نے کیا تھا۔ موضوعی تفاسیر کے سلسلے میں پہلے انھوں نے آیت اللہ العظمیٰ آقائے مکارم شیرازی اور رفقائے کار کی ’’پیام قرآن‘‘ کے عنوان سے دس جلدوں پر مشتمل تفسیر موضوعی کا ترجمہ شروع کیا۔ سات جلدیں انھوں نے مکمل کی تھیں، باقی تین جلدیں راقم اور علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے ترجمہ کیں۔ اسی طرح انھوں نے آیت اللہ العظمیٰ آقائے جعفر سبحانی کی تفسیر موضوعی ’’منشور جاوید‘‘ کا ترجمہ بھی شروع کیا تھا۔ انھوں نے اس کی تین جلدوں کا ترجمہ مکمل کیا تھا کہ وہ لقائے الہیٰ کے لیے چل دیئے۔ اللہ ان کی روح کو شاد رکھے۔

دیگر علمی خدمات
مولانا سید صفدر حسین نجفی نے تالیف کا کام کم کیا ہے، البتہ مختلف دینی موضوعات پر ان کے تراجم بہت زیادہ ہیں۔ اہل بیتؑ کی سوانح اور سیرت پر مشتمل معروف و ضخیم کتاب منتہیٰ الاٰمال بھی ان کے تراجم میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے تاریخ طبری کا پورا مطالعہ کرنے کے بعد انتخاب طبری کے نام سے ایک کتاب تالیف کی۔ ان کی تالیفات میں حدود و تعزیرات کے عنوان سے ایک رسالہ بھی شامل ہے۔ حکومت اسلامی کے حوالے سے ان کے چند مقالات کا مجموعہ ’’مبادیات حکومت اسلامی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ’’حقوق اور اسلام ‘‘ کے نام سے بھی ان کی ایک کتاب منظر عام پر آئی۔ آیت اللہ منتظری کی ’’ولایت فقیہ‘‘ کی دو جلدوں کا ترجمہ بھی ان کے کریڈٹ پر ہے۔ مولانا مرحوم نے امام خمینی کی رحلت کے بعد آیت اللہ العظمیٰ آقائے سید محمد رضا گلپائیگانی کی توضیح المسائل کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ سیرت و اخلاق کے دیگر موضوعات پر بھی ان کا قابل قدر کام موجود ہے۔

ان کے اس علمی کام کو دیکھا جائے تو انسان حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص ایک مختصر حیات مستعار میں دیگر بہت سی خدمات کے علاوہ اس قدر علمی کام انجام دے سکتا ہے۔ ان کا یہ کام دسیوں ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں جب بھی گھر میں ان سے ملاقات کے لیے گیا، وہ چار پائی پر بیٹھے ہوتے تھے، آگے چھوٹی سی میز پڑی ہوتی تھی۔ حقہ ایک طرف رکھا ہوتا تھا، اِدھر ایک کش لینا اور اُدھر چند جملے لکھنا۔ میں نے کبھی انھیں فارغ نہیں دیکھا۔ ہوائی اڈے پر فلائٹ کے پہنچنے تک یا روانہ ہونے تک جو وقت میسر ہوتا، اس میں بھی وہ ترجمہ کرتے رہتے۔ وہ لاری اڈے پر بھی فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔ سگریٹ پیتے تھے، میں بھی مال مفت سمجھ کر استفادہ کر لیتا تھا۔ ڈاکٹروں کے اصرار پر انھوں نے اسے ترک کیا، لیکن یہ ناہنجار اپنا کام دکھا چکا تھا۔

امام خمینیؒ کی انقلابی تحریک کی مسلسل حمایت
امام خمینیؒ کی انقلابی تحریک کی ترویج کے لیے وہ تحریر و تقریر سے استفادہ کرتے تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف طرح طرح کا پراپیگنڈا جاری تھا، انھوں نے اس کے دفاع میں رسائل لکھے اور لوگوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنی مجالس میں بھی امام خمینیؒ کا ذکر کرتے اور انقلاب کی حمایت مختلف انداز سے جاری رکھتے۔ ان کی انقلابی تقریروں کو سننے کے لیے شہر بھر سے انقلابی نوجوان ان کی مجالس میں شرکت کرتے اور ولولہ انگیز انقلابی نعرے بلند کرتے۔ ایک مرتبہ تو یوں ہوا کہ مجلس کے بعد کہنے لگے ثاقب! ان لڑکوں کو سمجھائو کہ کوئی موقع بھی نہیں دیکھتے اور انقلابی نعرے ٹھوک دیتے ہیں۔ بعدازاں میں نے نوجوانوں کو سمجھایا کہ نعروں کو تقریر کی مناسبت سے بلند کیا کریں۔

دینی مدارس کے قیام کی تحریک
پاکستان بھر میں دینی مدارس کے قیام میں مولانا سید صفدر حسین نجفی نے ان مٹ کردار ادا کیا۔ دینی مدارس کے قیام کے لیے انھوں نے گویا ایک تحریک برپا کر رکھی تھی۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ ہر ضلع میں مکتب جعفری کا ایک مدرسہ موجود ہو۔ ڈاکٹر سید محمد علی نقوی شہید اس سلسلے میں ان کے معاون خاص تھے۔ مختلف شہروں میں رابطہ کرنا، مدرسے کے قیام کے لیے مقامی افراد کو تیار کرنا، پھر زمین کی خریداری اور پھر مدرسے کی تعمیر کے مرحلے کو طے کرنا اور پھر کسی عالم دین کو سرپرست بنانا اور اسی طرح دیگر اقدامات کرنا، مولانا صفدر حسین نجفی ان تمام مراحل کو پیش نظر رکھتے۔ مقامی افراد کو بھی اخراجات میں شرکت کی دعوت دیتے اور ابتدائی طور پر خود بھی ایک مناسب رقم فراہم کرتے۔ پاکستان میں ہی نہیں ملک سے باہر بھی انھوں نے مدارس قائم کیے، برطانیہ، امریکہ اور قم، ایران میں مدارس کا قیام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ پاکستان میں کراچی، اندرون سندھ، گجرات، جہلم اور کشمیر میں ان کے قائم کیے گئے مدارس میں خود دیکھ چکا ہوں۔ کراچی میں مدرسے کے قیام کے لیے جب وہ اقدامات کر رہے تھے تو میں خود بعض مواقع پر ان کے ساتھ موجود تھا۔ اس حوالے سے شاید ہی کوئی دوسرا فرد ان کی برابری کا دعویٰ کرسکے گا۔

وفاق المدارس شیعہ کا قیام
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاق المدارس شیعہ پاکستان کا قیام بھی مولانا صاحب ہی کا کارنامہ ہے۔ اس سلسلے میں ’’وفاق المدارس شیعہ پاکستان کی کارگزاری کا عمومی جائزہ‘‘ کے عنوان سے راقم نے ایک کتابچہ مرتب کیا، جسے الجامعۃ پبلی کیشنز جامعۃ المنتظر لاہور سے شائع کیا گیا۔ اس میں وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے مولانا سید صفدر حسین نجفی کا پیغام شامل کیا گیا ہے۔ اس میں مولانا فرماتے ہیں ’’وفاق المدارس شیعہ پاکستان کا ڈھانچہ تو 1958ء میں بن گیا تھا، لیکن اب تک صرف چند ایک میٹنگیں ہی ہوسکیں۔ ان میں ایک مشترکہ نصاب مقرر ہوا تو بعض مدارس میں اس کی بعض کتب کی تدریس کی گئی، مگر پورا نصاب رائج نہ ہوسکا۔ البتہ جامعۃ المنتظر ایک عرصہ تک اسی نظام کا پابند رہا۔ بغدازاں مدرسین کرام کے مشورہ سے دوسرا جامع تر نصاب مقرر کیا گیا، جو قومی کمیٹی برائے دینی مدارس پاکستان کی رپورٹ میں درج ہے اور اب یہ نصاب جو تمام مکاتب فکر کے جید علماء، محکمہ تعلیم کے ماہرین اور اکثر شیعہ مدارس کے اساتیذ کی صوابدید پر تیار ہوا، سر دست بہترین نصاب ہے، جس میں علوم دین کے علاوہ دور حاضر کے دنیاوی علوم کا امتزاج بھی ہے۔‘‘

مدارس کے اتحاد کی اہمیت مولانا مرحوم نے ان مختصر لفظوں میں بہت عمدگی سے بیان کی ہے: ’’یقیناً مدارس کا اتحاد مساجد و منابر کے اتحاد کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور جب اتحاد کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا تو ان شاء اللہ پوری قوم متحد ہو جائے گی اور پھر مرکز کا قیام بھی آسان ہے اور ترقی و کامیابی کی اعلیٰ منازل سے ہمکنار ہونا بھی مشکل نہیں۔‘‘ جب حکومت پاکستان نے دینی مدارس کو اپنے ساتھ جوڑنے، ان سے ایک ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے، نیز اسلامی نظام کے حوالے سے اپنی سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے قومی کمیٹی برائے دینی مدارس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو تمام مسالک کے مدارس نے اپنی اپنی تنظیمیں قائم کیں اور اپنی طرف سے حکومت کی خواہش پر نصاب تجویز کیا۔ اس سلسلے میں جنرل ضیاء الحق نے صدر پاکستان کی حیثیت سے 17 جنوری 1979ء کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ایک کمیٹی ’’قومی کمیٹی برائے دینی مدارس پاکستان‘‘ تشکیل دی۔ پہلے پہل اہل تشیع کی نمائندگی کے لیے مولانا شبیہ الحسنین محمدی کو منتخب کیا گیا۔ ان کی تجویز پر مولانا سید صفدر حسین نجفی کو بھی کمیٹی میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے بعد پھر نصاب وغیرہ کی تشکیل میں بنیادی کردار مولانا صفدر حسین نے ہی ادا کیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا نے قومی کمیٹی برائے دینی مدارس میں مدارس کی آزادی کے حوالے سے بھی بات کی اور واضح کیا کہ ہم مدارس کے امور میں حکومت کی مداخلت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے چنانچہ انھوں نے فرمایا: ’’دینی تعلیم کا اصل مقصد صحیح عقائد و اعمال کو سمجھنا اور ان پر خود عمل کرنا ہے۔ دوسرے مرحلہ میں ان کی تبلیغ و ترویج اور پوری انسانی برادری کو صحیح اسلامی نظریات و عقائد سے روشناس کرانا اور ان کی روشنی میں اعلیٰ کردار کی روح بیدار کرنا ہے۔ یہ سب اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ دینی مدارس حکومت کی ہر قسم کی دخل اندازی سے محفوظ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے قومی کمیٹی کے ابتدائی اجلاس ہی میں حکومت پر اپنا یہ موقف واضح کر دیا تھا۔ دیگر تمام مکاتب فکر کے علماء بھی اس سلسلہ میں ہمارے پرزور ہمنوا تھے۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے متعدد مواقع پر عدم مداخلت کی یقین دہانی کروائی گئی، جو حکومت کی طرف سے جاری کردہ قومی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔ اس موقف کی روشنی میں پیش کی گئیں تمام سفارشات کی صدر پاکستان نے بھی منظوری دے دی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید فرمایا: ’’اگر کبھی بھی حکومت نے اس وعدہ کی خلاف ورزی کی تو ہم اس کمیٹی سے فوری طور پر الگ ہو جائیں گے۔‘‘ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا نے نہ فقط دینی مدارس کے قیام میں بہت بنیادی اور اہم کردار ادا کیا بلکہ وفاق المدارس شیعہ پاکستان کی بنیاد میں بھی آپ کا اساسی کردار ہے اور اس وقت وفاق کی جو بھی قومی یا سرکاری حیثیت ہے، اس کے بانی مولانا سید صفدر حسین نجفی ہی ہیں۔

آئینۂ دل میں ان کی تصویر باقی ہے
1989ء میں امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد میں نے پاکستان سے ہجرت اختیار کی اور دینی تعلیم کے لیے قم چلا گیا۔ چند ہفتے بعد مولوی صاحب قم تشریف لائے، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور مجھ سے حال احوال پوچھنے لگے۔ انھیں معلوم ہوا کہ میرے پاس رہنے کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے، میرے وہاں بیٹھے بیٹھے آیت اللہ العظمیٰ آقائے گلپائیگانی کے فرزند سید جواد گلپائیگانی اور سید باقر گلپائیگانی مولانا صفدر حسین نجفی صاحب سے ملاقات کے لیے تشریف لائے، ان کے ساتھ ان کے بہنوئی شیخ محقق بھی تھے۔ مولوی صاحب نے ان سے میرا تعارف کروایا اور ان سے میرے لیے کہا کہ ان کے لیے کوئی مکان کا بندوبست کریں۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کرکے وعدہ کر لیا۔ انھوں نے تو وعدہ پورا نہ کیا، لیکن مولانا مرحوم کے دل میں میرے لیے جو محبت تھی، اس کا ایک اور مظاہرہ میں نے دیکھ لیا۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہیں، جو میرے سینے میں محفوظ ہیں، اس طرح سے کہ آئینۂ دل سے مولانا کی تصویر کو جانے نہیں دیتے۔

قم میں آخری ملاقاتیں
وفات سے کچھ عرصہ پہلے مولانا سید صفدر حسین نجفی قم میں تشریف لائے۔ میں اکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ ایک خاص طرح کی کیفیت ان پر طاری تھی۔ سگریٹ نوشی ترک کر دی تھی۔ کمرے میں ہاتھ پیچھے باندھ کر ٹہلتے تھے، سر پر ٹوپی رکھی ہوتی تھی، کچھ نہ کچھ دھیرے دھیرے گنگناتے رہتے تھے۔ کبھی کوئی دوھڑا بھی پڑھتے تھے۔ میں نے ان کے بڑے صاحبزادے نقی سے الگ ہو کر کہا کہ یہ مولوی صاحب کے آخری دن ہیں، پھر شاید تم انھیں نہ دیکھ سکو، جو خدمت کرسکتے ہو کرو۔ ایک دو دن بعد پھر حرم بی بی معصومہؑ کے صحن میں ملاقات ہوگئی۔ میں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی، اپنے بابا کی خدمت کرو، یہ ان کے آخری دن ہیں۔ جس روز وہ واپس آرہے تھے، ان کے لیے ایک کار کا بندوبست کیا گیا تھا، جس پر انھیں تہران ایئرپورٹ پر جانا تھا۔

میں انھیں رخصت کر رہا تھا اور میں جانتا تھا کہ میری پھر ان سے ملاقات نہ ہوگی۔ میں کچھ کہہ سکتا تھا نہ وہ، شفقت اور محبت بھری نظروں سے انھوں نے دیکھا۔ میں نے عقیدت اور حسرت کی نظر ڈالی اور گاڑی روانہ ہوگئی۔ بیمار تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کراچی میں ان کی تیمارداری کے لیے پہنچے۔ بہرحال جتنے دن زندہ رہے، ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر کی حیثیت سے اور روحانی فرزند کی حیثیت سے بھی ان کی خدمت کرتے رہے۔
بنا کردند خوش رسمی بخاک و خون غلتیدن
خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
مولانا سید صفدر حسین نجفی 3 دسمبر 1989ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ وہ اس سرزمین کی ایک مایہ ناز شخصیت تھے۔ بڑے لوگوں کو آسانی سے دریافت نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا کو دریافت کرنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے، لیکن کم لوگ اس کی طرف متوجہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …