بدھ , 8 فروری 2023

معیشت سدھر نہیں رہی

(ڈاکٹر منصور نورانی) 

گزشتہ چار پانچ برسوں میں معیشت کا جو حال کر دیا گیا ہے کہ وہ اب کسی سے بھی سدھر نہیں پا رہی۔2017 میں ایسے حالات ہرگز نہیں تھے۔ قوم پر واجب الادا غیر ملکی قرض بھی اتنے نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اِنہی قرضوں کی وجہ سے ہم آج ڈیفالٹ کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

پچھتر سالوں میں سب سے بڑی زیادتی سابق حکومت کے دور میں ہوئی جب قرض تو بہت لیے گئے لیکن ملکی ترقی کا کوئی ایک بھی قابل ذکر کام نہیں ہو پایا۔ یہاں جب کوئی حکومت اپنی اچھی کارکردگی کی وجہ سے عوام میں مقبول ہونے لگتی ہے ، اس کا ایسا کام کر دیا جاتا ہے کہ وہ عوام کی نظروں میں گر کر اپنے سیاسی وجود کے بچاؤ کی فکر میں لگ جاتی ہے۔

مسلم لیگ نون کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ، وہ دو مرتبہ بھاری اکثریت سے جیت کر اسلام آباد میں حکومت بنانے کے قابل ضرور ہوئی لیکن اُسے چین اور سکون سے ایک دن بھی چلنے نہیں دیا گا۔1999 میں جب دیکھا گیا کہ وہ اپوزیشن کی کوششوں سے معزول نہیں ہو پا رہی تو 12اکتوبر کو ایوان وزیر اعظم میں شب خون مارا گیا۔
اسی طرح 2017 میں بھی تمام مشکلات کو عبور کرتے ہوئے وہ جب ایک مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھنے جارہی تھی اور ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ اگلے انتخابات میں بھی بھرپور اکثریت سے کامیاب ہوجائے گی تو اس کے گرد گھیرا تنگ کر کے اُسے بالآخر محروم اقتدار کر دیا گیا۔ میاں نوازشریف کے تینوں دور اُٹھا کے دیکھ لیجیے ہمیں ملکی بہتری کے لیے کوئی نہ کوئی بڑا کام ضرور دکھائی دے گا ، حالانکہ اِن تینوں ادوار میں انھیں اپنا آئینی دستوری وقت دیا ہی نہیں گیا۔

1990 میں جب وہ پہلی بار وزیراعظم بنے تو انھیں صرف ڈھائی برس دیے گئے ، مگر ان ڈھائی برس میں بھی انھوں نے ایک زبردست منصوبہ قوم کو دیا اور اس ملک میں پہلی بار موٹر وے کی بنیاد رکھی۔ اپنے دوسرے دور میں انھوں نے اپنی حکومت کو خطرے میں ڈال کر وطن عزیز کوایک ایٹمی ملک کا درجہ دلوایا۔ انھیں معلوم تھا کہ اس کے بعد پاکستان کے عالمی دشمن انھیں اقتدار میں ہر گز رہنے نہیں دیں گے لیکن انھوں نے یہ کام ضرور سر انجام دیدیا۔ اس کے بعد اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی اس ملک کی بد بختی کی ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

انھیں اٹک جیل کی قید تنہائی میں ڈال کر چھوڑ دیا گیا اور پھر طیارہ ہائی جیکنگ کا ایک جھوٹا مقدمہ بنا کر انھیں سزائے موت دلوانے کی کوشش کی گئی ۔ اِن سب زیادتیوں کے باوجود وہ 2013 میں ایک بار پھر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر برسر اقتدار آجاتے ہیں تو دوسرے ہی سال اُن کے خلاف مہم شروع کردی گئی۔ وہ ابھی دہشت گردی اور توانائی کے بحرانوں سے نمٹ ہی رہے تھے کہ خان صاحب اور علامہ طاہر القادری نے کسی غیبی امداد کے بل بوتے پر لانگ مارچ اور ڈی چوک پر دھرنے کا سوانگ رچایا، وہ جب اس میں ناکام ہوگئے تو 2016 ء میں پاناما لیکس کا اسکینڈل ترتیب دے کر انھیں بالآخر اقتدار کے ایوانوں سے بیدخل کردیا۔

حالانکہ دیکھا جائے تو وہ تمام مشکلات کے باوجود ملک کو درپیش تمام بحرانوں سے بڑی خوش اسلوبی اور کامیابی سے نمٹ رہے تھے۔ دس بارہ سالوں سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ انھی کے دورکا کارنامہ ہے۔ بجلی اور توانائی کے بحران کا مستقل حل بھی انھی کی مثبت سوچ کا نتیجہ تھا جس میں وہ کامیاب و سرخرو بھی ہوئے۔

کراچی میں بھی بیس پچیس سالوں سے جاری قتل و غارت گری اور احتجاجی ہڑتالوں ، جبری چندہ اور اغوا برائے تاوان کے خوفناک کھیل کا خاتمہ بھی انھی کی کوششوں سے ممکن ہو پایا۔IMF کے چنگل سے اس مختصر سے دور میں باہر نکل جانا بھی مسلم لیگ نون کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

ساتھ ہی ساتھ معیشت کی بہتری کے لیے سارے ملک میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے پر فوری اور تیزی سے عملدرآمد بھی میاں نوازشریف ہی کا کارنامہ تھا ، مگر انھیں نشانہ عبرت بنانے کا فیصلہ کردیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن یہ قوم ایک عذاب میں مبتلا ہوچکی اور ایک دن کے لیے بھی سکون سے بیٹھ نہ پائی ۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے چار سال سے بھی کم عرصہ میں چار وزراء خزانہ تبدیل کیے مگر کسی سے بھی ملکی معیشت سدھرنے نہ پائی۔ اب پی ڈی ایم کے اس دور میں بھی پہلے مفتاح اسماعیل زور لگاتے رہے اور اب اسحاق ڈار ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہو پا رہی۔

اسحاق ڈار کا خیال تھا کہ انھیں IMF سے ڈیل کرنے کا بہت بڑا تجربہ ہے اور وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن وہ اب مایوس ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ IMF اگر نہیں مانتا تو ہم کہیں اور سے اپنی ضرورتیں پوری کر لیں گے مگر IMFسے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

رہ گیا سوال کہ کیا ہم دیوالیہ یا ڈیفالٹ ہوچکے ہیں یا ہونے جارہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم ڈیفالٹ تو اسی وقت کر چکے تھے جب سابقہ عمران حکومت میں سعودی عرب اور یو اے ای نے ہمیں سہارے کے طور پر قومی خزانے میں صرف رکھنے اور دکھانے کے لیے تین تین ارب ڈالرز دیے تھے ، وہ اگر یہ مہربانی اس وقت نہ کرتے تو ہم بین الاقوامی دنیا میں ڈیفالٹ قرار دیے جاچکے ہوتے۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم قرضوں اور امداد کے حصول کے علاوہ اپنی معیشت کو سدھارنے کے لیے کوئی اور سوچ رکھتے ہی نہیں ہیں۔ ہماری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کہیں سے ہمیں کچھ امداد مل جائے۔ کچھ نہیں تو سیلاب کے نام پر ہی ایسی امداد مل جائے جس سے ہمارے ذرایع مبادلہ میں کچھ اضافہ ہو جائے۔ دوسروں کی امداد پر گذارا کرنے والی اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہم آج تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو پائے۔

ہم نے اپنے قومی وسائل کا صحیح استعمال ابھی تک شروع ہی نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کی زمین میں قدرت نے ہمیں بہت سے خزانوں سے نوازا ہوا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم انھیں اپنے لیے ابھی تک نکال ہی نہیں پائے ہیں۔ سینڈک، ریکوڈیک کے علاوہ بدین میں تیل اور گیس کے ذخائر ہمارے کب کام آئیں گے۔

تھر کے کوئلے کے بارے میں بہت سی خوشخبریاں دی جاتی رہیں کہ یہ سو سال تک ہماری توانائی کے استعمال کے لیے کافی ہیں۔ پھر پتا نہیں کہ ہم بیرونی دنیا سے کوئلہ کیوں امپورٹ کررہے ہیں۔ ہمارے وہ منصوبہ ساز کہاں چلے گئے جن کی قابلیت اور ذہانت کا ڈنکا ساری دنیا میں کبھی بجا کرتا تھا اور جن کے منصوبوں کو لے کر کوریا اور دیگر ممالک ترقی گئے مگر ہم پیچھے کے پیچھے رہ گئے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …